Kaanch ki Chooriyan by zoya majeed Chaudhary|Complete urdu novel 2023|html|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
kaanch ki chooriyan,written by zoya majeed,social romantic novel,village based czn marriage based,full of suspense and thrill and fun.

“اوو شٹ یہ خون تو تمہاری کلائی سے نکل رہا ہے ، لگتا ہے چوڑی لگ گئی، رکو میں بینڈیج کرتا ہوں ۔۔”
وہ اپنے ہاتھ کا زخم بھول کر اس کی کلائی دیکھنے لگا۔
“یہ کلائی سے نہیں میرے دل سے خون نکل رہا ہے حنان اور مجھے اب کسی مرہم کی ضرورت نہیں ، خاص طور پر تمہارے ہاتھ کے لگے مرہم سے ۔”
اس نے روتے ہوۓ کہا اور جانے لگی تو حنان نے پھرتی سے اس کا ہاتھ تھاما۔ حنا کے آنسو دل پر گرے تھے۔
“حنان لیو می، تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے ، بہت زیادہ، یہ چوڑیاں نہیں چور چور ہوئیں میرا دل چور ہوا ہے اور وہ بھی تم نے اپنے ہاتھ میں لے کر کیا ہے ۔۔”
وہ بے دردی سے گال رگڑتے ہوۓ بولی ۔
“فائن جو ہوا سو ہوا لیکن بینڈیج کیے بنا میں جانے نہیں دوں گا، اس لیے شرافت سے بینڈیج کراؤ۔”
اسے سچ میں حنا کا زخم تکلیف دے رہا تھا۔
“کیوں کرو ؟ تم ہوتے کون ہو؟”
وہ دبے لہجے میں چلائی۔


“سٹاپ کرائنگ حنا۔”
اس نے سرخ ہوتی آنکھوں سے کہا۔
“بند کر دو ہمدردی کا ڈھونگ ،۔ دیکھ لی ہے تمہاری اصلیت میں نے حنان ۔۔”
وہ غصے سے چلاتے ہوۓ بولی اور چلی گئی۔ حنا نے مکا بنا کر دیوار پر مارا اور اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں سے قطرہ قطرہ خون رس رہا تھا لیکن اسے گویا پرواہ ہی نہ تھی۔
“سارا غصہ ، نفرت ایک جانب مجھے اس کی چوڑیاں نہیں توڑنی چاہیے تھیں کبھی نہیں ، وہ چوڑیوں کے معاملے میں کتنی ٹچی ہے ، اس غم کو شاید سینے سے لگا لے ۔۔۔”
وہ لب بھینچے بیٹھ گیا اور بالوں کو ہاتھوں میں جکڑا۔
“وہ بینڈیج نہیں کرے گی اور بینڈیج کے بنا خون نہیں رکے گا ، مجھے خود جانا پڑے گا۔ حنان کِل یور ایگو۔”
وہ اٹھا اور ایک چوڑی کو اٹھا کر اپنی کلائی پر مارا۔
“آآآہ ہ۔۔”
اس نے کراہ لی، کہنی سے بھل بھل خون بہنے لگا اور بینڈیج اٹھا کر اس کے روم کی طرف آ گیا تھا۔

kaanch-ki-chooriya-by-Zoya-majeel-chaudhary-complete-urdu-novel-2023-html

ناول پڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنا نہ بھولیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.