Halki Halki mulaqatain by Tania Tahir download complete urdu novel 2026 html

Sneakpeak

“زاویر اللہ کے واسطے مجھے چھوڑ دیں میری بدنامی ہو جائے گی

وہ خود کو اس سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی دادا جان کے پاس سے وہ اٹھی تو لاونج خالی تھی وہ اپنے کمرے میں جاتی کہ زاویر کو ایکدم اپنے سامنے دیکھ کر ڈر گئی

اور دو قدم دور ہوئی

وہ کچھ نہیں بولا تھا
لیکن اسکی خاموش نگاہوں کا جو سرد پن تھا وہ گویا تھا بہت کچھ تھا اسنے عیشاء کا ہاتھ جکڑا اسکے منہ پر دوسرا ہاتھ رکھا اور ایک لمحہ ضائع کیے بنا اسے وہاں سے گھسیٹ کر لے گیا

اسکے ہاتھ کی فولادی گرفت پر عیشا ء ایک لفظ بھی نہ بول سکی جان توڑ محنت کرنے کے باوجود وہ نازک سی لڑکی اسکے قبضے سے آزاد نہ ہو سکی تھی اور وہ اسے کسی پرانے بوسیدہ فلیٹ میں لے آیا تھا جہاں اندھیرے کے باعث خوف محسوس ہو رہا تھا اور بدنامی کا خوف الگ تھا

کچھ نہیں ہو تا عیشاء تمھارے ساتھ میں بھی بد نام ہو جاؤ گا ” وہ بولا سخت لہجہ تھا۔۔

وہ چیئر پر بیٹھا تھا جبکہ عیشاء اسکے قدموں میں تھی اسکے دونوں ہاتھوں کو وہ اپنے ہاتھ میں جکڑے ہوئے تھے جبکہ رورو کر عیشاء نے آنکھیں سجالیں تھی مجھے آپکی بدنامی سے فرق نہیں پڑتا چھوڑ دیں مجھے ” وہاں سب سوچیں گے میں ” بھاگ گئی ہوں

وہ جیسے ہچکیاں بھر رہی تھی زاویر کورتی بھی فرق نہ پڑا
سب کو پتہ ہے میرے ساتھ بھاگی ہو خیر اس میں تمھارا اپناذاتی قصور ہے ” 11 اسنے اسکے ہاتھوں کو آزاد کر دیا عیشا ء ایکدم پیچھے ہوئی مٹی اسکے کپڑوں پر لگ گئی تھی ہاتھ گندے ہو گئے تھے وہ اٹھی اور اس چھوٹے سے فلیٹ سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگی

کہ دروازے پر تالا تھا اسنے دروازہ پیٹ ڈالا

پلیز مجھے بچاؤ کوئی بچائے مجھے بھائی مما” وہ دروازہ پیٹتی سسکیوں سے رودی جبکہ زاویر اسکے ڈرامے پر سے توجہ ہٹا کر اپنے ایک دوست کو کال ملا گیا اچھا ٹھیک ہے میں کھولتا ہوں دروازہ” اسنے اتنا ہی کہا عیشاء نے مڑ کر دیکھا وہ اسی کے پاس ارہا تھا وہ دیوار سے چپکا گی بڑے شوق سے بڑا مسکرا مسکرا کر احسن سے نکاح کر رہی تھی اب مجھ سے کرو اور پھر میں تمھیں بہت اچھے سے سمجھاؤ گا کہ ” جو تم سے محبت کرے اسکی قدر نہ ” کی جائے تو وہ کس طرح پاگل ہو جاتا ہے

اسے یہ بات ہی ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ احسن اسکے کمرے میں کیوں تھا
نہیں کبھی نہیں میں آپ سے نکاح نہیں کروں گی ” وہ جیسے دیوار سے بھی پار ہو جانا چاہتی تھی

” وہ بولی جبکہ زاویر نے شانے اچکائے ” چلو بس پھر ٹھیک ہے ۔۔ آج سے چار ماہ پہلے ایک کھیل میں میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا تو کیا ہوا آج ہو جاو گا یہاں تمہیں بچانے والا بھی کوئی نہیں ” اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا وہ اسکے نزدیک چھوٹے چھوٹے قدم بھر نے لگا

