Tere Saye Ki Aman By Aan Fatima|last Part |Episode 31 to 36|best urdu novels 2022|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Tere Saye ki Aman,written by Aan Fatima.Its an army based novel based on social issues.its a social romantic novel,full of suspense and thrill.

All right reserved to novelslounge.com

“یہ کچھ کپڑے میں لے آیا ہوں پتہ نہیں آپکو فٹ آتے ہیں نا نہیں لیکن پہن کر چیک کرلینا۔”
وہ مصروف سے انداز میں اسے تاکید کرتے آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔علایہ کسلمندی سے چپل پیڑوں میں اڑستے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور صوفے سے وہ شاپنگ بیگ اٹھاتے بیگ پہ الٹ دیے۔
“علایہ یہ کیا طریقہ ہے۔”
عشب اس کی عادت پہ اسے ٹوکتا ہوا بولا۔علایہ نے بےنیازی سے جوں ہی بیڈ پہ رکھے کپڑوں کو دیکھا اس کا منہ حیرت کے مارے کھلا کا کھلا رہ گیا۔اس نے صدمے کی کیفیت میں کہڑوں اور خشمگین نگاہوں سے عشب کو دیکھا تھا۔
“یہ کیا ہے عشب۔”
وہ جھنجھلاتے ہوئے بولی جواباً اس نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔
“کپڑے ہیں۔”
وہ اسی کے انداز میں بولا۔علایہ نے بےساختہ دانت کچکچائے۔
“وہ مجھے بھی نظر آرہا ہے میں پوچھ رہی ہوں کہ یہ کس طرح کے کپڑے ہیں۔”


وہ اس کی بات کو ایک جانب رکھتے چٹختے ہوئے بولی۔عشب نے ذرا سا ترچھا ہوتے بیڈ پہ کپڑے دیکھے۔
“اوہ اچھا مجھے لگا شاید دکھائی دینا بند ہوگیا ہے۔”
وہ چڑانے والی مسکراہٹ سمیت اسی کی بات اسی کو لٹانے ہوتے بولا۔علایہ تلملا کر رہ گئی۔
“اور رہی بات ان کپڑوں کی تو اسے کرتا اور اسے ٹراؤذر کہتے ہیں اور ساتھ میں یہ ڈوپٹہ۔”
وہ جتانے والے انداز میں بولتے بیڈ سے ایک سوٹ اٹھاتے اسے تھماگیا۔علایہ نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا اور اپنے ہاتھ میں موجود کپڑوں کو۔
“میں تو کبھی نہیں پہنوں گی یہ۔”
وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔
“اور آپ یہی پہنیں گی ورنہ مجھ سے کسی قسم کی رعایت کی کوئی امید مت رکھیے گا۔”
وہ انگلی اٹھاتے وارن کرنے والے انداز میں بولا۔علایہ نے روہانسے چہرے سمیت اس کی جانب دیکھا۔


“عشب پلیز آپ تو بہت اچھے ہیں نا۔آپ میری بات مانیں گے نا پلیز۔”
وہ آنکھیں پٹپٹاتے مکھن لگاتے ہوئے بولی۔اس نے لب بھینچتے مشکل سے مسکراہٹ کا گلہ گھونٹا۔
“اس کے علاوہ سب کچھ جان میری۔”
وہ اسے اپنے حصار میں لیتے واشروم کی جانب دھکیلتا ہوا بولا۔علایہ نے شرربار نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا اور واشروم میں جاتے زور سے دروازہ بند کردیا۔عشب اس کی پٹ دھرمی پہ گہرا سانس بھرتے باہر کی جانب چل دیا

“اداس ہو۔”
وہ جو لان میں کسی نادیدہ نقطے پہ نظریں ٹکائے کھڑی تھی چونک کر عقب سے آنے والی آواز کی جانب متوجہ ہوئی جہاں علایہ کھڑی اسے ہی دیکھ کر مسکرارہی تھی۔وہ بمشکل مسکراتے نفی میں سر ہلاگئی۔
“تمہاری یہ اتری ہوئی صورت دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے۔”
وہ گہری نگاہوں سے اس کا چہرہ تکتے شرارت سے بولی۔جزاء نے گہرا سانس فضا میں خارج کیا تھا۔
“ہاں بس تھوڑا تھوڑا۔”
وہ مختصر جواب دیتے دوبارہ اپنے ناخن خرچنے کی جانب توجہ مبذول کراگئی۔علایہ نے اس کے انداز پہ حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔
“کہی تمہیں ایسا تو نہیں لگ رہا ہے کہ میں لاہور سے تھی تو بھائی میرے کسی کام کی بدولت وہاں گئے ہیں۔”
وہ خشمگین نگاہوں سمیت بولی۔اس کی حرکتیں اسے مشکوک لگ رہی تھی تبھی پوچھ بیٹھی۔جواباً جزاء نے خاموشی سے اس کی جانب دیکھا۔علایہ کو اپنا شک درست ہوتا محسوس ہوا اس نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا۔
“مائی گوڈ جزاء وہ میرے کسی کام سے نہیں گئے وہاں۔انہیں اپنا کوئی کام تھا میں نے سوچا تم پہ واضح کردوں تاکہ تمہارے دل میں میرے لیے کوئی بدگمانی نہ آئے۔یو نو نا اب ہمارا رشتہ کزنز یا دوست سے ہٹ کر نند بھابھی کا ہوچکا ہے۔ویسے میں تو کبھی تمہاری نند نہیں بنوں گی تم بھی میری بھابھی مت بننا۔”
وہ مسکراتے لہجے میں بولی۔جزاء نے بےتاثر نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔


“کیا سب یہاں مجھے ہی لیکچر دینے آجاتے ہیں۔”
وہ چڑ کر بولی۔علایہ کے لبوں سے مسکراہٹ فوراً سے پہلے سمٹی تھی۔اس نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔
“جزاء میں بس تم سے ایک دوست ہونے کی حیثیت سے ایک بات کررہی تھی۔”
وہ بمشکل مسکراتے ہوئے بولی۔اس کا لہجہ علایہ کو بےتحاشہ چبھا تھا اس کا بلکل بھی ایسا ویسا ارادہ نہیں تھا کہ کوئی اس کی باتوں سے دکھی ہو۔
“اس دنیا میں کوئی دوست نہیں ہوتا سب اپنے مفاد کیلیے ہی جیتے ہیں۔”
وہ جتانے والے انداز میں بولتے کندھے اچکاگئی۔اس کے جواب پہ علایہ خاموشی سے چہرہ جھکاگئی کیونکہ جزاء کا رویہ اسے کافی بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ اندر کی جانب بڑھتی جزاء کی تجسس سے بھرپور آواز پہ وہ واپس مڑتے اس کے مقابل آئی۔
“ویسے ایک بات پوچھوں تم نے کل دین کے جانے پہ ان سے یہ کیوں کہا تھا کہ رشتوں میں اپنا پن نہیں ہے حالانکہ تمہیں بھی ویسی ہی محبت ملتی ہے جیسی مجھے۔”
اس نے سوالیہ انداز میں بھنویں اچکائی۔علایہ اس کی بات پہ مدھم سا مسکرائی مگر اس مسکراہٹ میں بھی ایک درد تھا جس سے فقط اس کا دل واقفیت رکھتا تھا۔

Tere Saye Ki Aman By Aan Fatima|last Part |Episode 31 to 36|best urdu novels 2022|

  • Urdu novels
  • Romantic novels
  • Army based novels
  • Funny novels
  • Tere saye ki Aman by Aan Fatima

Leave a Comment

Your email address will not be published.