Chand mera Dil by momina jamil download complete urdu novel 2026 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Sneakpeak

“منحوس لڑکی میری بیٹا کھا گئی” پھپھو نے روتے ہوئے اسے گھر سے باہر دھکا دیا تھا۔ وہ درد سے کراہ اٹھی ۔۔چھ ماہ پہلے اس کا افنان شیرزاد سے نکاح ہوا تھا اس کی پھپھو کا بڑا بیٹا ۔وہ بہت سخت مزاج اور سفاک تھا ۔کومل اس سے بہت ڈرتی تھی ۔چھ ماہ میں افنان نے کبھی اسے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا لیکن ایک ماہ پہلے وہ رات اچانک اسے قریب کرگیا تھا لیکن صرف ایک رات کے لیے اس کے بعد وہ آفس کے کام سے دوسرے شہر گیا تھا اب چھ ماہ بعد اس کی مسخ ہوئی باڈی گھر آئی تھی جسے پہچانا بھی نہیں جاسکتا تھا ۔کوئی نہیں جانتا تھا وہ معصوم حاملہ تھی جو اب بے سہارا یتیم خانے میں ظلم سہہ رہی تھی “کومل کی کیا خبر ہے زبیر۔۔۔”ہسپتال کے بستر پر ہوش آتے ہی افنان شیر زاد نے پوچھا تھا۔جو انڈر ورلڈ کا بادشاہ تھا پر اس کی جان بچانے کے لیے اسے دنیا کے سامنے مروا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

“میں نے کہہ دیا نا ماں! میں اس گندے خون کو اپنے نام کے ساتھ نہیں جوڑ سکتا۔ جس خاندان کی بنیاد ہی بے حیائی پر رکھی ہو، اس کی لڑکی میرے گھر کی عزت کیسے بن سکتی ہے؟” افنان شیرزاد کے لہجے میں ایسی کاٹ تھی کہ سامنے بیٹھی صغریٰ بیگم کا دل لرز کر رہ گیا۔ وہ صوفے پر بیٹھا غصے سے اپنی انگلیاں چٹخا رہا تھا، آنکھوں میں ایسی لالی تھی جیسے ابھی سب کچھ جلا کر خاک کر دے گا۔ “بیٹا! وہ میری سگی بھتیجی ہے، یتیم ہے بیچاری، اس کا اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں۔ کیا اس کے ماں باپ کی غلطی کی سزا تم اس معصوم کو دو گے؟” صغریٰ بیگم نے نم آنکھوں سے اپنے اکلوتے بیٹے کی منت کی، لیکن افنان کے چہرے پر کوئی نرمی نہ آئی۔ “اس کا سہارا بننے کے لیے یتیم خانے بہت ہیں، میرا گھر نہیں۔” اس نے دو ٹوک جواب دیا اور کھڑا ہو کر لاپرواہی سے سگریٹ سلگا لیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ کمرے کے پردے کے پیچھے کھڑی کومل کے پیروں تلے سے زمین نکل چکی ہے۔ اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تاکہ وہ مزید زہریلے جملے نہ سن سکے۔ وہ اپنی پھوپھو کو کتنا اچھا سمجھ رہی تھی کہ وہ اس کے لیے اپنے بیٹے سے لڑ رہی ہیں، مگر افنان کی نفرت نے اس کے وجود کو کرچی کرچی کر دیا تھا۔ وہ دبے پاؤں وہاں سے بھاگتی ہوئی چھت کی جانب چلی گئی، جہاں ٹھنڈی ہوا بھی اس کے اندر لگی آگ کو بجھا نہیں پا رہی تھی۔اگلے روز شام کے وقت، کومل کچن میں چائے بنا رہی تھی جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی پیچھے کھڑا ہے۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو افنان شیرزاد اپنی پوری ہیبت کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ اس کا لمبا قد اور چوڑی چھاتی کومل کے لیے ہمیشہ ہی خوف کا باعث رہی تھی۔ “چائے میرے کمرے میں لے کر آؤ۔” اس نے سپاٹ لہجے میں حکم دیا اور مڑ گیا۔ کومل کے ہاتھ کانپنے لگے، تھے۔ اس نے بمشکل ٹرے سنبھالی اور اس کے پیچھے پیچھے کمرے تک گئی۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی، اس کا پاؤں کارپٹ کے مڑے ہوئے کونے سے الجھا اور وہ لڑکھڑا گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی، دو مضبوط بازوؤں نے اسے کمر سے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ ٹرے اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی اور گرم چائے کے چند قطرے افنان کی سفید قمیض پر گرے تھے، مگر اس وقت دونوں کو اس کا ہوش نہیں تھا۔ کومل کی بند آنکھیں اور افنان کی گرفت، دونوں کے درمیان ایک عجیب سا سکون پیدا کر رہی تھی۔ افنان نے خاموشی سے اس کے معصوم چہرے کو دیکھا، وہ اتنی قریب تھی کہ اسے کومل کے سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ “چھوڑیں۔۔۔ مجھے چھوڑیں۔” کومل نے ہانپتے ہوئے سرگوشی کی، تو افنان کو ہوش آیا۔ اس نے جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا، جیسے وہ کوئی ناپاک چیز ہو۔ “دیکھ کر نہیں چل سکتیں؟ یا یہ بھی تمہاری کوئی نئی چال ہے میرے قریب آنے کی؟” اس نے اپنی قمیض پر لگے دھبے کو دیکھتے ہوئے حقارت سے کہا۔ “میں تو بس۔۔۔۔” کومل کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، وہ نیچے جھک کر ٹوٹے ہوئے کپ کے ٹکڑے اٹھانے لگی تو ایک تیز ٹکڑا اس کی انگلی میں پیوست ہو گیا۔ “آہ!” اس کے لبوں سے سسکی نکلی۔ افنان نے ایک پل کے لیے اس کی خون آلود انگلی کو دیکھا، اس کے دل میں کچھ ہوا، مگر فوراً ہی اس نے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ “باہر نکلو یہاں سے، اور دوبارہ میری نظروں کے سامنے مت آنا جب تک تمہیں بلایا نہ جائے۔” اس کی آواز میں وہی پرانی سرد مہری لوٹ آئی تھی۔ کومل روتی ہوئی وہاں سے بھاگی، وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس شخص کے دل میں اتنی نفرت کیوں ہے، جبکہ اس کی چھونے میں ایک عجیب سی تڑپ تھی۔رات کے پچھلے پہر، افنان اپنے ٹیرس پر کھڑا سگریٹ کے مرغولے اڑا رہا تھا کہ اس کی نظر سامنے والے ٹیرس پر پڑی جہاں کومل اکیلی کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ چاندنی میں اس کا سفید چہرہ اور بھی پرکشش لگ رہا تھا۔ افنان نے دانت پیستے ہوئے سگریٹ کا آخری کش لیا اور اسے پاؤں تلے مسل دیا۔ “تم کتنی بھی معصوم بن جاؤ کومل، میں تمہیں خود پر حاوی نہیں ہونے دوں گا۔” اس نے خود سے عہد کیا، مگر اس کے باوجود اس کی نظریں وہیں جمی رہیں۔ اسے صغریٰ بیگم کی وہ قسم یاد آ رہی تھی جو انہوں نے تھوڑی دیر پہلے اسے دی تھی۔ “افنان! اگر تم نے کومل سے نکاح نہ کیا تو تم میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔” ماں کی اس مامتا بھری دھمکی نے اسے دیوار سے لگا دیا تھا ۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا غرور اور اس کی نفرت اس کی اپنی ماں کے سامنے ہار رہی ہے۔ صغریٰ بیگم کی مامتا بھری دھمکی افنان کے کانوں میں سیسے کی طرح اتری تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا برسوں کا غرور اور نفرت اس کی اپنی ماں کے سامنے ہار رہی ہے۔ وہ اس وقت کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا، اس کا وجود ایک سلگتا ہوا لاوا بن چکا تھا۔ پھر وہ اپنے کمرے میں آ گیا تھا۔دوسری طرف کومل بھی اپنے کمرے میں پناہ لے چکی تھی۔ اگلی دوپہر وہ اوپر جانے کے لئیے سیڑھیوں کی طرف بڑھی ہی تھی کہ سامنے سے افنان کا کسرتی وجود کسی پہاڑ کی طرح نمودار ہوا۔ کومل نے بدحواسی میں اپنا رخ بدلنا چاہا مگر اس کا پیر سیڑھی کے پھسلن بھرے کونے پر ٹکا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ ایک لرزہ خیز چیخ اس کے حلق میں دبی اور وہ پیچھے کی طرف الٹ گئی۔اس سے پہلے کہ وہ پیٹھ کے بل نیچے جا گرتی، افنان کے دو مضبوط بازوؤں نے اسے فضا میں ہی دبوچ لیا۔ کومل کا سر افنان کے چوڑے سینے سے جا ٹکرایا، جہاں اس کے دل کی دھڑکن کسی سمندر کی لہروں کی طرح تیز تھی۔ افنان نے اسے اتنی سختی سے بھینچا تھا کہ کومل کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ کچھ سیکنڈز کے لیے جیسے وقت تھم گیا تھا۔ افنان کی گہری، سیاہ آنکھیں کومل کے بھیگے ہوئے معصوم چہرے کا طواف کر رہی تھیں، جہاں ڈر اور بے بسی کے سائے رقص کر رہے تھے۔ “یہ آپ کیا کر رہے ہیں مجھے چھوڑیں۔” کومل نے ہانپتے ہوئے لرزتی آواز میں سرگوشی کی، تو افنان جیسے کسی سحر سے باہر آیا۔ اس نے ایک دم اسے جھٹکے سے خود سے دور کیا، “گر کر ہڈیاں تڑوانے کا ارادہ ہے یا یہ بھی اپنی مظلومیت دکھانے کا کوئی نیا طریقہ ہے؟” اس نے اپنے گریبان کو جھٹکتے ہوئے انتہائی حقارت سے پوچھا۔ کومل کچھ نہ کہہ سکی، بس لرزتے ہاتھوں سے اپنا دوپٹہ سنبھالتی ہوئی اوپر کی طرف بھاگ گئی، جبکہ افنان وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا، اس کے ہاتھ ابھی تک اس کے وجود کی نرمی کو محسوس کر رہے تھے جسے وہ مٹانا چاہتا تھا۔دو دن بعد صغریٰ بیگم کسی ضروری کام سے پڑوس میں گئی ہوئی تھیں اور گھر میں ہو کا عالم تھا۔ افنان اپنے اسٹڈی روم میں لیپ ٹاپ پر مصروف تھا جب اسے اچانک شدید سردرد نے آ گھیرا۔ اس نے کچن کی طرف آواز دی مگر وہاں کوئی جواب نہ ملا۔ جھنجھلا کر وہ خود باہر نکلا، جہاں کومل ہال میں خاموشی سے کام میں مصروف تھی۔ “ایک کپ کڑک چائے میرے کمرے میں پہنچاؤ، اور اس بار دیر نہ ہو۔” اس کا لہجہ کسی بادشاہ جیسا تھا۔ کومل کا دل سینے میں دھک دھک کرنے لگا۔ اس نے کبھی افنان کے سامنے اکیلے جانے کی ہمت نہیں کی تھی، اور آج اسے تنہائی میں اس کے کمرے تک جانا تھا۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے کچن میں گئی، اس کے ذہن میں افنان کے وہ زہریلے جملے ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ اسی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں اس نے چینی کا ڈبہ سمجھ کر برابر میں رکھا نمک کا جار اٹھایا اور دو چمچ بھر کر پیالی میں انڈیل دیے۔ اسے ہوش ہی نہ رہا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ جب وہ اسٹڈی روم کے دروازے پر پہنچی تو اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔پھر اس نے دستک دی اور اندر داخل ہوئی۔ افنان کرسی کی پشت سے سر ٹکائے، ماتھے پر ہاتھ رکھے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔کومل نے لرزتے ہاتھوں سے ٹرے اس کی میز پر رکھی، برتنوں کے ٹکرانے کی آواز سے افنان نے بوجھل آنکھیں کھولیں۔ اس نے دیکھا کہ کومل کی انگلیاں بری طرح کانپ رہی ہیں اور وہ نظریں جھکائے ساکت کھڑی ہے۔ “ٹرے یہیں رکھ دو، چائے میں خود لے لوں گا، اس سے پہلے کہ تم اسے میرے اوپر گرا دو۔” اس نے وہی پرانا طنز کیا تو کومل الٹے قدموں پیچھے ہٹی مگر کمرے سے باہر نہیں نکل سکی۔ افنان نے پیالی اٹھائی اور ایک سپ لیا مگر اگلے ہی لمحے اس کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا اور اس نے وہ چائے تڑپ کر ٹرے میں تھوک دی، جس کے ساتھ ہی پیالی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گری اور کرچی کرچی ہو گئی۔ کومل خوف سے اچھل پڑی تھی۔افنان ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا اور دو قدم میں اس کے سامنے پہنچ کر اسے بازو سے پکڑ کر دیوار سے لگا دیا۔ “یہ کیا بدتمیزی ہے؟ نمک ڈال کر لائی ہو؟” وہ دھاڑا، اس کی گرفت کومل کے نازک بازو پر اتنی سخت تھی کہ اسے لگا ہڈی ابھی ٹوٹ جائے گی۔ “میں۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا، وہ غلطی سے۔۔۔” کومل کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور آنسو بہنے لگے۔ “جھوٹ مت بولو! تم یہ سب اس لیے کر رہی ہو کیونکہ میں نے تمہارے ساتھ نکاح سے انکار کیا ہے، ہے نا؟ تم مجھے جتانا چاہتی ہو کہ تم اس گھر میں مجھے تنگ کرو گی؟” اس نے اس کا ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا اور اسے اپنی آگ برساتی آنکھوں میں دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ “میری بات کان کھول کر سن لو کومل، تم اس گھر میں ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں ہو، اور بوجھ کو کیسے ٹھکانے لگانا ہے، یہ مجھے اچھی طرح آتا ہے۔” کومل کی ہچکیاں بندھ گئیں، اس کی معصومیت اور خوف افنان کے غصے کو مزید بھڑکا رہا تھا، مگر اس کے رونے میں ایک ایسی کشش تھی کہ افنان کا ہاتھ خود بخود ڈھیلا پڑ گیا تھا۔پھر اس نے حقارت سے اسے خود سے دور دھکیل دیا تھا “باہر نکلو یہاں سے اور یہ گند صاف کرو، دوبارہ ایسی حرکت ہوئی تو تمہارا انجام تمہارے خاندان جیسا ہی ہوگا!” کومل لرزتی ہوئی نیچے بیٹھی اور کانپتے ہاتھوں سے کانچ کے ٹکڑے سمیٹنے لگی، جبکہ افنان غصے میں پیر پٹختا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا تھا مگر اس کے دل کے کسی کونے میں وہ نمکین چائے نہیں بلکہ کومل کے آنسوؤں کا ذائقہ ٹھہر گیا تھا۔ اگلی صبح کی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ گھر کی فضاؤں میں ایک خاموش خوف نے ڈیرے ڈال دیے۔ کومل، جو رات بھر ٹھیک سے سو نہیں سکی تھی، صغریٰ بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی تو انہیں بیڈ پر بے سدھ پڑا دیکھ کر اس کا دل ڈوبنے لگا۔ ان کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور سانسیں اکھڑی اکھڑی تھیں۔ کومل نے گھبرا کر ان کا ہاتھ چھوا جو برف کی طرح ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ “پھوپھو! پھوپھو آنکھیں کھولیں، کیا ہوا ہے آپ کو؟” اس نے آواز دی، مگر کوئی جواب نہ ملا۔ صغریٰ بیگم کی شوگر اور بلڈ پریشر کئی دنوں کے تناؤ کی وجہ سے خطرناک حد تک بڑھ چکے تھے۔کومل بدحواس ہو کر کمرے سے نکلی اور افنان کے کمرے کی طرف بھاگی۔ وہ اس وقت اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا کہ دروازے پر ہونے والی زوردار دستک نے اسے چونکا دیا۔ “افنان بھائی! افنان بھائی جلدی باہر آئیں۔۔۔ پھوپھو۔۔۔ پھوپھو کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔” کومل کی آواز میں چھپی دہشت افنان کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی۔ اس نے ایک ہی لمحے میں دروازہ کھولا تو سامنے کومل کھڑی تھی، آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر لیے اور ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے ابھی کچھ کہنا چاہا تھا کہ افنان اسے نظر انداز کرتا ہوا کسی طوفان کی طرح ماں کے کمرے کی طرف لپکا۔”امی آنکھیں کھولیں امی!” افنان نے انہیں پکارا، مگر صغریٰ بیگم ہوش و حواس سے بیگانہ تھیں۔ افنان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر انہیں اپنی مضبوط باہوں میں بھر لیا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھا۔ کومل اس کے پیچھے بھاگی۔ تھی۔ افنان نے ماں کو گاڑی کی پچھلی نشست پر لٹایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ کومل بھی سسکیاں بھرتی ہوئی پچھلی سیٹ پر پھو پھو کا سر اپنی گود میں رکھ کر بیٹھ گئی تھی۔ پوری راہ افنان کے جبڑے بھینچے رہے اور اس کی نظریں سڑک پر جمی تھیں، مگر اس کے ماتھے پر ابھرنے والی رگیں اس کے اندرونی کرب کا پتہ دے رہی تھیں۔ہسپتال پہنچتے ہی صغریٰ بیگم کو ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا سفید راہداریوں میں پھیلی ادویات کی بو اور خاموشی کومل کے اعصاب پر سوار ہو رہی تھی۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی مسلسل دعا مانگ رہی تھی کہ اچانک افنان اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.