Her Wicked Revenge (Revenge of Forced Bride S1) by Qanita Khadija Complete Urdu Novel 2023 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

“میں کیسی لگ رہی ہوں؟” جھجھکتے اس نے سوال کیا۔

دراب خانزادہ نے مڑ کر اسے دیکھا تو جیسے اپنی جگہ پرجم کر رہ گیا ، آنکھوں میں جذبوں کا ٹھاٹھے مارتا سمندر نمودار ہوا۔

“قریب آؤ تاکہ تمہیں بتاسکوں۔۔۔” انگلی کے اشارے سے اسے قریب آنے کو کہاں۔

گلا تر کیے مدیحہ چھوٹے قدم اٹھاتی اس سےچند قدم کی دوری پر آکھڑی ہوئی تھی۔

ٹیڑھی مسکراہٹ لبوں پر سجائے دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر کو تھامے دراب اسے قریب تر کرچکا تھا۔

“اب اپنا سوال دوہراؤں!” اسقدر نزدیکی پر مدیحہ حواس باختہ ہونے لگی تھی۔

دراب کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی، مدیحہ کے چہرے کا رنگ سرخ اناری ہوچکا تھا۔

“وہ میں کیسی۔۔۔کیسی  لگ رہی ہوں؟” مدیحہ نےنظریں ملائےبنا سوال کیا۔

“جواب ابھی چاہیے یاں واپسی پر فرصت میں دوں؟”اس کی ٹھوڑی تلے انگلی رکھے، نگاہیں اس کی نگاہوں سے ملائیں دراب نے سوال کیا تھا۔ مدیحہ کے گال اس کی بات کا مطلب سمجھے تپ اٹھے تھے۔

“میں نے زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں، بہت خطائیں۔۔۔مگرتم میری زندگی کی سب سے خوبصورت غلطی، سب سے خوبصورت خطا ہو مدیحہ کرامت، میں نہیں جانتا کب ،کیسے، کس لمحے، کس پل دراب خانزادہ کو تم سے محبت ہوگئی، بےپناہ محبت، بےپناہ عشق۔۔۔اتنی محبت، اتنا عشق کہ تمہارے نہ ہونے کا تصور ہی میری سانسیں بند کردے۔۔۔میں ہمیشہ اپنی فیلنگز سے چھپتا رہا، انکار کرتا رہا، مگر نہ تم نے ہمت ہاری اور نہ محبت نے۔۔۔تم دونوں نے مل کر مجھے دراب خانزادہ کو زیر کردیا، آج مجھے یہ سچ ماننے میں کوئی شرم، کوئی جھجھک نہیں کہ میں دراب خانزادہ تم سے (مدیحہ کرامت) محبت کرتا ہوں، بےتحاشہ، بےانتہا۔۔۔اتنی کہ نہ صرف اِس دنیا بلکہ اُس دنیا میں صرف تم ہی چاہیے ہو، تمہارا ساتھ، تمہاری محبت۔۔۔ان ستر حوروں کو ٹھکرا کر تم چاہیے ہو۔۔۔ کیا تمہیں میری محبت قبول ہے؟”

تصاویر چلنا بند ہوئی اور مدیحہ کے کانوں میں اس کی آواز پڑی جو چلتا ہوا اسی کی جانب آرہا تھا، ایک گھٹنے پر بیٹھے اس نے اپنا ہاتھ مدیحہ کی جانب بڑھایا، پروجیکٹر پر بڑے بڑے حروف میں “آئی لو یو مدیحہ” لکھا نظر آرہا تھا۔

گہری سانس اندر کھینچے ،نم آنکھوں سے مسکرائے، مدیحہ کا سر تیزی سے اثبات میں ہلا۔

“قق۔۔۔قبول ہے۔۔۔” وہ   نم آواز میں بولتی ہنس دی، ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمادیا تھا مدیحہ نے۔

محبت سے اس کا ہاتھ تھامے تیسری انگلی میں حددرجہ مہنگی ڈائمنڈ رنگ پہنائی تھی دراب خانزادہ نے۔

آج صرف وہی دونوں خوش نہیں تھے، کوئی اور بھی تھا جو بےتحاشہ، بےانتہا خوش تھا۔۔۔ دراب خانزادہ کو برباد کرنے کا خواب پورا ہورہا تھا، دراب خانزادہ کی بربادی کی جانب پیش قدمی مضبوطی پکڑ چکی تھی۔

“آئی لوو یو مدیحہ۔۔۔”

“آ لو یو مور دراب۔۔۔”

وہ دونوں ایک جذب سے بولے تھے۔

Her Wicked Revenge by Qanita Khadija

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *