Dil Musafir Tum Manzil by Amreen Riaz Complete Urdu Romantic Novel 2023 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

تُم یہاں میرے کمرے میں کس حق سے آئی ہو نکلو یہاں سے،مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم اتنی بے شرم نکلو گی اتنی جلدی اُس اقرار نامے کی آڑ لے کر آ جاؤ گئی جو صرف کُچھ لمحوں کی مجبوری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں،میں۔۔۔۔۔۔”
“کوئی بکواس نہیں سُننی مجھے نکلو میرے رُوم سے،مُجھے تُمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی اور جس خُوش فہمی کی بنا پر تم اس گھر میں میرے کمرے تک آئی ہو نہ وہ بھی میں آج ہی ختم کردُونگا۔۔۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنی صفائی میں کُچھ کہتی وہ درشت لہجے میں بولتا اُسکی بولتی بند کروا گیا تھا۔
“ویسے خوب ڈرامعہ رچایا ہے تم نے تُمہیں تو نوبل پرائز ملنا چاہئیے مُجھے وہاں بلوا کر میرے باپ کی نظروں میں مُجھے ذلیل کرو دیا،ویسے یہ سب پلاننگ کرتے ہوئے تُمہارے ضمیر نے تُمہیں ملامت تو نہیں کی ہو گی ہے نہ،تُم تو میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا لڑکی ثابت ہوئی ہو اس سے پہلے کہ میں آؤٹ آف کنٹرول ہو کر اپنی تربیت کے خلاف کوئی کام کر جاؤں نکلو یہاں سے دفعہ ہو جاؤ میری نظروں سے۔۔۔۔۔۔۔۔”غم و غُصے کی شدت سے چیخ اُٹھا اشنہ سہم کر پیچھے ہٹی تھی جو غُصے اور نفرت سے بلبلا رہا تھا اُسکی کوئی بات کوئی صفائی سُننے کے موڈ میں نہ تھا۔
“تُم ایسے نہیں مانو گی آخر ڈھیٹ جو ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے کلائی سے پکڑ کر باہر نکالنے لگا جو سسک اُٹھی تھی اُسکی سخت گرفت سے۔
“مُجھے درد ہو رہا ہے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا ذخم نہ صرف دُکھا تھا بلکہ خُون بھی نکلنا شُروع ہو گیا تھا۔
“جتنا درد ہمیں دے رہی ہو اس کے بدلے تو یہ کُچھ نہیں۔۔۔۔۔۔”وہ بےحس بنا اسے باہر لا کر دھکا دیا تھا وہ اس سے پہلے کہ مُنہ کے بل زمین پر گرتی مُصطفی کمال نے اُسے گرنے سے بچا لیا تھا۔
“تُمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔”وہ روتی ہوئی اشنہ کو صوفے پر بٹھا کر اُسکی طرف پلٹے تھے جو کھا جانے والی نظروں سے اشنہ کو دیکھ رہا تھا۔
“یہ اسی سلوک کی مستحق ہے بلکہ اس سے بھی بد تر کی،آپکو نہیں پتہ کس قماش کی عورت ہے یہ انتہائی تھرڈ کلاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس خاموش،اپنی زُبان کو یہی لگام دو فردین ورنہ میں بُھول جاؤنگا کہ تُم میرے بیٹے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غُصے سے دھار اُٹھے تھے فردین نے لب بھینچ کر سُلطانہ بیگم کی طرف دیکھا جو اسے چُپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھیں۔
“یہ تو آپ رات کو ہی بُھول گئے تھے کہ میں آپکا بیٹا ہوں ورنہ آپ کبھی بھی اس مکار لڑکی کے بہکاوے میں آکر مُجھے وہ کروا گھونٹ پینے کو نہ کہتے۔۔۔۔۔۔۔”
“میں تُم سے اس وقت کوئی فضول بحث نہیں کرنا چاہتا تُم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مُصطفی کمال نے رُخ بدلا تھا فردین نے سر کو نفی میں ہلایا تھا۔
“ایسے نہیں پاپا،اس لڑکی کو میرے گھر سے ابھی اسی وقت دفعہ ہونا پڑے گا،آخر یہ کس حق سے میرے گھر اور میرے کمرے تک آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسی حق سے جو اسکو تھوڑی دیر پہلے ملا ہے،اور اسے اس گھر سے کوئی بھی نہیں نکال سکتا میرے جیتے جی تو کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ سختی سے اُسے باور کروا گئے جو حیرت سے اپنے باپ کا یہ رُوپ دیکھ رہا تھا کہ آخر مُصطفی کمال اُسکی سائیڈ کیوں اتنی لے رہے ہیں۔

Dil Musafir Tum Manzil by Amreen Riaz

Leave a Comment

Your email address will not be published.