Dil Tere Sang Jorr Lia by Huria Malik Complete Urdu Romantic Novel downloaded 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

sneak 1

فار گاڈ سیک بابا جان!آپ کیسے مجھے اس رشتے کے لیے فورس کر سکتے ہیں جبکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کمیٹڈ ہوں۔” اسد صاحب کا غیرمتوقع حکم اس پہ کسی چابک کی طرح لگا تھا۔
اور اس چابک کی ضرب اتنی شدید تھی کہ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا انتہائی بلند آواز اور تلخ لہجے میں بولا تو سب نے ہی دہل کے اس کے غضبناک تاثرات ملاحظہ کیے۔

“میں تمہیں اس کمٹمنٹ کو ختم کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا بل۔۔۔۔۔” اس کے بے لچک و اکھڑ تاثرات دیکھتے ہوئے اسد صاحب نے اسے نرمی سے ہینڈل کرنا چاہا۔
جبکہ وسیع و عریض ہال میں پڑے قیمتی و دیدہ زیب صوفوں پہ بیٹھے نفوس خاموش تماشائی بنے ان باپ بیٹا کو دیکھ رہے تھے۔

“میں آپ کے کہنے پہ یہ کمٹمنٹ ختم بھی نہیں کرنے والا ہوں۔” اس کے نخوت سے کہنے پہ جہاں وہاں موجود چند ایک نفوس کے ہونٹوں پہ دبی دبی مسکراہٹ پھیل گئی جبکہ اسد صاحب کا چہرہ سرخ پڑا۔

“بات کو گھماو مت، میں تمہیں صرف نکاح کے لیے کہہ رہا ہوں۔” انہوں نے اب کے سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھا جو ایک اتھڑے بے لگام گھوڑے کی مانند لگ رہا تھا جسے نکیل ڈالنے والا فی الحال کوئی نہ تھا۔

“میرا نکاح ہو چکا ہے بابا جان!” وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولا جبکہ سلگتی ہوئی آنکھیں ان کے سرخ چہرے پہ گڑھی ہوئی تھیں۔

“ضیغم ملک!مرد کو چار نکاح کرنے کی اجازت ہے۔” انہوں نے اس کے مقابل آتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو اس نے زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچیں۔

“لیکن میرے لیے ایک نکاح کافی ہے۔۔۔۔” اس کی تلخ آواز کو ایاز صاحب نے قطع کیا۔

“آج یوں دامن چھڑانے سے قبل سے تمہیں کل ایکشن لیتے ہوئے سوچنا چاہیے تھا۔” انہوں نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا لیکن بے سود ٹھہرا۔

“مجھے علم ہوتا کہ میرے ‘ہمدردانہ’ عمل سے آپ کی شان و شوکت کے لیے مسئلہ کھڑا ہو گا اور وہ مسئلہ آپ میرے لیے مسئلہء کشمیر بنانے والے ہیں تو میں انہیں مرنے دیتا وہیں۔” وہ اس وقت اس ذہنی کشیدگی کا شکار ہوتا سخت بے رحم اور نخوت زدہ لہجے میں بولتا سب کے دل دہلا گیا۔

“ضیغم بھولو مت کہ تم کس کے متعلق بات کر رہے ہو۔” اسد صاحب اس کے بے رحم الفاظ پہ مشتعل ہوتے قدرے بلند آواز میں بولے تو وہ ایک قدم اٹھاتا ہوا ان کے سامنے کھڑا ہوتا لفظ چبا چبا کے بولا۔

“یہ بات میں ہر گز نہیں بھول رہا لیکن آپ شاید یہ بات فراموش کر چکے ہیں کہ جس سے آپ میرے دوسرے ‘نکاح’ پہ زور دے رہے ہیں وہ ناصرف مجھ سے عمر میں چھوٹی ہیں بلکہ بھتیجی لگتی ہیں میری۔” اس کے چبھتے ہوئے لہجے پہ لحظہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔

sneak 2

“پیر سائیں!اب رخصتی کی اجازت دیجیے۔” سٹیج پہ موجود اپنی باتوں میں مگن افراد پہ رہبان گردیزی کی آواز کسی ناگہانی آفت کی مانند اتری تھی۔
سب نے ہی ایک جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا جو بہت پرسکون انداز میں پیر سائیں کی مانند متوجہ تھا جن کا چہرہ اس کی بات سن کے مارے طیش و ضبط کے سرخ پڑنے لگا تھا۔

