Zindan-e-Mohabbat by Qanita Khadija// Epi 13// Online Reading Novel

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for Social media writers to publish their content.

“سکندر!” مانوس آواز پر انہوں نے آنکھیں کھولی
سامنے موجود عائزہ کو دیکھ کر آنکھوں میں انجانی خوشی درآئی۔
“عائزہ۔۔۔”
“قریب نہیں آئیے گا سکندر۔۔۔ آپ، آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں سکندر؟۔۔۔اپنی بیوی کےساتھ؟۔۔۔ یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے اس سب کے قصوروار آپ ہے سکندر۔۔۔ یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے سکندر۔۔”
“نن۔۔۔نہیں عائزہ ایسا مت کہو۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ پلیز عائزہ میری بات سنو۔۔۔ یوں مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ۔۔۔ عائزہ رک جاؤ۔۔۔عائزہ”وہ چلائے مگر انہیں سننے والا وہاں کوئی نہیں تھا۔
“بابا۔۔۔بابا۔۔۔” اچانک کانوں سے ایک کم سن بچی کی آواز ٹکڑائی۔
پانی کی شور کرتی لہروں کی جانب دیکھا تو آنکھیں پھیل گئی۔۔۔ وہ مشعل تھی ان کی بیٹی۔۔۔ پانی کی لہروں سے کھیلتی۔۔۔
“بابا آئے نا۔۔” اس کی پکار پر سکندر خوشی بخوشی اس کی جانب بڑھے۔
“بابا۔۔۔” یکدم اس کی آواز میں نمی گھل گئی۔
“بابا۔۔۔بابا بچائے مجھے۔۔۔ بابا۔۔۔” پانی کی لہریں اسے بہاتی اپنے ساتھ لے گئی۔
“مشعل۔۔۔ مشعل!” سکندر چلاتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگے۔
“مشعل!” وہ رو دیے۔
“یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے مرتضیٰ سکندر، اس سب کے قصوروار تم ہو۔۔” کئی آوازیں ان کے کانوں میں گونجنے لگی۔
“میں نے کچھ نہیں کیا ، کچھ نہیں کیا میں نے۔۔۔”
“میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ میں نے کسی کو نہیں مارا۔۔۔ اس سب میں میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔” پاگلوں کی طرح وہ بس یہی جملہ دوہرائے جارہے تھے۔

Zindan-e-Mohabbat by Qanita Khadija

Leave a Comment

Your email address will not be published.