Chahtein kesi by Lariab momin Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“کون تھا وہ ہینڈسم جو آوازیں دیتا ابھی آیا تھا۔”
“انکل ہے میرے۔”
“تمہارے انکل۔”سیمی اچھل پڑی۔
“ہاں کیوں۔” وہ اس کی حیرت پر حیران ہوئی۔
“دھت انکل بھلا ایسے ہوتے ہیں اتنے ینگ کیا سگے ہیں؟”
“نہیں وہ پاپا کے کولیگ تھے اس ناطے ہم انہیں انکل کہنے لگے۔”
“تم ہی انکل ہی کہتی ہو اسے۔”
“ہاں۔”
“ڈفر اتنا ہینڈسم آدمی اور تم نے انکل بنا رکھا ہے اسے کچھ اور نہیں بنا سکتی تھی۔”سیمی نے گویا سر پیٹ لیا تھا۔
“تو اور کیا بناتی بھلا۔” وہ ہنوز حیران تھی۔
“شوہر تو بنا ہی سکتی تھی نا۔”
“شٹ اپ سیمی فضول بکواس مت کرو۔”اس نے برا مان کر ڈانٹ دیا تھا۔
“ٹھیک ہے تم انکل ہی بنائے رہنا شوہر تو میں بناؤں گی اسے اپنا۔” سیمی کہہ کر ہنس رہی تھی۔
“سیمی کی بچی نے ایسا کیوں سوچا ان کے بارے میں۔” اسے سیمی پر تاؤ ایا تھا۔
“سوچ لیا تو کیا ہوا تم کیوں جل رہی ہو تم تو انکل کہتی ہو نا انہیں۔”اس کے اندر سوال جواب شروع ہو چکے تھے۔
“سگے انکل تو نہیں ہے نا وہ تو پاپا کے کولیگ تھے اس لیے۔”
“صہ صفائیاں کیوں پیش کر رہی ہو سیدھے سیدھے اقرار کر لوں نا کہ سیمی کا ان کی طرف جھکاؤ تمہیں پسند نہیں ایا۔”
“ہاں نہیں ایا۔”
“مگر کیوں۔؟”
“اوہ خدا ایسا کیوں ہوا میرے ساتھ میں کسی سے کچھ بھی کہہ نہیں سکتی کہ واصف عباس میرے انکل کے بجائے کیا ہو گئے ہیں۔” بہن اور بھائیوں سے اپنی کیفیت چھپائے وہ متوحش سی پھرتی تھی مگر کب تک ایک نہ ایک دن تو کسی نے چوکنا ہونا ہی تھا اور صائمہ چونک گئی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.