Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.
شہرام چھوڑیں کیا کررہے ہیں۔غازان کے سکول کا وقت ہورہا ہے اور آپ یہ سب۔
وہ کسمساتے ہوئے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی مگر اس کے چہرے پہ چھائی معنی خیزی دیکھ پریسہ کے چہرے پہ سرخی پھیلی تھی۔
اب ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے۔
وہ نظریں چڑاتے ہوئے تنک کر بولی۔
کیا یہ اب مجھے تفصیل سے بتانا ہوگا۔
وہ ہنستے ہوئے بولا۔پریسہ نے غصیلی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا اور پیر پٹخ کر رہ گئی۔
آپ انتہائی بےشرم ہیں شہرام۔ایسے کون گھورتا ہے بھلا۔
وہ دانت کچکچاتے ہوئے بولی۔شہرام نے گہری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا اور اسے وارڈروب سے لگاتے اس کے اطراف میں ہاتھ رکھے تھے۔
میں دیکھتا ہوں اپنی بیوی کو۔روک سکتی ہیں کیا۔
وہ اس کے چہرے پہ جھکا گہرے لہجے میں اس سے پوچھ رہا تھا۔پریسہ کی پلکیں کپکپاتے سرخ عارض پہ جھک گئی۔
یہ بات بات پہ شرما کر آپ شاید مجھے قابو کرنا چاہتی ہے۔
وہ بھنویں اچکاتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔
پری۔
اسی دوران اچانک ہی غازان اسے پکارتے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سٹپٹا کر اس کا حصار توڑتے پیچھے ہٹی تھی۔
لو آگیا آپ کا ننھا سکیورٹی گارڈ۔
وہ سر جھٹک کر بولتے دوبارہ آئینے کی جانب متوجہ ہوگیا۔اس سے پہلے کہ وہ شال لینے کیلیے وارڈروب کی جانب بڑھتا پری اسے ٹوکتے خود وارڈروب کی جانب بڑھی تھی۔
اج میں آپ کو شال اوڑھاؤں گی۔
وہ مسکرا کر بولی اور شال لیتے دوبارہ اس کی جانب وابس آئی تھی۔
یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں خانم۔
اس نے ایک نگاہ اس کے لمبے قد پہ ڈالی اور بمشکل مسکرادی۔
پری آپ ڈیڈا سے کافی چھوٹی ہیں۔
غازان کو سنجیدگی سے صورتحال کا ملاحظہ کررہا تھا چونک کر بولا۔پریسہ کا چہرہ اس کے تبصرے پہ خجالت کے احساس سے سرخ پڑگیا۔شہرام اس کی بات پہ مسکراہٹ دباتے آنکھیں دکھا کر رہ گیا۔
جب اپنی اولاد ہی چھوٹے قد کا طعنہ مارے گی تو میں باقیوں سے کیا امید رکھوں گی۔
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔غازان نے ایک نظر کونے میں رکھے سٹول پہ ڈالی اور اس کی مدد کی خاطر وہ سٹول لاتے اس کے نزدیک رکھا تھا۔پریسہ کا منہ اس کی حرکت پہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
پری آپ اس پہ کھڑی ہوجائیں ایسے اونچا ہونگی تو آپ کی ٹانگیں تھک جائیں گی اور پھر جب آپ کو درد ہوگا تو مجھے اچھا نہیں لگے گا۔
وہ پریشان کن لہجے میں بولتے اسے ساکت کرگیا۔اس نے ٹھٹھک کر اس کی جانب دیکھا جس کے چہرے پہ وہی اذلی معصومیت تھی۔اسے اب سمجھ آیا کہ وہ جو کچھ دیر قبل اس نے تبصرہ کیا تھا وہ کوئی طنز نہیں بلکہ اس کی پریشانی میں گھل کر کیا گیا تھا۔وہ جھینپتے اس سٹول پہ کھڑی ہوگئی۔غازان نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا جو اب پوری دلجمعی سے اس کے شانے پہ شال رکھتے اس کی مونچھوں کو سنوار رہی تھی۔
“انکل بہت پوزیسو ہے آپکی ہونے والی بہو۔وہ کیا ہے نا آپ کے بیٹے کی محبت میں پور پور ڈوبی ہوئی ہے۔”
ارتضی نے انہیں تسلی نہیں چاہی۔
“پوزیسونس کو گولی مارو میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ میرے اس جاہل سپوت کی نا گھر میں عزت ہے اور نا ہی باہر۔”
وہ اپنا سر پیٹتے ہوئے بولے۔اس لڑکے نے انہیں ہر جگہ ذلیل کروا کر رکھ دیا تھا۔
“انکل میری بات سنیں۔یہ جو آپ کا بیٹا ہے نا انتہائی شوخا کمینہ لچا لوفر ہے۔مجھے نیچا دکھانے کی خاطر اپنی بہن جیسی کے ساتھ یہ حرکتیں۔”
“توبہ توبہ استغفراللہ استغفراللہ۔”
فارس کانوں کو ہاتھ لگاتے اونچی اونچی بڑبڑایا۔
“مجھے اب کیا کرنا ہے یہ بھی بتادو۔تمہارے ساتھ کہی جانے سے بہتر ہے میں گھر میں بند ہوکر بیٹھ جاؤں کم از کم شرمندگی تو نہیں ہوگی مجھے۔”
آفتاب اسے مسلسل مسکراتا دیکھ غصیلے لہجے میں بولے۔
“اسے گولی ماریں انکل میں بتاتی ہوں آپ نے کیا کرنا ہے۔آپ کو میرا رشتہ مانگنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے۔میں پہلے ہی راضی ہوں اس رشتے پہ آپ کا بیٹا تو شروع سے ہی مجھ پہ فدا ہے۔مزید کسی چیز کی گنجائش نہیں بچتی۔اب بس آپ شادی کی تیاریاں کریں بس بات ختم۔”
وہ بنا سانس روکے بولتی گہرا سانس بھر اٹھی۔
“جی اچھا بہتر۔بیٹا کیا کم تھا جو بہو بھی ایسی نصیب میں لکھی گئی ہے۔”
وہ کلثوم کے کان میں جھکتے بڑبڑائے۔
“کیا کہ سکتے ہیں اس نے اپنے جیسی ہی پسند کی ہے۔بیٹا بھی ایسا بہو بھی ویسی اب بس آج سے مصلحے پہ بیٹھ کر ایک ہی دعا مانگنا باقی رہ گیا ہے کہ اولاد ان کے جیسی نا ہو۔”
وہ اس سب سے نہایت عاجز دکھائی دے رہی تھی۔





































































