عیشاء کی آنکھیں پھیل گئیں

ن۔۔۔ نہیں ز۔۔ زاویر آپ اپ ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ آپ ” وہ دور کرنے لگی
نہیں کبھی نہیں میں آپ سے نکاح نہیں کروں گی ” وہ جیسے دیوار سے بھی پار ہو

جانا چاہتی تھی

” وہ بولی جبکہ زاویر نے شانے اچکائے “چلو بس پھر ٹھیک ہے

— آج سے چار ماہ پہلے ایک کھیل میں میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا

تو کیا ہوا آج ہو جاو گا یہاں تمہیں بچانے والا بھی کوئی نہیں ” اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا وہ اسکے نزدیک چھوٹے چھوٹے قدم بھر نے لگا

عیشاء کی آنکھیں پھیل گئیں

ن۔۔۔ نہیں ز۔۔ زاویر آپ اپ ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ آپ ” وہ دور کرنے لگی

” کیوں عیشاء تم میری لگتی کیا ہو جو میں تمھارے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتا اسکے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا وہ اسکے بلکل نزدیک کھڑا تھا جبکہ عیشا ء دیوار سے

لگتی نیچے بیٹھتی چلی گئی
تمھاری جیسی او ور سمارٹ اور ایک بات کو لے کر بیٹھ جانے والی لڑکیوں کا انجام ایسا ” ہی ہونا چاہیے

دور ہو جائیں مجھ سے کبھی بھی آپ سے شادی نہیں کروں گی ” وہ چلا اٹھی وہ اسکے

سامنے بیٹھ گیا جبکہ عیشاء اور بھی سمٹ گی اسکالباس مٹی سے بھر گیا تھا

تم بلا وجہ محنت کر رہی ہوا گر یہ سوچ رہی ہو کہ میں تم پر ترس کھاو گا تم تو جانتی ہو

مجھے اچھا انسان تو ہوں ہی نہیں میں تمھاری عزت یہیں لوٹ لوں گا پھر بھی تمھیں چھوڑو گا نہیں پھر جس طرح چاہو میرے ساتھ رہو کیونکہ یہ لکھا گیا ہے تم میری ہو

۔” وہ کافی سنجیدگی سے بول کر اسکی پھیلتی ہوئی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا عیشاء اور بھی سمٹ گی بری طرح رونے لگی اور جیسے ہی زاویر کا ہاتھ اسکے دوپٹے پر
زاویر آپ ایسا نہیں کر سکتے ” وہ چلا اٹھی

میں ایسا ہی کروں گا ” وہ بھی جیسے ضد اور غصے میں ہر حد پار کر دینا چاہتا تھا عیشاء اسے دور دھکیل کر بھاگی تھی اسنے دروازہ پیٹ ڈالا مجھے بچاؤ پلیز مجھے بچاؤ” وہ
سسکیوں سے رودی جبکہ زاویر غصے سے پاگل ہوتا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی سمت کھینچ گیا اور جھٹکے سے اسکی گردن سے دوپٹہ نوچ کر پھینکا

نہیں زاویر اپنے آپ کو میری نظروں میں اتنا نہ گرائیں چھوڑیں مجھے ” وہ جیسے بن پانی کی مچھلی سی بن گئی

بس چپ ” وہ دھاڑا ٹھا جبکہ عیشاء کا چہرہ سرخ ہو گیار ورو کر اسنے اپنی آنکھیں سجا ۔ لیں تھیں

جبکہ زاویر نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھ کی فولادی گرفت میں جکڑا ۔۔۔ تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں

” اس مٹی میں خاک ہونا چاہتی ہو یہ شرافت سے نکاح کروگی وہ سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑ کر بولا جیسے اگر وہ انکار کرے گی تو وہ کسی درندے کی طرح اسے بے آبرو کر کے اسے پھر بھی خود کے ساتھ رہنے پر مجبور کرے گا

عیشاء اسکے ہاتھوں میں ہی بری طرح روتی چلی گئی

جبکہ زاویر ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
تمھاری اکر توڑنے کا جو مزاہ ہے وہ مزہ کسی چیز میں نہیں ویری گڈ میں قاضی کو بلاتا ہوں ” اسنے دروازہ کھولا اور اسکاد و پٹہ اسکے اوپر ڈال لیا عیشاء زمین پر بیٹھ گی

👉 Link in comment section…👇

Leave a Comment

Your email address will not be published.