Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|Episode 1-20|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.

you can find any kind of novel here..romantic novel,army based novel,university based novel,cousin marriage based.best urdu novel of all time.

“جانتی ہیں کس قسم کی بےہودہ بکواس کررہی ہیں آپ میرے ساتھ۔دماغ ٹھکانے پہ ہے یا کھسک گیا ہے۔”
وہ پلر پہ مکہ مارتے بپھرے شیر کی مانند غراتے اسے کپکپانے پہ مجبور کرگیا۔پریسہ نے سہمی ہرنی کی مانند نگاہوں سمیت چہرہ اٹھاتے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ایک اس کا قد چھوٹا تھا سونے پہ سہاگہ مقابل کا قد کافی لمبا تھا کہ اسے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنا پڑرہا تھا۔اس کے غصے سے جان جارہی تھی مگر وہ اپنے موقف سے پیچھے بھی نہیں ہٹ سکتی تھی۔
“یہ بکواس نہیں ہے یہ حقیقت ہے جسے آپ تسلیم نہیں کررہے کہ آپ مجھ سے دلی وابستگی رکھتے ہیں تبھی تو مجھے آج بچایا ہے اور اس دن جو چادر دی تھی۔”
اس کے ایک ایک لفظ پہ زور دینے سے شہرام کا اس کی بات پہ فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا۔اس کے مسلسل ہنسنے پہ پریسہ اہانت کے احساس سے سرخ پڑتے چہرے سمیت خود میں سمٹ کر رہ گئی۔وہ مسلسل ہنس رہا تھا اور پریسہ کی حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔کیا وہ اس کا مذاق اڑارہا تھا۔پریسہ کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکا۔تکلیف کا احساس رگ و پے میں سرائیت کرتا چلا گیا۔
“میں اور آپ سے محبت۔کیا میرا سٹینڈرڈ اس قدر گرا ہوا ہے کہ میں اپنی سٹوڈنٹ سے عشق معشوقیاں لڑاؤں۔پٹھان ہوں میں اور انہیں اپنی غیرت بہت عزیز ہوتی ہے۔اگر آج جان بچائی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے دل میں کسی بھی قسم کا احساس پنپنا شروع کردیں اگر میں جان بچا سکتا ہوں تو جان لینے کا حوصلہ بھی رکھتا ہوں۔”
وہ اس کی ٹھوڑی کو سختی سے اپنی گرفت میں لیتے اس کے چہرے پہ جھکتے برفیلے لہجے میں پھنکارا۔پریسہ کے ہاتھ بےیقینی کی کیفیت میں لڑھک کر پہلو میں آن گرے۔وہ متحیر سی اسے دیکھے گئی جس کے چہرے پہ نرمی کا شائبہ تک نہیں تھا

