Faislo ka safar by Aliya Hira complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“کیا جوتے کھا کر نکلے گی۔”حمیدہ بیگم کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا ان جیسی عورتوں کی وجہ سے تو سوتیلی ماں کا لفظ اٹھ نہیں رہا دنیا سے۔خشمگیں نگاہوں سے آپا کو دیکھا۔
“سچ تو کڑوا ہوتا ہے اور ہاں اور ہم برے ہیں۔”آپا نے برابر کا جواب دیا۔
“پلیز پلیز۔ سعد اٹھے۔۔ سنیں تو۔۔”
“تم تو میاں چپ رہو جا کر کمرے میں بیٹھو اور بے جان تصویر سے دل بہلاؤ اور اپنے بچوں کے لیے دوسری نوکرانی بھی خرید لینا جو بے لوث بے غرض اور ہمدرد ہو۔”
“چل اٹھ۔”انزلہ کے زخم خوردہ ہاتھ کو پکڑا تو اس کی چیخ نکل گئی۔
“یہ ہاتھ کیسے جلا اور یہ پاؤں۔ “ماں کو ان دیکھے بنا بتائے زخم نظر آگئے۔
“بس ان گھاؤ کے لیے بیٹھی تھی۔”تاسف سے دیکھا۔
“امی نہیں پلیز امی نہیں مون میرے بغیر نہیں رہ سکتا ایمان ڈر جائے گی رات کو۔امی پلیز امی پلیز۔”بے درد ہو کر حمیدہ بیگم اسے کھینچتے ہوئے باہر لے جانے لگی انزلہ مچل مچل کر روئی۔۔
“ان کے سگے ہیں ان کے پاس انہیں تیری ضرورت نہیں ہے دیکھ لے عاشقی کا نتیجہ مرد کی محبت عورت کو سہاگن بناتی ہے عورت کی عاشقی اسے خوار کروا دیتی ہے دیکھ ایک مرد کی محبت مر کر بھی اس کے سینے میں اس کے کمرے میں راج کررہی ہے۔اس مرد کی عاشقی میں رُل رہی ہے بیگار ادا کر رہی ہے کیا حاصل جو تیرا ہے ہی نہیں۔”حمیدہ انزلہ کو گیٹ تک لے آئیں۔ پیچھے کوئی نہیں آیا ایمان مون سعد نہ آپا۔ سعد ساکت کھڑے تھے۔
“امی نہیں۔”وہ جھٹکے سے مڑی۔ بچے مر جائیں گے میرے بغیر۔
لے دیکھ لے۔حمیدہ بیگم نے جھٹکے سے ہاتھ چھوڑا وہ پیچھے جاگری۔دوپٹہ پیروں میں الجھا۔ بال کھل کر شانوں پر بکھر گئے۔ انزلہ پاگلوں کی طرح پیچھے پلٹی۔
“بچے بھی نہیں ائے تیرے پیچھے جن کے لیے اپنے دن رات کالے کر رہی ہے۔”دور تک سناٹا تھا۔امی ٹھیک کہہ رہی تھی بچے بھی نہیں آئے تھے تبھی وائٹ نسان آکر گیٹ پر رکی۔

Faislo ka safar by Aliya Hira

Leave a Comment

Your email address will not be published.