Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|Episode 21-30|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.
you can find any kind of novel here..romantic novel,army based novel,university based novel,cousin marriage based.best urdu novel of all time.

“اب بھونک کیا بول رہا تھا کہ عفیفہ پہ تیرا حق ہے تیرے نام لکھی گئی ہے تجھ جیسا شیطان صفت انسان اس کی جوتی کے بھی لائق نہیں ہے۔تجھے تو میں آج جان سے مار ڈالوں گا تو چھوئیں گا اسے۔اسے چھونے سے قبل میں تیرے ہاتھ کاٹ کر کتوں کو نا کھلادوں۔”
وہ اس کے وجود پہ ایک ذبردست قسم کی ٹھوکر لگاتے غصے سے ہانپتے ہانپتے غرایا۔نعیم نے گھبرا کر اس کا ہاتھ تھاما جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا حالانکہ یاسر اس کی مار پیٹ کی بدولت ادھ موا ہوچکا تھا نوال اور منال گھبراتی ایک دوسرے لپٹتے رورہی تھی۔صفیہ نے انہیں پچکارتے اندر جانے کا اشارہ کیا۔
“بیٹا اسے ہم پولیس کے حوالے کردیتے ہیں ایسے مار پیٹ کرکے۔”
وہ ملتجیانہ لب و لہجے میں اسے سمجھانے والے انداز میں بولا۔صدام نے ایک ذور دار لات اس کے پیٹ پہ ماری تو وہ تکلیف کی شدت سے کراہ اٹھا۔صدام نے گہرے گہرے سانس بھرتے خود پہ قابو پایا تھا اود ایک نگاہ ساکت و جامد کھڑی عفیفہ پہ ڈالی جو یک ٹک کسی ٹرانس کی کیفیت میں اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“میں آپ کی طرح بےحس نہیں ہوں انکل کہ سب جانتے بوجھتے اسے مزید کچھ بولنے کیلیے بخش دوں آپ نے تو بیچ دی تھی اپنی بیٹی مگر مجھ سے ایسی توقع ہر گز مت رکھیے گا کہ میں اپنی بیوی کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت کروں گا۔وہ میری عزت ہے اور عزت کی رکھوالی کرنا مجھے بخوبی آتا ہے۔”
وہ شہادت کی انگلی اٹھاتے انہیں جتانے والے لہجے میں گویا ہوا۔اس کے انداز میں واضح تنبیہہ شامل تھی۔صدام کے کہنے پہ ہادی نے سرعت سے کسی کو کال ملائی تھی البتہ فارس اور ارتضی ندیدوں کی طرح یاسر کی جانب دیکھ رہے تھے۔