“کیا بکواس کر رہے ہو تم لڑکے؟” ایک چور نگاہ سٹیج سے پرے باتوں میں مصروف مہمانوں پہ ڈالتے ہوئے وہ اپنے اندر اٹھتے ابال کو بمشکل دباتے ہوئے قدرے دبے دبے لہجے میں بولے تو بی جان ہولتی ہوئیں آگے بڑھیں۔

“رہبان یہ کیا پاگل پن ہے بچے؟” انہوں نے رہبان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔

“نکاح کے بعد سبھی اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رخصت کروا کے لے جاتے ہیں بی جان، اس میں پاگل پن کیا ہے؟” دوسری جانب لاپرواہی و بے نیازی عروج پہ تھی جو پیر حویلی کے افراد پہ کسی بجلی کی مانند اتر رہی تھی۔

“اپنا تماشہ بند کرو اور لوگوں کے رخصت ہونے تک اپنی بکواس بھی بند رکھنا ورنہ جان سے جاو گے۔” اس کی ہٹ دھرمی دیکھتے ہوئے جعفر سائیں آگے بڑھے اور لوگوں کو متوجہ ہوتے دیکھ کے چہرے پہ بمشکل نارمل تاثرات سجائے وہ دبے دبے لہجے میں غرائے تو اس نے بایاں ابرو ہولے سے اچکاتے ہوئے سسر کے تیور و دھمکیاں ملاحظہ کیں۔
جبکہ گردیزی پیلس کے افراد ان کی دھمکی سن کے دہل سے گئے اور رضا گردیزی بے ساختہ رہبان کی جانب بڑھے۔

“ایسہ دھمکیاں دینے سے بہتر ہے کہ آپ میری بیوی کو میری ساتھ رخصت کر دیں۔” اس نے سنجیدگی سے ایک اچٹتی نگاہ نیٹ کے پردے کے اس پار بنے سٹیج کے دوسرے حصے پہ ڈالی جہاں اس وقت اس کی ‘بیوی’ براجمان تھی۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ یہاں ہونے والی گفتگو سے واقف ہو رہی تھی یا نہیں لیکن وہ یہ ضرور جانتا تھا کہ جب وہ اس گفتگو کا ماخذ جانے گی تب وہ مر مٹنے پہ تُل جائے گی۔

“رہبان فضول کی ضد نہیں کرو،جب ایک بات طے تھی تو اس پہ اتنا فضول ردعمل کیوں دے رہے ہو؟” رضا گردیزی نے اس کے نزدیک ہوتے ہوئے اسے ڈپٹا کیونکہ اب لوگ سٹیج کی طرف متوجہ ہوتے چہ مگوئیاں کرنے لگے تھے اور یہ بات معاملے کو سنگینی بخش رہی تھی۔

“یہ فضول ضد نہیں ہے نہ یہ فضول ردعمل ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کچھ دیر قبل میرا ان کی بیٹی سے نکاح ہوا ہے اور میں ایسا بے غیرت ہرگز نہیں بنوں گا کہ اسے لاوارثوں کی طرح ایک رسم کی بھینٹ چڑھانے کو یہیں کہیں چھوڑ جاوں وہ بھی اس صورت میں جب میرا نام اس کے ساتھ جڑا رہے گا۔” بنا کسی خوف و خطر وہ مضبوط و بلند لہجے میں بولا تو سٹیج کے پار موجود خواتین کے نرغے میں سر جھکائے بیٹھی ‘آبگینے’ کا وجود ہوا میں معلق ہوا۔
جبکہ اس کی باتیں سنتی بی جان سمیت گردیزی پیلس کے افراد کے چہروں پہ گھبراہٹ, شرمندگی و خوف کے تاثرات نمایاں ہونے لگے تھے کیونکہ
اپنے اصول و روایات کے متعلق اس کی ایسی ہتک آمیز باتیں سن کے پیر جویلی کے سبھی افراد کے ضبط کا پارہ ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا اور سفیر سائیں اپنی جیب میں اٹکی پسٹل نکال کے اس کے سینے پہ تان گئے۔

“رہبان!” ایک دم سے بہت سے لوگوں کی چیخ و پکار کے ساتھ گولی کی گونج پہ اس کے لفظوں کے حصار میں ساکت بیٹھی آبگینے حواس کھوتی چلی گئی۔

Dil Tere Sang Jorr Lia by Huria Malik

1 thought on “Dil Tere Sang Jorr Lia by Huria Malik Complete Urdu Romantic Novel downloaded 2024 html”

Leave a Comment

Your email address will not be published.