Tere Saye Ki Aman By Aan Fatima|Part 2|Episode 21 to 30|best urdu novels 2022|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Tere Saye ki Aman,written by Aan Fatima.Its an army based novel based on social issues.its a social romantic novel,full of suspense and thrill.

All right reserved to novelslounge.com

you can find any kind of novel here..romantic novel,army based novel,university based novel,cousin marriage based.best urdu novel of all time.

“صفورہ۔
وہ کراہتے ہوئے وہی صوفے پہ بیٹھ گئی لیکن ناجانے وہ اسے تنہا چھوڑتے کہاں غائب تھی۔
صفورہ۔”
اس کی بےساختہ چیخ پہ صفورہ اپنے کمرے سے آنکھیں مسلتی پیشانی پہ سلوٹیں لیے باہر نکلی اور اس کی پشت دیکھتے دانت کچکچا گئی۔
“کیا مسئلہ ہے کیوں چلارہی ہو۔”


اس کی جھنجھلاتی آواز پہ نگینہ نے تکلیف سے چور بدن کو گھسیٹتے اس کی جانب رخ پھیرا اس کا سپید پڑتا چہرہ دیکھ صفورہ کو شدت سے کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس کے نزدیک پہنچی جو تکلیف سے کراہ رہی تھی۔معاً اس کے ذہن میں جھماکہ سا ہوا اس سے پہلے کہ وہ اسے تھامتی شیطان اس پہ حاوی آگیا تھا۔اس کے لبوں کی تراش پہ شیطانی مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔اس نے تلخی سے اس کی جانب دیکھا اور سکون سے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتی اسے دیکھے گئی۔
“صفورہ پلیز سرفراز کو فون کرو مجھ سے سانس نہیں لیا جارہا پلیز صفورہ۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑنے کے چکر میں کمر کے بل بری طرح زمین بوس ہوئی۔ایک ہولناک چیخ لاؤنج مییں گونجی تھی جو اس گھر کے در و دیوار کو بھی ہلا کر رکھ گئی تھی۔صفورہ کے دل نے اسے ایک لمحے کیلیے کچوکا لگایا لیکن پھر اپنے حق کا سوچتے وہ مٹھیاں بھینچ گئی۔


“تھوڑی دیر صبر کرو۔آنے والے ہونگے وہ۔اس طرح کی حرکتیں کرتے ذیادہ ڈرامے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
وہ اسے جھوٹی امید دلاتے ہوئے بولی۔نگینہ کا پورا چہرہ پسینے سے شرابور ہورہا تھا۔وہ بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھی لیکن اسے اس کی حالت پہ زرا سا بھی رحم نہیں آرہا تھا معاً باہر پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز پہ صفورہ نے حلق تر کرتے سرعت سے اس کی جانب قدم بڑھائے اور اسے سہارہ دیا۔نگینہ کی آنکھیں تحیر کے مارے پھیلی تھی۔وہ بےیقینی کی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی کہ سرفراز کو اندر آتا دیکھ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا تھا۔وہ اندر چھائی افتاد پہ تقریباً بھاگتا ہوا اس کے نزدیک آیا اور اسے صفورہ سے چھڑواتے سرعت سے اپنی باہوں میں بھرا اور باہر کی جانب بھاگا۔صفورہ اس کی اتنی فکر پہ جل بھن کر راکھ ہوگئی۔وہ جتنا ان دونوں کو دور کرنا چاہتی تھی وہ اتنا ہی نزدیک آتے جارہے تھے۔سرفراز کے چہرے سے صاف پریشانی چھلک رہی تھی۔

