Chlo hum har jaty hain by hina malik complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم داور کی بیوہ ہو تم نے صارم کی حوصلہ افزائی کیوں کی۔”وہ اس کی راہ میں حائل ہو گیا تھا ایک لمحے کو تو وہ خود سمجھ ہی نہ پائی تھی۔
“کیا مطلب۔”
“اتنی معصوم نہیں ہو تم جتنی بن رہی ہو۔”
“سالار خان کھل کر بات کریں پہیلیاں مت بھجوائیں۔”
“صارم نے تمہارے لیے اپنا پروپوزل دیا ہے کیا میں پوچھ سکتا ہوں تو میں اسے اجازت کیوں دی۔ کہاں گئے وہ دعوے کہ تمام عمر داور کے نام پر بیتا دو گی۔کہاں گئے وہ وعدے وہ جھوٹی تسلیاں جو تم اب تک دا جی کو دیتی آرہی تھی کہ ان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ گی۔” اس کی طرف بڑھتے ہوئے بول رہا تھا اور میرب پیچھے کو ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگی تھی۔
“بولو میرب احسان جواب دو۔” دائیں بائیں بالکل اس کے حصار میں آگئی۔ اس کی زندگی میں تین مرد ائے تھے مہران شاہ داور خان اور صارم رضا وہ کسی سے بھی محبت نہ کرسکی تھی۔حتی کہ نکاح کے بعد بھی اسے دلاور خان سے محبت نہیں ہوسکی تھی۔ہاں وہ اس کی عزت ضرور کرتی تھی کہ وہ اس کی عزت کا رکھوالا ثابت ہوا تھا۔شاید وہ اس سے محبت بھی کرتی اگر شادی ہوجاتی۔۔۔مگر وائے قسمت کہ محبت ہوئی بھی تو کس سے؟اس شخص سے جو شاید اا دنیا میں اس سے سب سے ذیادہ نفرت کرتا تھا۔اس کج صورت بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔میرب کو پتہ بھی نہ چلا کہ آنسو اس کے گال بگھوتے چلے گئے۔
“جانتا ہوں یہ آنسو عورت کا سب سے مضبوط ہتھیار ہوتے ہیں مگر۔۔۔تم جیسی عورتیں۔۔۔”
“مجھ نیسی عورتیں؟کیسی عورت ہوں میں؟کیا کیا ہے میں نے؟آخر میا بگاڑا ہے میں نے آپ کا؟”وہ تڑپ کر اس کے حصار سے نکلی تھی۔

Chlo hum har jaty hain by hina malik

Leave a Comment

Your email address will not be published.