sakoon e qalb ho tum by Aan Fatima download complete urdu novel 2023 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Sakoon e qalb ho tum is a age difference based novel.This is the story o girl mufrah and her cousin who loves her but leave her just because of her veil.Read on novel to know more.

“مفرہ از ایوری تھنگ آل رائٹ۔”
اس نے سرد انداز میں اپنی بات پہ زور دیتے ہوئے پوچھا اس کا گہرا پرتپش لہجہ مفرہ کا دل دھک سے رہ گیا تبھی اس کی سسکی نکلی جازم کو محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
جازم کا بس نہیں چل رہا تھا اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائے گھبراہٹ حد سے سوا تھی۔
“مفرہ بولیں کیا ہوا کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔”
اس نے اس کے رونے کو مدنظر رکھتے ہوئے نرم لہجے میں استسفار کیا۔


ہمیشہ کی طرح محبت سے گندھا لہجہ مفرہ سے ضبط کا دامن چھوٹ گیا تبھی اپنے آنسوؤں پہ قابو نہ رکھ پائی اور پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
جازم اس کے رونے پہ پریشان ہوتے کاؤچ سے اٹھ کھڑا ہوا اور بےچینی سے اپنا ماتھا مسلا۔
“مفرہ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے کیوں تکلیف میں مبتلا کررہی ہے آپ کو رونا مجھے پریشان کررہا ہے۔”
وہ بےبسی سے بولا ایک تو وہ میلوں دور تھا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے سینے میں بھینچ لے۔
“تم واپس آجاؤ بس جلدی مجھے تمہاری شدید ضرورت محسوس ہورہی ہے مجھے اپنا دل ہلکا کرنا ہے میں کس سے بات کروں مجھے نہیں جینا اس دنیا میں یہ دنیا بہت ظالم ہے ہر روز ایک نئے زخم سے متعارف کراتی ہے۔”
وہ سسکتے ہوئے بولی آواز مسلسل رونے کی بدولت بھاری ہورہی تھی۔


“مفرہ میری جان سب سے پہلے تو آنسو صاف کریں اور مجھے بتائیں کہ کیا ہوا ہے ڈیم اٹ۔”
وہ نرم انداز میں کہتے کہتے آخر میں سخت لہجے میں بولا چہرے کے اعضا سختی سے بھینچے ہوئے تھے ماتھے پہ بل نمایاں تھے وہ چاہ کے بھی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔
اس کے سرد انداز پہ مفرہ سہم گئی تبھی اندازہ ہوا کہ وہ جذباتی پن میں کیا غلطی سرانجام دے چکی ہے اس نے سرعت سے فون کاٹا اور موبائل بند کردیا وہ اس کے غصے کا سوچتے پریشانی سے انگلیاں چبانے لگی اس کا سخت انداز ایک بار پھر مفرہ کو جھرجھری لینے پر مجبور کرگیا۔
دوسری جانب فون بند ہونے پر جازم ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا لیکن جواب ندارد دو تین بار لگاتار فون ملانے پر نمبر مسلسل آف جارہا تھا اس نے غیض کے عالم میں کھینچ کر مکہ دیوار پہ مارا مفرہ کی حرکت پہ آنکھوں سے چنگاریاں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی

“جازم۔۔۔۔”
مفرہ نے کسی خیال کے تحت اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔۔

“ہوں۔۔۔”
اس نے بےدھیانی میں جواب دیا تو مفرہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
“تم ایسے تو نہیں تھے تم بہت بدل گئے ہو۔۔۔”
وہ اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے بولی لہجے میں درد واضح تھا اس کی بات نے جازم کو نطریں اٹھانے پر مجبور کردیا وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔۔۔
“اچھا کیا بدلا ہے مجھ میں ویسے یہ بات تو میں بھی آپ کے متعلق کہہ سکتا ہوں لیکن کہوں گا نہیں کیونکہ چچی امی کے جانے کے بعد میں حالات کا سامنا کرگیا لیکن آپ نے مجھے مورودِ الزام ٹھہرا دیا۔۔۔۔”


