Tere Saye Ki Aman By Aan Fatima|Part 1|Episode 1-20|best urdu novels 2022|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Tere Saye ki Aman,written by Aan Fatima.Its an army based novel based on social issues.its a social romantic novel,full of suspense and thrill.

All right reserved to novelslounge.com
you can find any kind of novel here..romantic novel,army based novel,university based novel,cousin marriage based.best urdu novel of all time.

“مس علایہ اینڈ مسٹر حسن لک ایٹ دی بورڈ۔”
اس کی کرخت آواز پہ وہ دونوں سر جھٹکتے بورڈ کی سمت دیکھنے پہ مجبور ہوئے تھے۔
“تمہارا تو میں پردہ فاش کرکے ہی رہوں گی میں جانتی ہوں تم ایک مشکوک آدمی ہو۔میں چاہ کر بھی تم پہ اعتبار نہیں کرپارہی۔تمہارا کسی جماعت کا حصہ ہونا پھر اس عفیفہ کے ساتھ ہونا کچھ تو ہے جو چھپا ہوا ہے اور میں ٹھہری کھوجی طبیعت کی مالک تو مجھ پہ تو فرض ہے نا کہ میں تمہارے بابت جانوں۔سو یو جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔”
وہ چمکتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی پرعزم لہجے میں بولی۔اس کے انداز میں ہی کچھ کرجانے کا جنون تھا جو حسن کو بھی گھبراہٹ میں مبتلا کرگیا۔
“میری چھوڑو مس علایہ اپنی خیر مناؤ۔”


اس نے معنی خیزی سے جواب دیا لیکن وہ علایہ ہی کیا جو ڈر جائے۔اس سے پہلے کہ وہ بھی کوئی جوابی کاروائی کرتی کاظم کی برفیلی آواز پہ کلاس میں سکوت چھایا تھا۔
“مسٹر حسن یو کین گو آؤٹ فوام مائی کلاس۔”
ان دونوں کی مسلسل سرگوشیوں سے اکتا کر اس نے سختی سے حسن کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا۔حسن نے علایہ کو ذمہدار ٹھہراتے کینہ توڑ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا لیکن وہ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے بائیں آنکھ دباگئی۔حسن سختی سے دانت پہ دانت جماتے بیگ جھپٹتے باہر کی سمت چل دیا۔اس نے آج کلاس میں عفیفہ پہ نگاہ رکھنی تھی لیکن اس کاظم نے سارا کام ہی خراب کردیا تھا۔

“تم کون ہو۔”
ان کی سرسراتی ہوئی آواز نکلی تو رضا نے طنزیہ نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا۔
“میں ویسے کاش میں کہ سکتا آپکی موت لیکن شاید مجھے انسانیت کا خیال ہے آپ کے مجھ سے عمر میں بڑے ہونے کا اور رتبے کا خیال ہے تبھی میں یہ نہیں کہوں گا میں مختصر کہوں تو آپ کا کرایے دار ہوں جسے آپ نے اپنی انیکسی پہ جگہ دی تھی اپنی پوتی سے لڑ جھگڑ کر۔”
وہ ایک شان سے بولا۔صفورہ بیگم کو تو پتنگے ہی لگ گئے۔وہ اس سے اس طرح کس لیے مخاطب ہورہا تھا۔
“بکواس مت کرو اور دفعہ ہوجاؤ یہاں سے ہم مذاق کے موڈ میں نہیں ہے۔”
وہ دھیمی آواز میں دھاڑی تھی۔ان کی آواز پہ رضا نے جھوٹ موٹ کی ڈرنے کی ناکام اداکاری کی معاً خود ہی اپنی حرکت پہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا


“میں بھی یہاں مذاق کرنے نہیں آیا بہت مزے کی بات کرنے آیا ہوں بلکل سنجیدہ۔اب یہاں جو بھی بات ہوگی وہ سنجیدہ ہوگی اور ڈنکے کی چوٹ پہ ہوگی۔آپ جیسی عورت جو سب کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کر عیاشیاں کرتی پھررہی ہے میں اسی کا تو پردہ فاش کرنے آیا ہوں صفورہ بیگم۔”
وہ بھی مزاحیہ انداز میں بولتے آخر میں دبے دبے لہجے میں غرایا تھا۔خان بابا کو کافی ناگوار گزرا تھا اس کا یہ انداز۔
“اے لڑکے تمہیں تمیز نہیں ہے بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے۔”
وہ تند نگاہوں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے بولے تو رضا نے بےساختہ ان کا گال تھپتھپایا تھا۔
“چچ چچ آپ خاموش رہیں خان بابا بہت بھولے ہیں آپ۔آپ کو تو کوئی فیڈر پکڑا کر ایک جانب بٹھادے تو آپ وہ بھی کرلیں گے۔”
وہ طنز کرنے سے باز نہ آیا۔خان بابا اس کی بات پہ تلملا کر رہ گئے۔وہ سراسر ان کی بےعزتی کررہا تھا۔
“چلیں صفورہ بیگم اب ہم آپ کا امتحان شروع کرتے ہیں۔”
وہ پوری شان سے صوفے پہ براجمان ہوتا ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاتے بیٹھ گیا۔صفورہ بیگم کی پیشانی پہ سلوٹیں نمودار ہوئی تھی اس کے اس قدر فری انداز میں مگر اس کی بات نے ٹھٹھکا بھی دیا تھا۔
“کیسا امتحان۔”


وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں گویا ہوئی۔
“آپ کی کوتاہیوں کا امتحان آپ کی بےحسی کا امتحان۔ان کارناموں کا امتحان جو کچھ آپ سرانجام دے چکی ہیں بی بی۔”
وہ بھی جواباً تمام لحاظ بالائے طاق رکھتے ان سے اونچی آواز میں چلایا تھا۔
“کہاں ہے علایہ۔”
اس کی جتاتی آواز پہ صفورہ بیگم کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑا تھا۔وہ ہونقوں کی مانند اس کی جانب دیکھ رہی تھی جو حق سے اس سے یہ سوال کررہا تھا۔
“مجھے کیا پتا کہ اب تک وہ کیوں نہیں لوٹی میں نے تو اسے اجازت دے دی تھی بس۔آگے کیا پتا اپنے کسی یار کے ساتھ بھاگ گئی ہو‍”
“اپنی اس قدر واہیات بکواس بند کریں۔”
دروازے سے آنے والی دھاڑتی آواز پہ ماحول پہ چھایا سکوت ٹوٹا تھا۔خان بابا صدمے کی سی کیفیت میں صفورہ بیگم کی جانب دیکھ رہے تھے جو ابھی بھی ویسی ہی تھی۔

Tere Saye ki Aman by Aan Fatima|Part 2|Episode 1-20|best urdu novels 2022
  • Urdu novel
  • Romantic novel
  • Army based novel
  • Tere Saye ki Aman by Aan Fatima

Leave a Comment

Your email address will not be published.