“تمہیں کیا کام ہے فارس سے بی بی۔”
وہ مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔عناب نے اس کے انداز پہ اس کے بازو میں ایک زوردار قسم سے چٹکی بھری تھی۔
“وہ بس کل سے دیکھا نہیں تو دل چاہا کہ ایک نظر اسے دیکھ لوں۔کہاں ہے وہ۔”
وہ اپنے شانے پہ رکھے بالوں کو پشت پہ جھٹکتی اترا کر بولی۔پہلے تو ہادی نے اس کی بات پہ اپنا ہاتھ لبوں پہ جمایا مگر ان سب کے کھلے چہروں کو دیکھتے اس کا چھت پھاڑ قہقہہ کیفے کی فضا میں گونجا تھا۔فائقہ اس کے یوں ہنسنے پہ پہلو بدل کر رہ گئی۔
“جا بہن کیوں اپنی بےعزتی کروانی ہے ہمارے فارس سے۔”
وہ اس کی بات کو ہوا میں اڑاتے اس کی ٹھیک ٹھاک بےعزتی کرتے ہوئے بولا مگر مقابل بھی فائقہ تھی کیسے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتی تبھی ڈٹ کر اس کا سامنا کرنے کیلیے کھڑی رہی۔
“سوچ لو آج تم اپنی بات سے پھر نا جانا مسٹر ہادی کیونکہ فارس آج مجھے نظرانداز نہیں کرپائے گا۔”
وہ لبوں پہ دلکش مسکراہٹ سجائے ایک ادا سے جھکتے ہوئے بولی تو ہادی کی آنکھیں اس کی جرأت پہ کھلی کی کھلی رہ گئی۔پریسہ جو ابھی صدام کے ساتھ ان کے میز کے نزدیک پہنچی تھی اس کی حرکت پہ پریسہ کے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔اس نے صدماتی کیفیت میں ان سب کی جانب دیکھا تو عفیفہ ناسمجھی سے شانے اچکاگئی۔پریسہ نے اپنا ہینڈ کیری میز پہ رکھا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی تاکہ ان سب کی باتوں سے لطف اندوز ہوسکے۔
“چلو بھئی لگی شرط تم سب کے سامنے یہ فائقہ بی بی مجھ سے شرط لگارہی ہے مطلب کے ہادی سے اور وہ بھی فارس کے متعلق۔”
وہ تمسخرانہ انداز میں بولتے ہنس دیا۔مریم نے نہایت زیرک نگاہوں سے ان دونوں کی جانب دیکھا۔
“ہادی سوچ لو فارس کبھی بھی اپنی بات سے پھرجاتا ہے یہ نا ہو کہ اپنی بات سے مکڑ کر وہ تمہیں ہی ذلیل کروادے۔اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔”
مریم نے اپنے مطابق اسے آگاہ کرنا ضروری سمجھا مگر ہادی اس کی بات کو چولہے میں جھونکتے سینہ تان کر یوں کھڑا تھا جیسے فارس سے ایسی کوئی توقع ہی نا ہو۔
ابھی وہ سب انہی باتوں میں مصروف تھے کہ اسی دوران تیز رفتار گاڑی کی آواز پہ ان سب نے سرعت سے رخ پھیرتے کیفے کے باہری حصے کی جانب دیکھا جہاں ایک سیاہ رنگ کی گاڑی پوری تیزی سے دھول اڑاتی اس کے پارکنگ ایریا میں گول گول چکر کاٹ رہی تھی۔وہ اپنی جگہ چھوڑتے باہر کی جانب بھاگے جہاں سپورٹس کار میں بیٹھا فارس آنکھوں میں سیاہ رنگ کے گوگلز لگائے ایک شان سے گاڑی سے چھلانگ مار کر اترا اور سینے پہ ہاتھ رکھتے جھکا تھا۔سب کلاس کے لڑکے لڑکیوں نے شور مچاتے زبردست قسم کی ہوٹنگ کی تھی جیسے کسی ہیرو کی انٹری ہوئی تھی۔
“کیا کوئی ہیرو آیا ہے جو یہ سب یوں اچھل رہی ہیں۔”
عناب کرسی پہ لاپرواہی سے بیٹھی اس جھڑمٹ کو دیکھتے ہوئے بولی۔
“ہیرو نہیں نمونہ آیا ہے اور پہلی بار میرے علم میں اضافہ ہوا ہے کہ نمونوں کے آنے پہ بھی لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔”
ارتضیٰ ناجانے کہاں سے برآمد ہوتے دانت نکوستے ہوئے بولا۔عناب کی پوری آنکھیں اپنے نزدیک سے آنے والی بھاری مردانہ آواز پہ پٹ سے کھلی۔وہ ایکدم کرسی سے اٹھتے بھاگنے والے انداز میں باہر کی جانب بڑھی۔
“اوہ اچھا فارس شیخ کی آمد ہوئی ہے جو یہ لوگ اتنا ادھم مچارہے ہیں۔”
وہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلاگئی۔وہ سب کے سب دروازے سے لگ کر کھڑے اس کی کرم نوازیوں کا ملاحظہ کررہے تھے جو سب سے ایسے ہاتھ ملاتے ہوئے آگے کی جانب بڑھ رہا تھا۔وہ سب اس کی ڈرامے بازیاں دیکھتے رہ گئے۔
“ارے فارس کہاں تھے تم اتنی دیر کیوں کردی تم نے آنے میں۔”
اس کے نزدیک آتے ہی فائقہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولی۔فارس نے اس کی بات پہ مخصوص انداز میں بھنویں اچکاتے اس کی جانب سرتاپا دیکھا جو جینز پہ گھٹنوں کو چھوتا ٹاپ پہنے ڈوپٹہ سرے سے ہی ندارد تھا۔منہ پہ میک اپ کی دو سے تین تہیں تو لازم تھی۔

Muhabbat Rang De jati he By Aan Fatima

Leave a Comment

Your email address will not be published.