وہ اس کی جانب دیکھتے درد بھرے لہجے میں بولا مفرہ کو احساس ہوا کہ جانے انجانے میں ہی سہی وہ اس انسان کو بہت تکلیف پہنچا چکی ہے اسے یکایک شرمندگی نے آن گھیرا۔۔۔۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا جازم کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے پہلے وہ سب اس کے بعد ماما میں ٹوٹ گئی تھی مجھے کسی اپنے کی ضرورت تھی جس سے میں اپنے دل کے حالات آشکار کرتی اس سارے معاملے میں میرا کیا قصور تھا میں کیوں پسی گئی اللہ نے ماما کو کیوں لے لیا میں شکوہ نہیں کرنا چاہتی لیکن میں تھک گئی ہوں۔۔۔۔”
وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی تو جازم نے اس کے قریب ہوتے اس کا ہاتھ تھام لیا اس کی جرأت پہ مفرہ کے وجود میں سنسناہت دوڑ گئی اس نے بےساختہ ہاتھ چھڑوانا چاہا لیکن مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔۔۔۔
“آپ کا کوئی قصور نہیں تھا میں مانتا ہوں آپ کی پاکدامنی کا گواہ ہوں میں لیکن اس سب میں میں کہیں نہیں تھا لیکن پھر بھی میں ہی تھا۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ کو دباتے چہرہ جھکائے سپاٹ لہجے میں بولا تو مفرہ کے دل کو دھکا لگا۔۔۔۔
ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ اور اس نے اس دن کس منہ سے وہ سب باتیں کی تھی۔۔۔۔
“جازم۔۔۔”
اس نے دوبارہ اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو جازم نے چہرہ جھکائے جی جواب دیا شاید وہ بھی اب تھک چکا تھا۔۔۔
“مجھے میرا دوست لوٹادو۔۔۔”


وہ اس کے کندھے سے لگے پھپھک کر رودی جازم نے سکتے کی کیفیت میں اس کی جانب دیکھا جو اسی کے کندھے سے لگی اسی سے واپس لوٹنے کی فریاد کررہی تھی۔۔۔۔
“میں ابھی بھی وہی ہو آپ کیلیے آپ نے مجھے پہچاننے میں دیر کردی ہمارے رشتے کی نوعیت کیا بدلی آپ نے نفرت سے منہ ہی پھیر لیا یہ رشتہ ہم دونوں کیلیے ہی غیر متوقع تھا ہم دونوں کو ہی وقت چاہیے تھا لیکن خیر چھوڑیں۔۔۔۔۔
یہ کندھا پہلے بھی آپ کیلیے حاضر تھا آج بھی آپ کیلیے حاضر ہے اور ہمیشہ آپ کیلیے رہے گا تاکہ آپ جب دل چاہے اپنا دل ہلکا کرلیں۔۔۔۔”
وہ اس کے گرد حصار باندھتے بھاری گھمبیر لہجے میں بولا اور ساتھ ہی رشتے کی مضبوطی کا یقین دلایا مفرہ اس کی بات کا مفہوم سمجھتے شدتوں سے رودی جازم نے اس کا بازو سہلاتے اسے اپنے آپ سے الگ کیا اس کے روئے روئے چہرے کو دیکھتے وہ ایک سیکنڈ کیلیے مہبوت سا ہوا اور بےدھیانی میں اس نے مفرہ کے ماتھے پہ عقیدت بھرا بوسہ دیا اس کی پیش قدمی پہ مفرہ کا سانس سینے میں ہی اٹک گیا اور گالوں پہ سرخی دوڑ گئی۔۔۔۔۔

“دیکھ لیں میری بیوی کتنی معصوم ہے آپ کے اتنے سے غصے سے ڈر گئی۔”
اس نے شرارت آمیز لہجے میں خالہ کو مخاطب کیا تو وہ ہنس پڑی۔
“ہاں تمہارے حصے کی معصومیت بھی اسے میں منتقل ہوگئی ہے غلطی سے۔”
انہوں نے اسے گھورتے ہوئے جواب دیا تو وہ ان کی بات پہ قہقہہ لگادیا اور شرارت سے ان کا ماتھا چومتے مفرہ کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔
“کیا بیوی کو اب آفس بھی ساتھ لے کر جاؤ گے۔”
ان سے برادشت نہ ہوا تو بول پڑی ان کی بات پہ جازم کے قدموں کو بریک لگی وہ ایک نظر مفرہ کو دیکھتے ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔
“آفس بھیجنے کیلیے بیوی ہی مدد کروائے گی اب یا آپ کروائیں گی۔”


