mere hamdam mere dost by iffat saher tahir download complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“زینی سے تمہارا کیا رشتہ ہے۔”اس نے عباد کے تاثرات میں ناگواری دیکھی۔
“تمہارا مطلب جو بھی ہو۔میرا مطلب یہ ہے کہ تم مجھے یوں تو تڑاخ کرکے مخاطب کرو گی۔؟”اس نے بلکل ہی غیر متعلق بات کی۔لمحہ بھر کو ہانیہ کو اگلی بات بھول گئی۔
کافی بڑا ہوں میں تم سے اور پھر جو رشتہ ہے تمہارا مجھ سے وہ احترام کا متقاضی ہے۔”
ہانیہ نے گہری سانس بھر کر جیسے خود کو کمپوز کیا اور پھر رسان سے بولی۔
“زینی سے آپ کا کیا رشتہ ہے؟”
“کزن ہے میری۔تمہارے ساتھ ہی اس کی امی بیٹھی تھیں۔میری پھپھو کی بیٹی ہے۔”اس نے بڑی تفصیل سے اپنا اور زینی کا رشتہ واضح کیا یا شاید لفظوں کے پردے میں چھپایا تھا۔
“اس کے علاوہ۔”
“کیا جاننا چاہتی ہو تم۔”عباد نے چونک کر اسے دیکھا۔
“میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں مسٹر عباد کہ ایک عدد منگیتر رکھتے ہوئے بھی آپ کو ایسی بھی کیا ایمرجنسی میں شادی کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی اور یہ کہ میرے پاپا کو کس لیے دھوکا دیا آپ نے۔کس لالچ میں۔؟”وہ چیخ اٹھی۔
“تمہارا کیا خیال ہے مجھے کیا لالچ ہوسکتا ہے۔”وہ گہری نگاہوں سے اسے پڑھتے بڑے اطمینان سے پوچھنے لگا۔
“میرے پاپا کا بزنس گھر اور کیا۔”ہانیہ کو اس کی اداکاری پہ جی بھر کر غصہ آرہا تھا۔وہ تنفر سے بولی۔
“نکاح میں اپنے ساتھ بداعتمادی لائی ہو ہانیہ وقار۔”
“اور تم۔جس نے نکاح کے نام پہ دھوکے کا کھیل کھیلا ہمارے ساتھ اس کا کیا۔؟”ہانیہ کی نرم مزاجی کہی دور جاسوئی۔
“میرے سر میں درد ہورہا ہے۔میں یہاں ریسٹ کرنے آیا ہوں۔وہ آرام سے لیٹ گیا۔”ہانیہ کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑلیا۔
“ایکسکیوزمی مسٹر عباد۔مجھے کوئی شوق نہیں تھا آپ سے شادی کا۔مجھے مجبور کیا تو صرف میرے باپ کی خواہش نے مگر میں انہیں تمہارا یہ اصل چہرہ ضرور دکھانا چاہتی ہوں۔”ہانیہ سلگی۔اس کے الفاظ نے جادو کا اثر کیا۔وہ اشتعال کے عالم میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

mere hamdam mere dost by iffat saher tahir

Leave a Comment

Your email address will not be published.