Chahat k rang By Qurat ul Ain roy download complete urdu novel 2026 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Sneakpeak

“بیوی تو آپ ہیں میری اور کام میرے شکور کر رہا ہے۔” بیڈ پر لیٹے وہ طنزیہ انداز میں بولا تھا اس کا انداز کافی جتاتا ہوا سا تھا۔
ماہ نم نے خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھایا اور بڑی مشکل سے واش روم تک سیفی کو لے کر گئی اتنی دھان پان سی لڑکی اتنے جوان مرد کا بوجھ سہارے ہوئے واش روم کے چند قدم طے کروانا بہت مشکل تھا ماتھے پر پسینہ اور سانس کی رفتار تیز تھی اور پھر سیفی اس کا ایک طرف اور دوسرے طرف سے کندھا پر اپنا بازو رکھ کر چل رہا تھا وہ اس کے پورے وجود پر چھایا ہوا تھا وہ اس کے بے حد قریب تھا لیکن ماہ نم کو نروس نہیں ہونا تھا دل چاہے اندر سے کتنا ہی دھڑک رہا ہو اسے کان نہیں دھرنے تھے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ضدی، خودسر سیفی کو صرف اس کا پر اعتماد رویہ، سچائی اور خلوص ہی اسے کنٹرول کر سکتا ہے اگر وہ اس کے خودسر انداز پر حاوی نہ ہوئی تو تمام عمر ایک ضدی اور جنگلی سیفی کے ساتھ ہی گزارنی ہو گی۔
اسی طرح سے وہ اسے واپس بیڈ پر لے کر آئی تھی سیفی قدرے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
۔…………..
“ٹاول ہاتھ آپ دلوائیں گی یا…؟” سیفی نے جان بوجھ کر چیلنج دیتی مسکراہٹ کے ساتھ بات ادھوری چھوڑ دی۔
“میرا مطلب رات کو آپ نے کافی جذباتی تقریر کرتے ہوئے بیوی کا عہدہ سنبھالا ہے اور اس عہدے کی کافی ذمہ داریاں ہیں جبکہ آپ کا شوہر تقریباً ہاتھ پیر ہلانے سے عاری ہے اس کے تمام ہی کام آپ کو سر انجام دینے ہوں گے یا پھر شکور یا کاکا جان کو بلوا دیں۔” وہ طنزیہ انداز میں پھر گویا ہوا تھا۔
ماہ نم کچھ بولے بغیر واش روم میں سے نیم گرم پانی میں ٹاول بھگو کر لے آئی۔
“شرٹ کے بٹن کھولیے۔” وہ اسے زچ کرنا چاہ رہا تھا۔
اس وقت اس نے بلیک شرٹ پہن رکھی تھی اس کے اتنے قریب ہو کر بٹن کھولتے ہوئے اس کی انگلیوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانا دشوار ہو رہا تھا لیکن بے تاثر چہرے کے ساتھ سنجیدگی سے وہ اپنے کام کو سر انجام دینے لگی، اس کی جھکی لمبی پلکیں انگلیوں کی ہلکی سی کپکپاہٹ اس پوری کارروائی کے دوران سیفی نے مخفی نہیں رہی تھی اور وہ اسے نروس کرنے کے لیے مسلسل گھور رہا تھا۔
بینڈیج جو اس نے ہسپتال میں نرس کو کرتے بغور دیکھی تھی کرنے کے بعد ٹاول وغیرہ سمیٹ کر رکھا۔
“آپ کافی کم گو ہو گئی ہیں مس ماہ نم۔” اس کے خاموش رہنے پر وہ پھر گویا ہوا۔
“آپ کی کچھ باتوں کا جواب نہ ہاں میں دے سکتی ہوں اور نہ ناں میں۔” اتنا کہہ کر وہ سب کچھ سمیٹ کر واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی سیفی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا تھا۔
“ناشتے میں کیا لیں گے؟” آ کر پوچھا تھا ماہ نم نے۔
“کیا دیں گی۔” جواب حسب معمول تھا جس انداز میں کہا گیا تھا ماہ نم کی نظریں ایک بار جھکی تھیں۔
“میں اپنی مرضی کا ناشتہ بنا کر لاتی ہوں۔” وہ اتنا کہہ کر فوراً کمرے سے نکل گئی تھی اور سیفی کافی پراسرار انداز میں مسکرایا تھا۔
“ہونہہ عورت صرف ڈرامہ ہے دیکھتا ہوں کب تک تم یہ اچھی بیویوں والا ڈرامہ میرے ساتھ کرتی ہو اصل میں تو تم اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو تمہاری وجہ سے زخمی ہوں تو نیا نیا ہمدردی کا بخار چڑھ گیا جب ٹھیک ہو جاؤں گا تو پھر… سب جھوٹ سب بکواس۔” سیفی نے زہر خند ہو کر سوچا تھا۔
☆☆☆
سارا دن کافی مصروف گزرا تھا ماہ نم کو سیفی نے خوب گھن چکر بنا رکھا تھا کبھی کتاب پکڑا دو کچن میں مصروف ہوتی تو سیل پر سیفی کی کال آتی فوراً آ جاتی تو حکم ہوتا کہ کتاب رکھ جاؤ جب دوبارہ کچن پہنچتی تو پھر کال آ جاتی کمرے میں جانے پر کہا جاتا پانی پلا دو جب دوپہر کو اس کی پسند کا اٹالین پیزا فل آف چیز اتنی محنت سے بنا کر لے کر گئی دیکھ کر کہا گیا اب موڈ نہیں اسے صرف فروٹ سیلڈ کھانی ہے ماہ نم کو اچھی طرح معلوم تھا وہ اس کو زچ کر رہا ہے لیکن وہ بھی ہمت ہارے بغیر ماتھے پر ایک شکن لائے بغیر کام کرتی رہی بالکل متار شام کو آ گئے تھے اور سید ہاسنی کے کمرے میں گئے تھے یہ جانتے ہوئے بھی وہ اب بھی ان سے سیدھے منہ بات نہیں کرے گا وہ اس کے پاس بیٹھ کر اس کی خیریت معلوم کرنے لگے تھے۔
“انکل چائے۔” ماہ نم نے گرما گرم بھاپ اڑاتا چائے کا کپ ان کی جانب بڑھایا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.