وہ مسخرے پن سے دائیں آنکھ دباتے ہوئے بولا تو انہوں نے اس کی شرارت سمجھتے اپنی چھڑی اس کی سمت اچھالی تو وہ ایک زبردست قہقہہ لگاتا اندر کمرے کی سمت چل دیا اور اندر داخل ہوتے ہہ کمرے کا دروازہ لاک کیا۔
مفرہ کو اس کے ارادے نیک نہ لگے تبھی اس کا ہاتھ چھوڑتے ہی حلق تر کرتے واشروم کی سمت جانے لگی جازم نے اس کا ارادہ بھانپتے اس کی کلائی سے کھینچتے اسے اپنے حصار میں لیا مفرہ اس کی قربت پہ بےحال ہوتی آنکھیں میچ گئی۔
“کدھر میری جان۔”
وہ اس کے گال پہ لب رکھتے اس کا حجاب کھولنے لگا لیکن مفرہ اس کا ہاتھ تھامتے شاکی نگاہوں سے اس کی سمت دیکھنے لگی لیکن جازم اس کی گھوری کو کسی بھی کھاتے میں نہ لاتے اس کا حجاب کھولنے لگا۔
حجاب کھلتے ہی سیاہ گھنے بالوں کی آبشار اس کے کمر پہ پھیل گئی جس کی مہک کو جازم نے اس کے بالوں میں چہرہ چھپاتے شدت سے محسوس کیا۔
“جازم تم شاید آفس جانے کیلیے اندر آئے تھے۔”
وہ کپکپاتے لہجے میں بولی اور ایک جھٹکے میں اس سے الگ ہوئی چہرہ سرخ اناری ہورہا تھا دھڑکنوں میں الگ شور برپا تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے بالوں کا جوڑا بنانا چاہا لیکن جازم نے اس کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھتے گھور کر دیکھا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے کمرے میں بال باندھنے کی ویسے ایک بات کو بتائیں۔”
اس نے کچھ سوچنے والے انداز میں بھنویں اچکائی تو مفرہ کو پوری امید تھی کہ اس عجیب و غریب انسان سے کسی عجیب بات کی ہی توقع ہے تبھی سر ہلاتے ساتھ ساتھ بیڈ شیٹ درست کرنے لگی۔
“یہ بال آپ کے اصلی ہے نہ۔”
وہ مشکوک لہجے مخاطب ہوا تو مفرہ کا جی چاہا کہ سائید ٹیبل پہ رکھا واس اس کے سر پہ دے مارے لیکن پھر خالہ کی بات کرتے ضبط سے مٹھیاں بھینچ گئی۔
“جازم آپ آفس جائیں طبیعت نہیں ٹھیک لگ رہی آپ کی مجھے باہر سے ٹھنڈی ہوا کھا کر آئیں۔”
یہ جازم کے ہی ساتھ کا اثر تھا کہ وہ پرسکون انداز میں ایزی ہوکر اس سے باتیں کررہی تھی اس کی چھوٹی موٹی باتوں کا خیال کررہی تھی۔
اس کے آپ کہنے پر جازم کو واشروم کی سمت جارہا تھا دوبارہ اس کی سمت متوجہ ہوا۔
“کیا بولا ابھی آپ نے۔”

sakoon e qalb ho tum by Aan Fatima


اس نے آنکھیں پھاڑ کر استسفار کیا اور ایکدم ناجانے کیا ہوا کہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا اس کے ہنسنے پر مفرہ کی آنکھوں میں نمی سی جاگی وہ پیر پٹختی کمرے سے جانے لگی کہ جازم نے اس کی کلائی پکڑتے اس کی کوشش کو ناکام بنادیا۔
“ارے ارے مذاق کررہا ہوں کیا ہوگیا ہے مفرہ میں نے آپ کو کبھی اصرار کیا کہ آپ کہے مجھے کسی کی باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
اس نے اپنی طرف سے اسے سمجھانا ضروری سمجھا۔
“پتہ نہیں بار بار رو کر مجھے کیوں تکلیف دیتی ہیں۔”
اور ساتھ ہی اس کی ہیزل آنکھوں پہ محبت بھرا بوسہ دیا اس کی پیش قدمی پہ اس کے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی وہ جھجھکتے ہوئے اس سے دو قدم کے فاصلے پہ ہوئی۔

Step into the world of fiction, thrill, action and emotions.
The place for young readers

Leave a Comment

Your email address will not be published.