ik ada thi yeh by Mumtaz kanwal complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“تمیز سے بیٹھو۔یہ الٹی سیدھی بکواس نہیں چلے گی۔سنجیدگی سے پڑھنا ہے تو پڑھو ورنہ چلتے پھرتے نظر آؤ۔”یہ حارث اور زرتاج کی مجبوری تھی جو جبر کرکے وہی بیٹھے رہے ورنہ اس جیسے سریل مزاج آدمی سے کون پڑھتا۔زرتاج اس کے سامنے آکر بیٹھنے لگی تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس کے حلیے پہ غور کرنے لگا۔عجیب اول جلول سا حلیہ ہوتا تھا اسکا۔ڈوپٹہ پیلا تو قمیض ہری اور شلوار کالی۔بال کبھی تو کنگھی کیے ہوتے اور کبھی گھونسلہ سہ سر لیے آجاتی اور ذرا کوئی بات سمجھ نہ آتی تو سر کھجانا شروع کردیتی۔دس دفعہ اسے ٹوک چکا تھا۔
“حد ہے گندگی کی۔”اس وجہ سے وہ اس کے ہاتھ سے کوئی چیز لے کر کھانا پسند نہیں کرتا تھا۔دماغ میں اتنا بھس بھرا ہوتا تھا کہ مشکل ہی کوئی بات سمجھ آتی تھی۔اس دن بھی وہ اسے Tens کا استعمال سمجھارہا تھا۔ایک بار دو بار تین بار اور چوتھی بار بھی جب اس نے غلطی کی تو مارے طیش کے اس نے اس کے رخسار پہ تھپڑ جڑدیا اور حسب معمول اس نے بھاڑ سا منہ کھول کر رونا شروع کردیا۔
“شٹ اپ۔خاموش رہو۔منہ بند رکھو۔”وہ چیخا۔
حارث منہ کھولے یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔زرتاج نے کاپی اٹھا کر عزم کے منہ پہ ماری اور پاؤں پٹختے ہوئے چلی گئی۔عزم اس کی حرکت پہ ہکا بکا رہ گیا۔
“تم کیا احمقوں کی طرح منہ اٹھائے بیٹھے ہو۔مضمون یاد کرو اپنا۔”وہ پلٹ کر اس پر چیخا۔
“کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔”حارث نے دل ہی دل میں کہا۔
“چلو اچھا ہی ہوا جان چھوٹ گئی۔اب وہ پڑھنے کو نہیں آئے گی”مگر اس وقت وہ اس کے ڈھیٹ پنے پر حیران رہ گیا جب دوسرے دن ٹھیک سات بجے وہ اس کے کمرے میں موجود تھی۔

Ik-ada-thi-yeh-by-Mumtaz-kanwal

Leave a Comment

Your email address will not be published.