Noor e zaviyar By unknown writer download complete urdu novel 2026 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Sneakpeak

” تو بن بیاہی ماں بننے والی ہے۔لوگ کہ رہے ہیں کہ تو امید سے ہے۔کیا میں نے تجھے اس دن کیلیے پالا تھا۔تو نے تو میری سفید داڑھی کا بھی لحاظ نہیں کیا۔”نور نے لب ہلانے کی کوشش کی۔
وہ کیا بتاتی کہ اس کے جسم میں پلنے والا وجود گناہ نہیں ہے۔لیکن اسکا ثبوت کہاں تھا۔۔؟


اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ اس کے پیچھے موجود باتھ روم کا دروازہ کھلا اور کوئی باہر نکلا۔قدموں کی چاپ قالین میں جذب ہو گئی تھی، لیکن فضا میں اچانک بڑھ جانے والی خاموشی اور دباؤ نے نور کو چونکا دیا۔اس نے جیسے ہی سر اٹھا کر سامنے دیکھا، اس کے ہاتھ سے جھاڑن چھوٹ کر قالین پر گر گیا۔سامنے… چند قدم کے فاصلے پر، گیلے بالوں اور تولیہ سے چہرہ خشک کرتے ہوئے زاویار سکندر کھڑا تھا۔ اس کی گہری اور تیز آنکھیں سیدھی نور کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔وہ لمحہ صدیوں پر محیط ہو گیا۔کمرے میں موجود سناٹا اتنا گہرا تھا کہ نور کو اپنی دل کی دھڑکنیں
ہتھوڑے کی طرح برستی محسوس ہو رہی تھیں۔ اس کے سامنے کھڑا شخص کوئی عام انسان نہیں تھا، وہ اس حویلی کا اکلوتا وارث، زاویار سکندر تھا۔ اس کا قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا، کسرتی بدن، اور چہرے پر ایک ایسی سختی تھی جو دیکھنے والے کو لرزا دیتی تھی۔ گیلے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی اس کے ماتھے سے ہوتا ہوا اس کے جبڑے تک آ رہا تھا، لیکن اس کی نظریں… وہ نظریں نور پر جمی ہوئی تھیں۔نور کا وجود برف کی طرح ٹھنڈا پڑ گیا۔
اس کی نظریں فرش پر تھیں، لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ پکڑی گئی ہے۔ اس نے کتاب کو وہیں میز پر چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھ پیچھے چھپا لیے، جیسے کوئی بچہ چوری کرتا ہوا پکڑا جائے۔”میں نے پوچھا… کون ہو تم؟”زاویار کی آواز بھاری اور گونجدار تھی، مگر اس میں اونچا پن نہیں تھا، بلکہ ایک ٹھہراؤ تھا جو زیادہ خطرناک لگ رہا تھا۔ اس نے تولیہ ایک طرف صوفے پر پھینکا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا میز کے قریب آیا۔
نور نے بمشکل اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ “جی… میں… میں نور… رحیم مالی کی بیٹی۔” اس کی آواز دھیمی تھی۔۔زاویار میز کے دوسری طرف آ کر رک گیا۔ دونوں کے درمیان صرف شیشے کی میز کا فاصلہ تھا۔”رحیم کی بیٹی…” زاویار نے دہرایا۔ اس کی نظریں نور کے جھکے ہوئے سر، سادہ سوتی دوپٹے اور کانپتے ہوئے ہاتھوں کا طواف کر رہی تھیں۔ “تمہیں کسی نے نہیں بتایا کہ جب میں کمرے میں ہوں تو اندر آنے کی اجازت نہیں؟
“جی… بی اماں نے بھیجا تھا… مجھے لگا کمرہ خالی ہے…” نور کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اسے لگ رہا تھا اب اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا، اور بابا کی دوائیوں کا کیا بنے گا؟ یہ سوچ کر اس کی سسکی نکل گئی۔زاویار، جو اسے ڈانٹنے کے موڈ میں تھا، اس کی سسکی سن کر رک گیا۔ زاویار کی نظر میز پر پڑی کھلی کتاب پر گئی۔”صفائی کر رہی تھیں یا مطالعہ؟” اس نے طنزیہ انداز میں ابرو اچکایا۔نور نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں صاحب… غلطی ہو گئی، میں تو بس…””پڑھ سکتی ہو؟” زاویار نے بات کاٹتے ہوئے سیدھا سوال کیا۔نور نے جھجھکتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔ “جی… میٹرک کیا ہے۔اب آگے پڑھ رہی ہوں”زاویار کے چہرے کے تاثرات میں ہلکی سی تبدیلی آئی۔ شاید حیرت۔ اس گاؤں میں لڑکیوں کا پڑھنا لکھنا عام نہیں تھا، اور ملازمین کا تو بالکل بھی نہیں۔وہ میز کے گرد گھوم کر نور کی طرف آیا۔ نور خوف سے دو قدم پیچھے ہٹی
اور پیچھے رکھی کتابوں کی الماری سے جا ٹکرائی۔ اب بھاگنے کا راستہ بند تھا۔زاویار اس کے اتنا قریب آ کر رکا کہ نور کو اس کے سانسوں کی تپش محسوس ہونے لگی۔”دیکھو نور!” اس نے پہلی بار اس کا نام پکارا۔ نور کو اپنا نام اس کے منہ سے سن کر عجیب سا کرنٹ لگا۔”یہ حویلی ہے۔ یہاں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔
آج پہلی بار ہے، اس لیے چھوڑ رہا ہوں۔ لیکن یاد رکھنا…”اس نے ہاتھ بڑھا کر الماری کے شیلف سے ایک کتاب سیدھی کی، جو نور کے کندھے کے بالکل پاس تھی۔”…میری چیزوں کو ہاتھ لگانے کا حق صرف میرا ہے۔ چاہے وہ کتابیں ہوں… یا کچھ اور۔”یہ جملہ دوہرے معنی رکھتا تھا، لیکن نور اس وقت سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی۔”

Leave a Comment

Your email address will not be published.