kon tujhe yun pyar kre ga by Reader choice download complete urdu novel 2026 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

SneakPeak

صبح اس کی آنکھ اپنے چہرے پر عجیب سے لمس پر کھلی تھی۔ جب ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول کر وہ چہرے پر سفر کرتی ہوئی انگلیوں کے لمس کو دیکھ کر اپنا چہرہ سمیر سہگل کی جانب موڑ چکی تھی۔ “تم پیاری ہو، بہت پیاری۔” بچوں کی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہوئے وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔ جب ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ خود سے دور پھینکتی ہوئی وہ اٹھ بیٹھی تھی، لحاف کو تھام کر سینے سے دبوچے ہوئے وہ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ سمیر سہگل کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے؟ کیا زندگی کی تمام مشکلات جھیلنے کے بعد یہ ایک اور آزمائش میرے نصیب میں لکھی ہوئی تھی؟ گزری ہوئی رات کی تمام کارروائی یاد آئی تھی تو آنکھوں میں آنسو بھی ابھرتے چلے آئے تھے۔ “گڑیا تم مت رو، میں تمہارے لیے سب کو ماروں گا جو تمہیں پریشان کرنے کی کوشش کرے گا، میں سب کو ماروں گا۔ بس تم رو مت۔” بچوں کی طرح نچلا لب باہر نکال کر کہتے ہوئے سمیر سہگل نے آگے بڑھ کر اس کے گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے آنسوؤں کو صاف کیا تھا۔ جس پر وہ ہچکیوں بھرتے ہوئے وجود کے ساتھ بس اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ ہاں، اگر اس کے خاندان نے اس کے ساتھ دغا کیا تھا تو اس انسان کی کیا غلطی تھی؟ وہ تو معصوم تھا، اس کا تو ذہن بھی بچوں والا تھا، وہ اس کے ساتھ بھلا کیوں جان بوجھ کر یہ کرنے لگا۔ بالآختیار ہو کر اسے سامنے بیٹھے ہوئے اس وجاہت سے بھرپور نوجوان پر رحم کے ساتھ ترس بھی آیا تھا۔ تبھی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کے چہرے کو نہایت ہی غور سے دیکھا تھا۔ وہ ایک چھبیس ستائیس سالہ بھرپور نوجوان تھا مگر شاید ذہنیت ابھی بھی بچوں والی تھی۔ “میں ٹھیک ہوں، میں رو نہیں رہی۔ مجھے معاف کرنا، میں رات کو پریشان ہو گئی تھی، میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔” نرمی سے اسے بچوں کی طرح بہلاتے ہوئے وہ اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے گویا ہوئی تھی، جسے سمجھتے ہوئے وہ اپنا سر اثبات میں ہلا گیا تھا۔ “کوئی بات نہیں گڑیا، تم میری دلہن ہو، میں تمہارا اچھے سے خیال رکھوں گا تاکہ پھر تمہیں کوئی بھی پریشانی نہ ہو۔ میں کوشش کروں گا کہ اب تمہاری طبیعت بھی خراب نہ ہو تاکہ تمہیں رونا نہ آئے۔” بچوں کی طرح بولتے ہوئے وہ دونوں ہاتھوں سے تالیاں بجاتے ہوئے خوش ہو رہا تھا۔ جسے دیکھتی ہوئی وہ اذیت سے اپنی آنکھیں میچ کر ہلکا سا مسکرائی تھی۔ “ٹھیک ہے، میں کپڑے چینج کر کے ابھی آتی ہوں، کیا تم نے کچھ کھایا ہے؟” نرمی سے بولتے ہوئے وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جو اپنا سر نفی میں ہلا گیا تھا۔ “سمیر کو بہت بھوک لگی ہے۔” اپنی پلکیں جھپکا کر کہتا ہوا وہ اسے ایک پل کے لیے ساکت ہونے پر مجبور کر گیا تھا مگر جلد ہی اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔ “ٹھیک ہے، میں بس ابھی کپڑے چینج کر کے آ رہی ہوں، اس کے بعد تم جو چاہو گے میں تمہیں وہ ناشتہ لا دوں گی، ٹھیک ہے؟” نرمی سے بول کر اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے وہ اپنے قدم باتھ روم کی جانب بڑھا چکی تھی۔ جیسے ہی دروازہ اس کے پیچھے بند ہوا تھا تو سمیر سہگل اپنے چہرے کو سنجیدہ بناتے ہوئے پلٹ کر باتھ روم کی جانب ایک نگاہ ڈال گیا تھا۔ “اب یہ کون سا نیا ڈرامہ ہے؟ یا پھر تم بھی میرے دشمنوں کی صف میں شامل ہو؟” اپنی گردن موڑ کر کہتا ہوا وہ بستر پر دراز ہوا تھا، دونوں ہاتھ سر کے پیچھے باندھے ہوئے وہ باتھ روم کے دروازے کو کچھ سوچتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.