Muhabbat la mehdood hoti he by Kanwal riaz Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“تم ام اسوہ سے نکاح کر لو۔”اسفند نے گویا دھماکہ کیا تھا۔عباس حیدر بیٹھے سے فورا اٹھ کھڑا ہوا۔
“دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا یہ بھلا کس طرح ممکن ہے۔ایک تو مجھ سے اتنی چھوٹی ہے عمر میں اور دوسری میری منگنی ہو چکی ہے۔”عباس کی بات پر اسود نے گہری سانس بھری۔
“عباس ٹھنڈے دماغ سے سوچو تو اس کا صرف یہی حل ہے۔ہم ام اسوہ کے لیے بھی مصیبت کھڑی کر دیں گے اور اس کا بھی تو سوچو نا یار وہ بیچاری بدنامی کے بعد کہاں قابل قبول رہے گی کسی اور مرد کے لیے۔”اسفند کے کہنے پر عباس گم صم کھڑا رہا۔اس نے بولنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنا چاہے لیکن وہ تو جیسے گم ہو گئے۔
“عباس یہ سب کیا ہے ابھی ابھی تمہارے مامو کا فون آیا ہے ہادیہ نے رو رو کر آسمان سر پہ اٹھا لیا اور اس رشتے سے بھی انکار کر دیا ہے۔میرا دل نہیں مانتا عباس۔مجھے سچ بتاؤ ورنہ میرے دماغ کی نس پھٹ جائے گی۔” بے تحاشہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ زاہدہ بیگم دروازے کے بیچ و بیچ کھڑی سراپا احتجاج تھیں۔
“امی وہ لڑکی ام اسوہ ہے۔”عباس نے دھیمے لہجے میں کہا اور ماموں کی بےاعتباری نے گویا اسے مار ہی دیا تھا۔
“بیچاری معصوم بچی اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو یوں اس طرح سے اسے تماشہ بنا دیا میں ابھی جا کر تمہارے ماموں کو ساری حقیقت بتاتی ہوں۔”ظاہرہ بیگم واپسی کے لیے مڑی۔
“نہیں امی مجھے اپنی بے گناہی کے اشتہار نہیں لگوانے جنہیں ایک عمر میرے ساتھ بتا کر بھی میری کردار کے پاکیزگی پر شک ہے وہ مدتوں بھی یونہی بے اعتبار رہیں گے اور مجھے اپنے رشتے کی بنیاد اتنے بودے جذبات پر نہیں رکھنی اچھا ہوا انہوں نے خود ہی انکار کر دیا ورنہ اگر ہمیں کرنا پڑتا تو آپ کو خواہ مخواہ شرمندگی اٹھانا پڑتی۔”عباس کی بات پر زاہدہ بیگم نہ سمجھی کے عالم میں انہیں دیکھنے لگی۔

Muhabbat la mehdood hoti he by Kanwal riaz

Leave a Comment

Your email address will not be published.