Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.
شہرام پلیز رکیں۔شہرام۔
وہ اسے رکتے نا دیکھ غصے سے چلائی۔اس کے چلانے پہ شہرام نے سرد نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
بیوی ہیں یہ میری۔اپنی عزت پہ کوئی بات برداشت نہیں کرتا میں شکر کرو بچ گئے ورنہ شاید جان سے جاتے۔
وہ درشتگی سے پھنکارا اور سر جھٹکتے ہوئے آگے کی جانب بڑھ گیا۔
حیرت ہے اتنی سی بات ہے اتنا ذیادہ ردعمل دکھانے کی کیا ضرورت تھی نظرانداز بھی۔
تو آپ کے خیال میں وہ میری بیوی پہ تبصرہ کررہا تھا اور میں بےغیرتوں کی طرح آگے چل پڑتا۔
وہ پتھریلے لہجے میں بولتے پریسہ کو خائف کرگیا۔
مجھے لگا تھا کہ غاز کے ہوجانے کے بعد آپ کچھ سنبھل گئے ہونگے بدل گئے ہونگے غصہ پہ بھی کنٹرول کرلیتے ہونگے مگر آپ میں تو ریت کے ذرے برابر بھی فرق نہیں آیا۔اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ آپ کی فطرت کی ایسی ہے۔عادتیں تو چھوٹ بھی جائے فطرت کبھی نہیں بدلتی۔
وہ سر جھٹکتے ہوئے بولی۔
اگر بات آپ کے متعلق ہوگی تو ہاں میں کبھی نہیں بدلوں گا۔میری بات کان کھول کر سن لیں۔
وہ شہادت کی انگلی اٹھاتے اسے باور کرانے والے انداز میں بولا۔اسے شہرام کی بات سن اس دن کی غازان کی بات یاد آئی تھی۔
آپ دونوں باپ بیٹا تو مجھے لے کر واضح جنونی ہورہے ہیں۔وہ اس دن لڑکے کو پیٹ کر آگیا اور آج آپ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
وہ خوف سے جھرجھری لیتے ہوئے بولی۔
اچھی بات ہے کوئی آپ کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی جرأت نہیں کرسکتا۔
وہ جواب میں ایسے بولا جیسے غازان کی حرکت سے اسے کوئی فرق ہی نا پڑا ہو۔پریسہ لب بھینچ کر خاموشی سے اس کے قدموں کے ساتھ قدم ملانے لگی۔یہ ناراضگی کا واضح اظہار تھا۔کچھ دیر بعد اپنے شانے پہ کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس کر وہ نگاہوں کا زاویہ بدل گئی۔
یہ تم کس کے ولیمے پہ جارہی ہو جو اتنا سج دھج رہی ہو۔
وہ اس کی تیاریوں پہ ایک نظر ڈالتے حیرت سے بولا۔
تمہارے ولیمے پہ۔
جواباً وہ سرد لہجے میں بولی مگر میک اپ کرنا ابھی بھی ترک نہیں کیا تھا۔
مطلب مجھے دوسری تیسری اور چوتھی شادی کی اجازت ہے۔
وہ ایکدم خوشی سے تالی مارتے ہوئے بولا۔مریم اس کی بانچھیں دیکھتی رہ گئی۔
تمہیں شادی کرنے کا کچھ ذیادہ ہی شوق نہیں ہے۔
وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھ کر اس کی جانب رخ کرتے ہوئے بولی۔
شادی کا شوق کس کو نہیں ہوتا میری جان۔ایک یہی کام تو فارس پورے دل سے کرتا ہے کیونکہ شوق کا کوئی مول نہیں ہے۔
اور مجھے جنازے پڑھنے کا بہت شوق ہے فارس۔
وہ تلملا کر بولی۔فارس نے ہونقوں کی طرح اس کی جانب دیکھا۔
تمہاری طرح تمہارے شوق بھی انتہائی فضول ہے یم یم۔
وہ ہاتھ جھلاتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھ گیا جہاں سے میکس اندر آرہا تھا۔مریم اس کی پشت کو گھورتی رہ گئی جو اب اسے گود میں بھرے اس کی جانب ہی آرہا تھا۔وہ سر جھٹکتے دوبارہ آئینے کے سامنے رخ پھیر کر کھڑی ہوگئی۔کچھ لمحوں کی توقف کے بعد وہ دونوں اپنی تیاری مکمل کرتے جوں ہی نیچے لاؤنج میں پہنچے آفتاب صاحب غصے سے بھرے اسی کے منتظر تھے۔
مجھے لگا اگلی صدی میں ہی تم نیچے اترو گے۔
وہ تنک کر بولے۔فارس نے انہیں دیکھ کر بائیں آنکھ دبائی تھی۔
ڈیڈ میری بیوی ہی نہیں آنے دے رہی تھی اب آپ کی بیوی کی طرح میری بیوی مجھے کمرے سے باہر نہیں نکالتی نا۔
وہ مظلومیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے انہیں زچ کرتے ہوئے بولا۔
میری بیوی کی اتنی جرأت نہیں کہ وہ مجھے کمرے سے نکال سکے۔
وہ تفاخر بھرے لہجے میں بولے۔مقصد اسے جتانا تھا۔
چوبیس گھنٹے لاؤنج میں تو آپ ایسے بیٹھے رہتے ہیں جیسے آپ کی بیوی آپ کو کمرے میں گھسنے نہیں دیتی۔
وہ دل جلانے والے لہجے میں بولتے انہیں سلگا کر راکھ کرگیا۔
یہ میری اولاد نہیں ہوسکتی۔میں نے اپنی زندگی میں گناہ کیے ہونگے مگر اتنے سنگین کبھی نہیں کیے ہونگے جو یہ میرے نصیب میں لکھ دیا جاتا۔
وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گراتے تھکے تھکے لہجے میں بولے۔
چلیں اب آپ ہماری واپسی تک ذرا پچھتائیے ہم ڈنر اٹینڈ کرکے آتے ہیں چلیں بےبی۔
وہ مریم کے شانے کے گرد بازو حمائل کرتے اس کا ہاتھ چومتا ہوا بولا۔






































































































