Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|Episode 31-40|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.
you can find any kind of novel here..romantic novel,army based novel,university based novel,cousin marriage based.best urdu novel of all time.

“میں نے اپنی محبت کو دفنادیا ہے بابا جان۔اس کی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودی ہے۔اسے رلایا ہے میں نے بہت اب میں چاہ کر بھی وہاں واپس لوٹ نہیں پاؤں گا اور میں لوٹنا بھی نہیں چاہتا جب اتنے سال گزاردیے اس کی یادوں کے سہارے تو باقی بھی زندگی بھی گزر جائے گی۔میں بٹا ہوا شخص ہوں بابا جان اور وہ بلکل پاک صاف میری اولاد کسی کے وجود میں سانس لے رہی ہے میں مجھ سے بٹا ہوا شخص اسے نہیں سونپ سکتا کیونکہ وہ اس لائق نہیں ہے۔وہ جس لائق ہے اسے وہ بہت جلد مل جائے گا کیونکہ میری ہر دعا میں سب سے پہلے وہی ہوتی ہے اس کی خوشیاں ہوتی ہے۔سب سے دھوکا دے دیا اس ذات سے یہی امید ہے کہ وہ مجھے تنہا نہیں کرے گا۔”
وہ سپاٹ اٹل لہجے میں بولتے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور انہیں آرام کرنے کی تلقین کرتے اندر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔واقدار کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹتے اس کے گال پہ بہا تھا۔وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کرچکے تھے۔اس کے قدموں کی لڑکھڑاہٹ واقدار نے صاف محسوس کی تھی۔ایک عرصہ گزر گیا تھا وہ مسکرایا نہیں تھا اور وہ اس کی مسکراہٹ کے صدقے اتارنا چاہتے تھے مگر اس کی مسکراہٹ تو صرف ایک لڑکی ہی اسے واپس دلاسکتی تھی مگر کیا وہ اب بھی اس کی تھی۔
واقدار کے ذہن میں ایک سوالیہ نشان منڈلارہا تھا۔انہوں نے سختی سے آنکھیں میچتے اس لڑکی کا نام ذہن میں یاد کرنے کی کوشش کی تھی۔
“پریسہ۔”
ان کے لبوں سے سرگوشی کی صورت میں یہ نام ادا ہوا تھا اور اندر کمرے میں موجود شہرام کی آنکھ سے اسی لمحے ضبط کے باوجود ایک آنسو ٹوٹتے اس کی شیو میں جذب ہوا تھا۔

مگر میری بھی اس کیلیے ایک شرط ہے پری۔
وہ اس کی بات کو سرعت سے کاٹتے ہوئے بولے۔پریسہ کی چلتی زبان کو وہی بریک لگی تھی۔اس نے ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھا کیونکہ اب اسے بازی پلٹتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
جب بھی آپ کی وہاں سے واپسی ہوگی پھر آپ کو بغیر کوئی بہانے سے اسی شخص سے شادی کیلیے رضامند ہونا پڑے گا جس کے ساتھ میری مرضی سے ہوگی۔اگر آپ کو میری شرط منظور ہے تو پھر میں بھی آپ کی بات ماننے کو تیار ہوں مگر اگر آپ ایسا بھی نہیں چاہتی تو پھر مجھ سے بھی کوئی امید مت لگائیے گا۔
وہ اپنے لہجے کو حتی الامکان سخت بناتے ہوئے بولے۔پریسہ نے نم نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا۔ان کی بات پہ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کا دل کوئی مٹھی میں جکڑ رہا ہو۔
بابا پلیز ایسے تو مت کہیں نا میں وہاں سے کچھ بن کر لوٹوں گی تو شادی میں تو نہیں نا وہ سب صرف کردوں گی۔بھائی آپ بولیں نا پلیز۔
اس نے روتے ہوئے انہیں قائل کرنا چاہا مگر وہ تو جیسے ظالم بنے بیٹھے تھے۔اس کی بات پہ کان دھرنے کے بجائے رخ موڑے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کی بات نا ماننے کی قسم اٹھارکھی ہو۔
میں بلکل بھی کچھ نہیں بولوں گا میں تو تمہارے تنہا وہاں جانے پہ بھی رضامند نہیں ہوں ناجانے بابا نے کیسے اجازت دے دی۔ بابا آپ ایسے کیسے اجازت دے سکتے ہیں کیا آج کل کے حالات سے آپ واقف نہیں ہیں۔میں اتنا بڑا رسک اپنی بہن کو لے کر کم از کم مول نہیں لے سکتا۔
ان دونوں کی باتوں پہ پریسہ نے خاموشی سے چہرہ جھکالیا۔اس کی آنکھ سے دو آنسو ٹوٹتے خاموشی سے گال پہ بہ گئے۔شدت سے دل چاہا پھوٹ پھوٹ کر رودے۔
میری شرط منظور ہے یا نہیں۔
عادل کی سنجیدہ آواز پہ پریسہ نے نم پلکوں کی جھالڑ اٹھاتے ان کا چہرہ جانچا جہاں نرمی کا شائبہ تک نہیں تھا۔
میں تیار ہوں بابا۔
اس کے شکست خورد لہجے پہ عفیفہ کا دل بند ہوا۔وہ جانتی تھی کہ اس بے کس حوصلے سے اس کام پہ رضامندی ظاہر کی ہوگی۔پریسہ نے وہاں سے واپس لوٹ کر ان سے بات کرنے کا سوچا تھا کیونکہ ابھی غصے میں ہونے کی بدولت وہ کسی کی بھی نہیں سن رہے تھے۔وہ جانتی تھی کہ عادل کبھی بھی اس کے ساتھ ذبردستی نہیں کرسکتے تبھی اپنا دل مضبوط کیے اس فیصلے پہ ہامی بھرلی تھی۔عادل نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا اود ایک نظر سب کےتاثرات کا جائزہ لیا تو سب شکوہ کناں نگاہوں سے ان کی جانب دیکھ رہے تھے۔
آپ اچھا نہیں کررہے عادل میں کیسے اس کے بغیر رہوں گی میں تو اس کی فکر میں ہی گھل گھل کر مرجاؤں گی۔
پری آپ اپنے کمرے میں جائیں اور اپنی پیکنگ کرنا شروع کریں میں ایمرجنسی ٹکٹ بک کرواکر پہلی فلائٹ سے آپ کو جرمنی روانہ کروں گا۔ویسے بھی پڑھائی تو مکمل ہو ہی گئی ہے ڈگری کا حساب میں دیکھ لوں گا۔
عافیہ کے بھرائے لہجے کو نظرانداز کرتے انہوں نے پریسہ کو حکم صادر کیا تھا۔پریسہ نے ان کی بات پہ اپنی ہچکیوں کا گلہ دباتے تیز قدموں سے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے تھے۔ہاں وہ اس دنیا سے دور جانا چاہتی تھی مگر اتنی جلدی بھی نہیں۔اس نے گہرا سانس بھرتے خود پہ قابو پایا تھا۔آنکھوں کے دریچوں پہ یکے بعد دیگرے ان سب کا چہرہ لہرایا تھا۔صدام تو ان کی بات سن کر بھڑک ہی اٹھا۔
بابا پلیز وہ جانا چاہتی ہے آپ کیوں بےرحم بن رہے ہیں۔ظالم مت بنے۔وہاں کون اس کا خیال رکھے گا۔
وہ بگڑے تنفس سمیت بولا۔عدیل نے سکون سے اسے واپس جگہ پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔

Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|Episode 31-40|

Leave a Comment

Your email address will not be published.