Mere Khawab by Maryam Mah munir Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“ڈیڈ پلیز میں یہ بچپن کے نکاح کو نہیں مانتا۔”
“لیکن تمہارا نکاح۔”
“فور گاڈ سیک ڈیڈ۔ فضول کا لیکچر مت دیجئے گا اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میری جان طلاق کے تین الفاظ سے چھوٹ سکتی ہے تو اٹس اوکے میں اگلے ہی ہفتے بنوا کر بھیج دوں گا اپ کو بائے میل مل جائیں گے ڈیورس پیپر۔”
“بکواس بند رکھو مجید میری یہ تربیت۔”
“پلیز ڈیڈ جب آپ نے نکاح کیا تھا تو پوچھا تھا؟آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔”
“لائف از نوٹ آ جوک۔ ماں باپ نے جس کے پلے چاہا باندھ دیا جس کو جانتے بھی نہیں بچپن میں دیکھا ہاں جھلک یاد ہے لیکن کیا زندگی ایسے گزاری جا سکتی ہے۔”ثنا اللہ صاحب بیٹے کی بات پر خاموش سے ہو گئے تھے۔
“تم صنوبر کو ایک مرتبہ دیکھ لو تم کہو تو اس سے بات کرو بہت اچھی ہے۔تمہاری زندگی اچھی ثابت ہوگی مجھے پورا یقین ہے۔”ثنا اللہ صاحب نے اپنے طور پر اس کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
“تم بدل گئے ہو۔”ثنا اللہ صاحب پہ ہی بنانا رہ سکے تھے۔
“لیو اٹ ڈیڈ آپ یہ بتائیے کہ میں ڈائیورس پیپر کب بھیجوں۔؟”
“اب یہ نہ کہیے گا کہ اس لڑکی کو یو کے بھیج دیتا ہوں۔”
“میں تمہیں فورس بھی نہیں کروں گا اب تو تمہارے آگے درخواست ہی کر سکتا ہوں اگر بوڑھے باپ کے لیے اتنا کر سکو۔” اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئے تھے۔
“بولیے سوچ کر بتاؤں گا۔”
“تم صنوبر کو طلاق نہیں دو گے۔”
“یومین اس کا دم چھلا میری جان کے ساتھ لگا رہے گا۔”مجید کی آواز ایئر پیس پر ابھری تھی جو ثنا اللہ صاحب کے کانوں کے پردوں سے ٹکرائی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.