Tujh ko qasam he meri by Sadia abid complete urdu novels 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“چائے لے لو فرخ ٹھنڈی ہورہی ہے۔”تنویل شاہ نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا اور پھر خود ہی شرٹ کے اوپری بٹن کھولتے ہوئے چائے کا کپ اس کی جانب بڑھایا تھا جسے تھینکس کہ کر تھام لیا گیا تھا۔
کمرے میں ایکدم خاموشی چھاگئی۔فرخ نے جلدی جلدی چائے ختم کی اور کپ میز پہ رکھتے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔تنویل شاہ مڑا اور فخر گھبرا کر پیچھے ہوا تو اسے گرنے سے بچانے کیلیے کمر سے اسے تھام لیا۔خوبصورت گرے آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں ہلکورے لے رہی تھی۔ایک جھٹکے سے تنویل شاہ نے اس کا بازو چھوڑا اور ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پہ لگایا۔ایسی کوئی اسے امید نہیں تھی۔وہ لڑکھڑا کر کارپٹ پہ جا گرا تھا۔جب وہ حیرت سے سیدھا ہوا تو کچھ نیچے جاگرا تھا۔جس بات پہ کافی عرصے سے پردہ ڈالا جارہا تھا وہ کھل کر سامنے آگیا تھا۔
“واٹ از دس مسٹر فرخ۔”اس نے مسٹر فرخ بہت چبا چبا کر نہایت غصے سے کہا تھا۔
“سر۔۔یہ۔۔وہ۔۔میں۔”زبان لڑکھڑا کر رہ گئی تھی۔تنویل شاہ نے گھورتے ہوئے اسے دیکھا اور ایک بار پھر اپنے آپ کو روک نہ پایا۔
چٹاخ۔تنویل شاہ نے جنونی انداز میں کارپیٹ پہ بیٹھی سسکیاں لیتی اس دھوکے باز کو اپنے مقابل کھڑا کیا۔
“کیوں جھوٹ بولا۔تمہیں شرم نہ آئی سب کو لڑکا بن کر دھوکا دیتے ہوئے سب کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے جواب دو۔”
“میں نے کسی کو دھوکا نہیں دیا۔”نسوانی آواز ابھری۔
“تم نے کسی کو دھوکا نہیں دیا اور کیسا ہوتا ہے دھوکا جھوٹی لڑکی۔اب بند بھی کرو جھوٹ بولنا۔بہت دے چکی تم لڑکا بن کر ہمیں دھوکا۔کیوں تم نے ایک لڑکی ہوتے ہوئے بحیثیت مرد میرے آفس میں جاب کی۔”
“میری مرضی میں کچھ بھی کرو۔آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے جواب طلبی کرنے والے۔”وہ بھی اس کے سوال پہ اس سے ذیادہ غصے سے چلائی۔

Tujh ko qasam he meri by Sadia abid

Enjoy reading:)

must give your reviews after reading

All rights reserved to Novelslounge.com

Leave a Comment

Your email address will not be published.