“آنٹی فلحال تو جیسے آپ مجھے دیکھ رہی ہیں نا سب سے پہلے ایسے دیکھنا بند کریں آپ اور مجھ معصوم کے مزاجوں کی فکر مت کریں آپ میں اپنے اسی مزاج کے ساتھ سب میں دل و جان سے مقبول ہوں۔”
وہ معصومیت بھرے لہجے میں بولا۔مقابل کے مسکراتے لب اس کی بات پہ سکڑے تھے۔ثمینہ نے کٹیلی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا معاً بات کو ہنسی مذاق کا رخ دینے کی خاطر وہ ناچاہتے ہوئے بھی قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
“ہاہاہا میں بتارہی تھی نا میرا بیٹا بہت مزاحیہ ہے۔بس یہ اسی کی ایک چھوٹی سی جھلک تھی۔”
ثمینہ مصنوعی ہنستے ہوئے بولی۔انہوں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا اور ذبردستی سا مسکرائی۔
“لیکن میں تو بلکل سنجیدہ ہوں ماما جان۔مذاق اور وہ بھی میں آپ جانتی ہیں نفرت ہے مجھے اس چیز سے۔کم از کم اتنا بڑا الزام مت لگائیے مجھ پہ۔”
وہ مودب لہجے میں بولتے انہیں جلا کر راکھ کرگیا۔فارس نے سرخ چہرے سمیت بمشکل ہنسی ضبط کی ہوئی تھی۔
“آپ اسے چھوڑیں یہ تو ایسے ہی بولتا رہتا ہے اس کی عادت ہے میں اس کا آپ سے تعارف کرواتی ہوں۔”
وہ اس مکمل طور پہ نظر انداز کرتی دانت پہ دانت جماتی ان سے مخاطب ہوئی۔
“ارے یہ کیوں میرا تعارف کروائے گی میں خود ہی کرواتا ہوں نا۔سنیں پھر میرا نام دی گریٹ لیجنڈری فارس شیخ ہے جس سے مجھے بہت محبت ہے میرے گھر والے مجھ سے بہت تنگ ہیں خاص طور پہ میرے ڈیڈ ان کا بس چلے تو مجھے جان سے ہی ماردیں۔جامعہ میں جو دوست ہیں وہ مجھے نمونہ کہ کر مخاطب کرتے ہیں کیونکہ انہیں مجھ سے کبھی کسی اچھے کام کی توقع نہیں ہے۔تیسری اور سب سے اہم بات میں یہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا کیونکہ جو یونی میں میرے دس یار ہیں نا ان کیلیے میری جان بھی قربان ہیں اب ان سے پہلے شادی کرکے میں ارتضیٰ اور ہادی کو صدمے میں نہیں پہنچا سکتا کیونکہ میری شادی کی خبر انہیں صدمے میں پہنچادے گی اور پھر وہ لوگ اسی صدمے میں مرگئے تو میں ان کے مرنے کی خبر سن کر صدمے میں چلا جاؤں گا مختصر یہ کہ ان کی شادی کے ساتھ میری شادی جڑی ہے اور میری شادی کے ساتھ ان کی شادی جڑی ہے۔یہ لوگ میرے ساتھ ذبردستی کررہے ہیں کیونکہ انہیں میری بیوی سے پوتے پوتیاں چاہیے اب خود بتائیے آپ اپنی بیوی کو ایسے ظالم ساس سسر کو سونپ دیں گی نہیں نا۔بہت اچھا فیصلہ ہے سونپیے گا بھی مت کیونکہ اگر وہ ان کے ساتھ رہی تو اگلے دو سالوں میں نظر آنا بند ہوجائے گی۔اچھا آنٹی اب ہم اس رشتے سے انکار سمجھتے ہیں آپ گھر جائیے مجھے بھی آرام کرنا ہے وہ کیا ہے نا اپنی درجنوں گرل فرینڈز سے باری باری ملتا ہوں تو تھک جاتا ہوں کسی کے پاس بھی جاؤ تو وہ آنے ہی نہیں دیتی اتنی محبت ہے انہیں مجھ سے۔”
وہ سنجیدہ لہجے میں بولتے سر کو خم دیتے واپس مڑا چہرہ ہنسی روکنے کے چکر میں بےتحاشہ سرخ پڑرہا تھا۔انہوں نے ہونقوں کی طرح اس کی پشت کو تکا جو ناجانے کس قسم کی بکواس کرتے اب واپس مڑ چکا تھا۔
“ارے ایک منٹ اس سے تو ملی نہیں آپ میکس سے ہیلو ٹو آنٹی گو شاباش۔یہ تمہاری ہونے والی بھابھی کی ماں تھی مگر میں نے تمہاری بھابھی کا پتہ ہی کاٹ دیا۔”
وہ میکس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں بولا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ان کی جانب بڑھنے لگا۔
“اسے پیچھے کرو۔”
وہ میکس کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ارے ایسے کیسے آنٹی مت روکیے اسے وہ اپنی ہونے والی ساس کے تلوے چاٹ رہا ہے پیر بھی چھوئے گا ابھی۔احترام ایسے ہی کرتا ہے یہ۔”
وہ میکس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔عظمی کے تن بدن میں آگ ہی لگ گئی۔وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تم جانتے ہو کہ تم کس قسم کی بکواس کررہے ہو۔”
وہ غیض کے عالم میں غرائی۔فارس نے باقاعدہ اپنے کان صاف کیے تھے۔
“ارے آپ غصہ کیوں ہورہی ہیں جو میری ساس ہوگی وہ اس کی بھی ساس ہوگی سسر بھی اس کا ہوگا سالی بھی سالا بھی بس بیوی صرف میری ہی ہوگی اس پہ صرف میرا ہی حق ہوگا۔”
وہ تسلی آمیز لہجے میں بولتے صوفے سے پشت ٹکا کر بیٹھ گیا۔عظمی نے کاٹ دار نگاہوں سے آفتاب اور ثمینہ کی جانب دیکھا۔

Muhabbat Rang de jati he By Aan Fatima|Episode 21-30|2022 Novels

  • urdu novels
  • Romantic novels
  • Friendship based novels

Leave a Comment

Your email address will not be published.