hisar e muhabbat Season 2 by Aan Fatima complete urdu novel 2023

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“تم مجھ پہ حکم چلا رہی ہو علیزے ادیان شاہ۔”

وہ سرد مہری سے بولا تو لیزے کے مسکراتے لب فوراً سے پہلے ڈھلے تھے جبکہ ادیان کے بازوؤں.پہ اس کی گرفت ڈھیلی پڑی۔

“نہیں بس ایک فرمائش کررہی تھی اگر نہیں بنانا تو کوئی بات نہیں۔”

وہ اس کے چہرے پہ سخت تیور دیکھتے دھیمے لہجے میں بولتی پیچھے ہوئی معاً عقب سے ہی اپنے گرد حصار محسوس کرتے وہ چونکی تھی۔

“علیزے ادیان شاہ کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ اس پہ حکم بھی چلا سکے۔”

وہ اس کے گال کے ساتھ گال مس کرتے چاہت آمیز لہجے میں گویا ہوا تو لیزے نے نم نگاہوں سمیت اسے دیکھتے اس کے سینے پہ مکہ جڑا تھا۔ادیان نے محبت سے اسے خود میں سمیٹا تھا۔

وہ اسے اور لیان کو لیے کچن کی جانب بڑھا۔یہ ایک شاندار طرز کا اوپن کچن تھا جہاں ضرورت کی ہر چیز مہیا تھی۔اس نے آتے ساتھ ہی لیزے کو اپنے سامنے رکھی کرسی پہ بٹھایا اور لیان کو شیلف پہ بٹھایا تھا۔

“جی میم کیا پیش کیا جائے آپ کی خدمت میں۔”

وہ مودب لہجے میں بولا تو لیزے نے منہ پہ ہاتھ رکھتے مسکراہٹ دبائی تھی۔

“آپ کے ہاتھوں سے سب کچھ قبول ہے مسٹر۔”

جواباً وہ بھی اسی کے انداز میں بولی۔

“میرا بیٹا کیا کھائے گا۔”

وہ اب لیان کے بال سنوارتے اس سے پوچھ رہا تھا۔

“ڈوڈلز”

(نوڈلز)

وہ بھی چہکتے ہوئے بولا تو ادیان نے اس کا ماتھا چومتے سرعت سے یوٹیوب سے پاستے کی ریسیپی نکالی تھی اور لیزے سے مطلوبہ چیزوں کا پوچھتے اپنے کام میں مصروف ہوچکا تھا۔لیزے نے نم نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔

اس نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اپنے دل پہ بسے اس انسان کے ساتھ وہ اتنا لمبا سفر طے کرے گی وہ بھی اس قدر محبت بھرا۔زندگی میں کس قدر تلخیاں آئی تھی کہ ہر موڑ پہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کا ساتھ بس اتنا ہی ہے لیکن اللّٰه نے ہر بار ایک نئی امید کے تحت واپس اسے ادیان کے پاس لوٹایا تھا اور آج وہ دنیا کی نظر میں اکھڑ مزاج سرد مزاج اور اکڑو شہزادہ اس کیلیے کچن میں کھڑے ہوکر کچھ بنارہا تھا۔اس سے بڑی خوش قمستی اس کیلیے بھلا کیا تھی۔اگر کوئی اسے خود آکر بھی ادیان کے خلاف کچھ کہتا تو وہ منہ پہ کہنے کا حوصلہ رکھتی تھی کہ اس کا شہزادہ ایسا نہیں ہے۔وہ یہ سب سوچتے نم نگاہوں سمیت ہنس دی تھی۔

وہاں سے ہوتے ہوئے اس کی نگاہ لیان کے معصوم چہرے پہ ٹکی تھی۔کس قدر مشکلوں کے بعد اس ذات نے اولاد کی نعمت سے نوازا تھا نہ اسے۔اور وہ بھی اس شخص سے جس سے وہ بےپناہ عشق کرتی تھی۔

“ماما بےبی۔”

لیان کی آواز پہ وہ جو سوچوں کے گرداب میں پھنسی ہوئی تھی چونک کر اس کی سمت متوجہ ہوئی جو پوئم میں موجود بےبی کو اسے دکھارہا تھا۔لیزے نے اسے دیکھتے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“بابا لیان بےبی۔”

اب کی بار اس نے ادیان کو متوجہ کرنا چاہا جو پوری دلجمعی سے پاستہ بنانے میں محو تھا ٹھٹھک کر اس کی سمت دیکھا۔اس کی بات کا مفہوم وہ کہی نہ کہی سمجھ چکا تھا۔

“نو لیان از اونلی ون۔”

اس نے سنجیدگی سے اسے ٹوکا تو وہ غصے سے اسے دیکھے گیا۔اس کی بات کا مفہوم اب لیزے کو بھی سمجھ آچکا تھا لیکن وہ لب سختی سے بھینچ گئی کیونکہ اس بابت وہ بھی بارہا بار ضد لگاچکی تھی لیکن اس نے ہر بار اپنے موقف پہ ڈٹتے اسے ٹالا ہی تھا۔

Hisar-e-muhabbat-season-2-by-Aan-Fatima-complete-urdu-novel-2023-html

Leave a Comment

Your email address will not be published.