Namal by Nemrah Ahmed complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

نمل ناول سے اقتباس

’’اگر نماز سمندر ہے تو میں تمہارے ساتھ ایک قطرہ ہی شیئر کر پائی ہوں۔ اس کا مطلب اس کی پابندی کے ساتھ ہی کھلتا جائے گا تمہارے اوپر‘ لیکن اگر تم اس کا مطلب سمجھ جاؤ تو یہ تمہارے اوپر آسان ہو جائے گی ۔ تم اس کا انتظار کرو گی ‘ کیونکہ تمہارے پاس ہر نماز میں الله سے شیئر کرنے کے لئے بہت کچھ ہو گا۔ تمہیں ا س میں مزہ آنے لگے گا۔ یہ الله سے ’’بات کرنا ‘‘ ہے۔ یہ معراج پہ عطا کی گئی تھی رسول الله ﷺ کو۔ معراج پہ وہ الله سے ہم کلام ہونے گئے تھے ۔ ہم تو نہیں جا سکتے آسمانوں پہ ‘ ہم تو طور پہ بھی نہیں جا سکتے ‘ تو ہمارے شوقِ کلام کی لاج الله نے نماز کے ذریعے رکھ لی۔ ہمارا طور‘ ہماری معراج ہماری نماز ہے۔اس کی عادت پکی ہونی چاہیے‘ کیونکہ اگر ہم اپنے بچوں کو نماز کے لئے ویسے نہیں اٹھاتے جیسے اسکول کے لئے اٹھاتے ہیں تو ہم ان کو ساری عمر کے لئے اندھے کنویں میں دھکیل دیتے ہیں۔ سردی ہو ‘ یا گرمی ‘ بچہ تندرست ہے یا بیمار‘ اسے پیار سے پکارنا پڑے یا کان سے پکڑ کر بستر سے کھینچ کر نکالنا پڑے‘ اسے اٹھایا جانا چاہیے۔ اسکول کے لئے اٹھاتے تو ہمیں ان کو سوتے دیکھ کر ترس نہیں آتا‘ پھر نماز کے لئے اٹھاتے وقت کیوں آ جاتا ہے!‘‘
………………………………………………………………….
’’بچہ نماز نہ پڑھے تو اسے سمجھانے‘ ڈانٹنے‘ پھر مارنے تک کا حکم ہے۔ تو بچہ پھر کیوں پڑھے گا؟ ماں باپ کے ڈر سے نا؟ تو کوئی بات نہیں۔ کسی کے ڈر سے تو پڑھے گا۔عادت بنے گی۔ بڑا ہو گا تو خود سمجھ جائے گا۔ تم بڑی ہو‘ مگر ابھی ’’نماز‘‘ میں grow نہیں کیا تم نے۔ آہستہ آہستہ کرو گی‘ پھر اللہ کا ڈر آتا جائے گا۔ سو حنین‘ اچھی عادتیں ڈالنے کے لیے کوئی ڈنڈا ملے یا کوئی انسپریشن ملے‘ وہ لے لینی چاہیے۔ تم اللہ کے لیے ہی یہ کر رہی ہو نا۔‘‘
……………………………………………………………………….
زندگی میں پہلی دفعہ حنین یوسف کو سمجھ آیا تھا کہ بچے کو نماز پڑھانے کے لیے ماں با پ کو ان پہ سختی کیوں کرنی چاہیے۔عادتیں ڈالنے کے لیے سختی کرنی پڑتی ہے۔

Namal by Nemrah Ahmed

All rights reserved to novelslounge.com

Leave a Comment

Your email address will not be published.