Kha a k ruky thy raste by hina malik complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“لائیے وہ اجازت نامہ میں دستخط کردیتی ہوں۔”سرخ ہوتی ناک اور آنکھوں میں وہ بےحد معصوم لگ رہی تھی۔ولید زیرلب مسکرایا۔
“کیسا اجازت نامہ۔”
“دوسری شادی کا اور کونسا۔”وہ خفا خفا سی رخ موڑ گئی۔ولید کی نگاہیں اس کی پشت پہ بکھرے سنہری مائل براؤن سلکی بالوں پر ٹھہر گئیں۔شاید نہانے کے بعد بال اب تک نہیں باندھے تھے۔
“اوہ۔تو آخر تمہیں معلوم ہو ہی گیا۔چلو اچھا ہے مجھے ذیادہ تردد نہیں کرنا پڑا۔”چہرے پہ سنجیدگی طاری کیے وہ بول رہا تھا۔شہزین کے دل پہ منوں بوجھ آ گرا۔
“اچھا اب یہ تو بتادو کہ تم جا کہاں رہی ہو۔”
“ساہیوال بوا بیگم کے پاس۔”روٹھے روٹھے انداز میں بولتی وہ دوبارہ سوٹ کیس سیٹ کرنے لگی۔
“کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ اکثر حسین لڑکیاں عقل سے پیدل ہوتی ہے۔”اس نے شانوں سے تھام کر اسے مقابل کرتے ہوئے کہا۔شہزین نے الجھ کر اس کی طرف دیکھا۔
“تم سے کس نے کہا کہ میں دوسری شادی کررہا ہوں۔”
“میں نے خود اندازہ لگایا ہے۔”وہ سر جھکا کر بولتی سیدھا دل میں اترگئی۔
“بہتر ہوتا کہ تم یہ الٹے سیدھے اندازے لگانے سے بہتر شوہر پہ توجہ دیتی۔”شہزین نے الجھ کر اس کی طرف دیکھا۔آج تو نگاہیں بھی بدلی ہوئی تھی اور انداز بھی۔
ایسے مشکوک انداز میں کیوں دیکھ رہی ہو۔
“ولید چاچو آپ۔۔۔”
“لاحولہ ولا قوة۔ اب تو چاچو کہنا چھوڑ دو۔”وہ خوصا بدمزہ ہوا تھا۔
شہزین شرمندہ ہی ہوگئی۔ولید کی آنکھوں میں جو پیام تھا۔وہ پڑھ کر خودبخود اس کی نگاہیں جھک گئی۔

kha-a-k-ruky-thy-rasty-by-hina-malik

Leave a Comment

Your email address will not be published.