Dil ki rahon me by samia ubaid Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“میری بارات واپس گئی تھی نا تمہیں یہ میرے ساتھ نکاح پڑوانے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی۔”شادی کا لفظ بولنا اسے ذرا عجیب لگا جب کہ ادیان اس کی بات پر چند ثانیہ تو وہ تو حیران ہوا پھر بے اختیار ہنس دیا۔
“تابعدار مشرقی لڑکا ہوں جہاں ماں نے سر جھکانے کا کہا جھکا دیا۔” اس نے یوںہی ہلکے پھلکے انداز میں مذاق کیا تھا مگر مقابل بھرا بیٹھا تھا اس کا تو اس کے فرشتوں کو بھی گمان نہ تھا۔
“شٹ اپ ادیان تمہیں لگتا ہے زندگی مزاق ہے اسے یونہی تم یوں چٹکیوں میں اڑا دو گے۔”قہ ایک دم ہی بھڑکی تھی ادیان حیران رہ گیا۔
“کیا ہو گیا ہے۔”وہ حد درجہ حیران تھا۔
“وہی تو میں تم سے پوچھ رہی ہوں کہ کیا ہو گیا تھا تمہیں کیوں یہ شادی ہونے دی تم نے۔” وہ پوچھ رہی تھی۔
“کیا فضول بات ہے یار شادی انسان کیوں کرتا ہے ظاہر ہے گھر بسانے کے لیے۔” وہ اس کے اس فضول سوال پر سچ میں الجھا تھا۔
“قضول بات میں نہیں تم کر رہے ہو کیونکہ یہ تم بھی جانتے ہو ہم دونوں کبھی گھر نہیں بسا سکتے۔”وہ دوبدو بولی ادیان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
“کیا مطلب کیوں نہیں بسا سکتے گھر۔”وہ بازو سینے پر باندھ اس کے مقابل آ کھڑا ہوا اسے حقیقتا اس کی بات اچھی نہ لگی تھی۔
“اتنے انجان مت بنو تم۔”وہ اس کے قریب آنے پر جھجھک سی گئیں۔
“انجان ہوں تو پوچھ رہا ہوں۔” اس کا لہجہ تھوڑا تیز ہوا۔ وہ کیسی عجیب باتیں کر رہی تھی۔
“ادیان دماغ مت خراب کرو میرا تم جانتے ہو ہماری عمر میں کتنا فرق ہے پھر کیا سوچ کر تم نے قدم اٹھایا۔کیوں مانے تم سب کی بات۔”وہ تپ کر بولی۔
“بس کرو یار کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو اور ہماری عمروں میں کوئی اتنا فرق نہیں ہے جس کی وجہ تم پریشان ہو رہی ہو۔”وہ چڑ کر بولا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.