wohi rasty wohi manzil by Maryam aziz complete urdu novel 2023 html

“ہاتھ مت لگاؤ گھٹیا ذلیل انسان۔”وہ ایکدم چیخ کر بولی۔تابش کے ساتھ دراب اور فیروز بھی دنگ رہ گئے۔وہ بمشکل اٹھی تھی۔اس کا سفید چہرہ یکلخت سرخ پڑگیا تھا۔
“کیا بکواس کی تھی تم نے دراب سے میرے بارے میں۔”تابش تو اس کا انداز دیکھ کر ہکلا کر رہ گیا۔
“جو کہنا ہے میرے سامنے کہتے۔میرے پیٹھ پیچھے میرے شوہر سے میرے بارے میں باتیں کرتے ہو۔تم کیا سمجھتے ہو تمہاری اس حرکت سے دراب کا مجھ پر سے اعتبار ختم ہوجائے گا۔ہماری محبت کم ہوجائے گی۔”
اگر ایسا نہیں تو تم یہاں کیوں ہو۔وہ تمہارا عاشق کہاں ہے؟تابش نے جیسے اس کے غصے کا مزہ لیا تھا۔
“ایسا کچھ نہیں جیسا تم نے چاہا تھا۔میں تو اس لمحے کیلیے شکر گزار ہوں جب دراب میری زندگی میں داخل ہوئے۔محبت کرتی ہوں میں اپنے شوہر سے بےانتہا۔سمجھے۔”کہتے ساتھ ہی اس نے ڈرپ والی سوئی کھینچ دی۔خون کی ایک تیز دھار نکلی تھی۔
“حبہ کیا کررہی ہو۔”ناریہ ایکدم گھبرا کر آگے ہوئی جبکہ فیروز نے تیزی سے دراب کا بازو جکڑا جو بےچینی سے باہر نکلنے لگا تھا۔
تم نے مجھے سمجھا کیا تھا۔وہ پوری آنکھیں کھول کر اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور کھینچ کر ایک تھپڑ اس کے گال پہ دے مارا۔وہ ہکا بکا رہ گیا۔


“بھول گئے میں کیا ہوں۔میں اپنے دشمنوں کو کبھی معاف نہیں کرتی اور جو میرے اور میرے شوہر کے درمیان آنے کی کوشش کرے گا۔اس کی میں ہستی مٹا کر رکھ دوں گی۔”دوسرا تھپڑ اس سے بھی ذیادہ زور سے اس نے مارا تھا۔اس میں پتہ نہیں اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی۔
“جواب تمہیں مل گیا۔آئندہ اپنی منحوس شکل مجھے مت دکھانا ورنہ تم مجھے جانتے ہو۔”اس نے مڑ کر میز سے قینچی اٹھالی۔
“یہ تمہارے جسم کے آڑ پاڑ ہوگی۔”

wohi-rasty-wohi-manzil-by-maryam-Aziz

Leave a Comment

Your email address will not be published.