Dheere se Eid mubarak kh doon by Rehana Aftab Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“عفان نکالو اس گھٹیا انسان کو یہاں سے اسے تو دیکھ کر ہی گھن آتی ہے۔”
“عفی اس کا کالر چھوڑو۔”بڑے تایا کی سرد اواز پر اس نے کالر چھوڑ کر اشتعال سے پڑے دھکیل دیا۔عبید تیر کی طرح دادو کے پاس آیا۔
“نانو وردہ جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”
“میں جھوٹا الزام لگا رہی ہوں ذلیل انسان تم نے مجھ سے بدتمیزی کی کوشش کی ہے۔”وردہ کے روم روم سے اگ نکل رہی تھی۔
“نانو یہ مجھے اپ سب کی نظروں سے گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔”دادو کے دیکھنے پر وہ گڑبڑ اگیا۔
“میں تمہیں کیا گراؤں گی تم تو پہلے ہی پستی میں گرے ہوئے ہو شروع سے ہی ہم پر بری نیت رکھتے ہو۔فحش باتیں کرتے ہو۔آج مجھے کچن میں طلحہ دیکھ کر تم نے دست درازی کی کوشش کی کتنے کمینے ہو تو ان کی اپنی کزنز پہ بری نیت رکھتے ہو۔”وردہ کے آنسو نکل گئے مما نے اسے ساتھ لگا لیا افان نے مٹھیاں بھینچ لی اگر بڑے موجود نہ ہوتے تو ابھی عبید کا حشر برا ہو جاتا۔
“وردہ ٹھیک کہہ رہی ہے عبید۔”بڑے تایا کا جلال دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
“وردہ جھوٹ کہہ۔”
“اگر وردہ جھوٹ کہہ رہی ہوتی تو تمہاری پچھلی جاب سے تمہیں کریکٹر لیس کا سرٹیفکیٹ دے کر کیوں نکالا گیا جس لڑکی کی شکایت پہ تمہیں نکالا گیا وہ میرے فرینڈ کے سسٹر ہیں اس نے مجھے غصے سے کہا کہ اگر عبید تمہارا کزن نہ ہوتا تو میں اپنی بہن سے بدتمیزی کرنے والوں کو شوٹ کر دیتا اور میں نے غصے سے کہا تھا کہ اگر تمہارا کزن میری بہن سے بدتمیزی کرتا تو میں پہلے اسے شوٹ کرتا بعد میں تمہیں اطلاع دیتا کیونکہ عزت میں رشتہ داری نہیں دیکھی جاتی۔”ہشام غصے سے بےقابو ہو رہا تھا عبید کا سر جھکا تھا۔اگلے ہی پل دادو کو تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔

Dheere se Eid mubarak kh doon by Rehana Aftab

Leave a Comment

Your email address will not be published.