Udaan by Qanita Khadija Complete Urdu Novel 2023 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

“خان۔۔۔وہ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے‘‘ انگلیاں مروڑتے، ہچکچا کر بولی۔

“بولو‘‘ نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے اجازت دی گئی۔

“وہ خان وہ مجھے۔۔۔”

“کیا وہ، وہ لگا رکھی ہے‘‘ حالانکہ اسکا انداز سادہ سا تھا مگر ناجانے کیوں روشانے کو اپنی بے عزتی محسوس ہوئی، احساس توہین سے اسکی آنکھیں بھر گئی مگر یہ وقت رونے کا نہیں تھا۔

“خان وہ میں۔۔۔وہ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی‘‘ بلآخر اپنی بات اسنے ایک ہی سانس میں کہہ ڈالی۔آنکھیں سختی سے بند کیے وہ اسکے جواب کی منتظر تھی مگر جب کافی دیر بعد جواب نا آیا تو آنکھیں کھول کر اسے دیکھا، جو ویسے ہی لیپ ٹاپ میں مصروف تھا،اب کہ اسکو غصہ چڑھ گیا۔

“خان میں نے کچھ کہا ہے‘‘دبے دبے غصے میں وہ اس سے مخاطب ہوئی۔

“کیا بولاتھا تم نے؟‘‘ وہ یوں بولا جیسے اسنے سنا ہی نہ ہو۔

“میں نے کہا مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی‘‘مٹھیاں بھینچے،غصہ دبائے، وہ دانت کچکچا کر بولی۔

“وجہ‘‘ نظریں ہنوز لیپ ٹاپ پر تھی۔ “مجھے پتا ہے کہ آپ نے فوج میں کسی بریگیڈیر کی بیٹی کو پسند کیا ہوا ہے اور مجھ سے شادی صرف اسلیے کررہے کہ آپ کو عاق نا کردیا جائے‘‘ وجہ بیان کرتے کرتےآخر میں اسکی آواز بھیگ گئی۔

“میں جانتی ہوں شادی کے بعد آپ مجھے چھوڑ دے گے،کیونکہ آپ کو بیٹی نہیں چاہیے،اور آپ بیٹے کے لیے اس بریگیڈیر کی بیٹی سے شادی کرلے گے اور مجھ سے نفرت کرے گے‘‘۔ کہتے ہوئے آخر میں وہ رو پڑی اور خان کا دل چاہا کے وہ اس بے وقوف کی سوچ پر ہنسے،مگر اسکے آنسوں دیکھ کر دل میں انہیں اپنے ہاتھوں سے چھونے کی خواہش جاگی مگر نہیں یہ سہی وقت نا تھا۔ “روشانے ایک بات میری اپنے دماغ میں بٹھا لوں۔۔۔ تم مجھے ایک تو کیا چھ بیٹیاں بھی دو گی نا تب بھی یہ خان تمہیں نہیں چھوڑے گا‘‘آنکھوں میں شرارت کیے،سنجیدہ لہجے میں وہ بولا۔

“خان میں چھ بیٹیاں نہیں پیدا کر سکتی‘‘کہہ وہ پھر سے رونے میں مصروف ہوگئی۔اور خان تو اسکو دیکھ کر رہ گیا،یعنی کے اسکے احساس جزبات،جو اتنی دیر سے وہ اسے کہہ رہا تھا،سب بکواس تھا۔

Udaan By Qanita Khadija

Leave a Comment

Your email address will not be published.