mere hamnava mere maherban by saira mishal complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“تم اپنے بالوں کو پیچھے کر دو۔”وہ تذبذب سے گویا ہوا۔
“کیوں۔”ہانی نے ناک کے نتھنے پھلا کر تیکھے زیتون سے گھورا۔ احسن سیڑھیاں اتر کر اس کے مقابل ا کھڑا ہوا اور اپنے جذبے لٹاتی نگاہیں اس کے چہرے پر فوکس کی۔
“تمہارا بیک سائیڈ گلا خاصا گہرا ہے۔باہر مکس گیدرنگ چل رہی ہے تمہارا اس طرح جانا مناسب نہیں ہے۔” احسن نظریں چرا کر متامل سا گویا ہوا۔احسن کی بات پر اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
“ہہاؤ ڈیر یو تم ہوتے کون ہو مجھ پر حکم چلانے والے اپنے یہ آرڈر اپنی کسی ہوتی سوتی پر چلانا سمجھے۔”وہ غصے سے آگ بگولا ہو کر پھنکاری۔ احسن کے لبوں پر محظوظ کن مسکراہٹ در آئی۔
“اس لیے تمہیں کہہ رہا ہوں کیونکہ مستقبل قریب میں تم ہی تو میری ہونے والی ہو۔”اس کے لال بھبھوکا چہرے سے حظ اٹھاتے متبسم نظروں سے دیکھتے ہوئے شوخی سے گویا ہوا ۔احسن کے شوخ الفاظ پر وہ سر سے پاؤں تک دھر دھر جلنے لگی۔
ْ”کیا بکواس کی تم نے ہاں لگتا ہے دل میں کچھ زیادہ ہی خوش فہمیاں پال رکھی ہیں تم نے مگر اپنے دل و دماغ سے یہ بات کھرچ کرنے کا دو میں لعنت بھیجتی ہوں تم پر بھی اور تم سے استوار ہونے والے رشتے پر بھی ایسا مستقبل میں تو کیا اگر تم ایک زندگی اور بھی لے لو تو تب بھی میں ہونے نہیں دوں گی میں تم سے نفرت کرتی آئی ہوں آئی سمجھ۔”حسن کی جانب حقارت سے دیکھتے ہوئے وہ غصے سے پھنکاری۔اس کا تحقیر آمیز انداز احسن کو شدید ذلت کے احساس سے دوچار کر گیا اس نے بڑی اذیت سے جڑوں کو بھینچا۔
“اس نفرت کی وجہ جان سکتا ہوں۔”اپنے کرب زدہ نظریں اس کے نخوت زدہ چہرے پر گاڑھ کر ضبط سے پوچھا۔جوابا وہ استہزائیہ مسکرائی۔
“یہ سوال تم آئینے میں اپنے اپ کو دیکھ کر خود سے کرو تمہیں جواب مل جائے گا۔”تمسخر اڑاتی نظروں سے اس کو دیکھ کر جانے لگی۔ احسن نے فورا اس کی کلائی تھامی۔

mere hamnava mere maherban by saira mishal

Leave a Comment

Your email address will not be published.