“کرلی تم نے اپنی منمانی۔چھین لیا نہ میری اولاد کو مجھ سے۔میں بھی تمہارے پاس کچھ نہیں رہنے دوں گی میری بات یاد رکھنا۔”
وہ اس کو سختی سے باور کراتے غصے سے تن فن کرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔شاہ زین نے اذیت سے آنکھیں میچی تھی۔معاً اس کی نگاہ سرفراز پہ پڑی جو خاموش بیٹھے خالی خالی نگاہوں سے زمین کو تک رہے تھے۔وہ عجلت میں ان کے پاس بیٹھا۔سرفراز نے اپنے کپکپاتے ہاتھ اس کے سامنے جوڑے تھے۔
“مجھے معاف کردو تمہارا باپ بہت برا ہے۔اپنے کسی بھی رشتے میں انصاف نہیں کرپایا۔تمہاری ماں کو اتنے چاہوں سے اس گھر میں لایا اسے دنیا بھر کی خوشیاں دیکھانا چاہتا تھا لیکن دنیا بھر کی اذیتیں اس کی قسمت میں لکھ دی۔وہ صابر عورت صبر کرتے کرتے اس دنیا سے چلی گئی میں اسے کچھ نہیں دے سکا۔اس عورت کو پہلے اپنی بیوی کے سر پہ لاکر بٹھایا اور تمہارا بچپن سب کچھ تباہ و برباد کردیا۔میں بہت برا باپ ہوں بہت برا۔مجھے معاف کردینا پلیز۔اپنے دل میں میرے لیے کوئی بدگمانی مت لانا پلیز۔”
وہ زندگی میں پہلی بار اپنی اولاد کے سامنے جھکتے پھوٹ پھوٹ کر رودیے تھے۔شاہ زین پہلے تو ان کی بات پہ ساکت سا رہ گیا معاً ان کی حالت کے پیشِ نظر انہیں اپنے ساتھ لگاتے کمرے کی جانب چل دیا۔


“آپ نے آج یہ بات کرلی ہے لیکن آئندہ مت کہجیے گا کہ آپ نے مجھے کچھ نہیں دیا۔مجھے اتنا اچھا باپ ملا جس نے اپنا آپ ختم کرلیا لیکن مجھے مکمل کردیا پھر بھی آپ کہ رہے ہیں کہ آپ نے کچھ نہیں کیا۔”
وہ ان کے ماتھے پہ لب رکھتا ہوا بولا۔ان کا چہرہ دیکھتے شاہ زین کا دل ہولانے لگا جو برسوں کا بیمار دکھ رہا تھا۔ڈھونڈنے سے بھی ان کے چہرے پہ کوئی رونق نہیں تھی بس خاموشی اور خالی پن تھا۔
“اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ وہ لڑکی کون ہے کہاں رہتی یے مجھے بتاؤ میں اپنے بیٹے کے سر پہ سہرہ سجاؤں گا۔”
وہ مشفقانہ انداز میں بولے۔شاہ زین نے مسکرا کر ان کی جانب دیکھا جو تجسس بھری نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“ڈیڈ وہ اسلام آباد میں رہتی ہے اور مجھ سے چھوٹی ہے۔بہت باتونی یے۔بس ہر وقت بولتی ہی رہتی ہے۔کرنل افتخار کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔اس کا نام عائشہ ہے۔”
اس نے مسکراتے لہجے میں جواب دیا۔عائشہ کا ذکر کرتے اس کے لہجے میں ایک چاشنی سی گھل گئی تھی جو انہوں نے بخوبی محسوس کی تھی۔انہوں نے دل ہی دل میں اس کی خوشیوں کی دعا کی تھی۔
“تو اس میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے میں کل ہی افتخار(کرنل) سے بات کرتا ہوں۔میرا تو یار ہے جلدی سے رخصت کردے گا اپنی بیٹی کو میری جان کیلیے۔”


وہ ہنستے ہوئے بولے تو شاہ زین نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔اس کے بعد وہ دونوں دوسری باتوں میں مصروف ہوگئے۔
اگلے دن ہی سرفراز نے اپنے کہے کے مطابق افتخار سے بات کی تو انہوں نے بھی اس رشتے سے دلی رضامندی ظاہر کی تھی۔وہ شاہ زین سے بخوبی واقف تھے۔

Tere Saye Ki Aman By Aan Fatima|Part 2|Episode 21 to 30|best urdu novels 2022|

  • Urdu novels
  • Romantic novels
  • Army based novels
  • Tere Saye ki Aman by Aan Fatima

Leave a Comment

Your email address will not be published.