Woh meri dastras me tha by Nabila abar Raja download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“کیا ہوا گڑیا اتنی صبح تم اس حال میں۔” اس نے اب غور سے اسے دیکھا دوپٹہ غائب پاؤں میں جوتی ندارد۔ ویران چہرہ انکھیں بھرائی اس کا کھویا کھویا انداز اسے انجانہ سا خدشہ ہوا۔
“کیا ہوا ہے۔”افریدی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ ٹوٹی شاخ کی طرح اس کے سینے سے ا لگی۔
“اکبر انکل پھپھو میں نے کچھ نہیں کیا سب جھوٹ بول رہے ہیں۔” چیخ چیخ کر روتے ہوئے وہ بےربط الفاظ بول رہی تھی۔
“آپ مجھ سے شادی کر لیں پلیز اپ مجھ سے شادی کر لیں۔”وہ روتے ہوئے تکرار کر رہی تھی وہ مضبوط اعصاب رکھنے والا باوقار سا مرد گھبرا گیا اس نے مشکل اسے خود سے الگ کیا اب وہ حمدہ سے لپٹی رو رہی تھی ابھی تک ان کی سمجھ میں نہیں ایا تھا کہ بات کیا ہے۔
صباح اخر بتاؤ تو بات کیا ہے۔”اس نے چہرہ اونچا کرنا چاہا صباح سسکیاں اور ہچکیوں کے دوران تمام داستان دہراتے چلی گئی۔ حمدہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا جبکہ افریدی کی پیشانی پر شکنوں کا جال بن گیا تھا۔


“آپ مجھے گڑیا مت کہا کریں چھ ماہ بعد میں پورے سترہ سال کی ہو جاؤں گی۔”افریدی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اگئی۔
“چلیں نہیں کہتے گڑیا مانا کہ اپ بہت بڑی ہیں۔”صبا کو یوں لگا جیسے وہ اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔
“آپ اتنے بزرگ بننے کی کوشش مت کیا کریں میں بچی نہیں ہوں۔” وہ استین سے آنسو بھی صاف کرتی جا رہی تھی اور بول بھی رہی تھی۔
“سب پتہ ہے مجھے۔”وہ بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ اور سن رہا تھا صباح نے بڑی ناراضگی سے اسے دیکھا۔وہ اپنی سحر انگیز مقناطیسی نگاہیں اسی پر مرکوز کیے ہوئے تھا۔
“آپ مجھ سے ڈرتے ہیں نا۔”وہ بڑی بے خوفی سے دیکھ رہی تھی وہ سن سا ہو گیا۔
“جاؤ صبا جاؤ۔”وہ پہلے والا افریدی بن گیا۔
“میرا مقابلہ تو کر نہیں سکتے ظاہر ہے جانے کا ہی کہیں گے۔” نکلتے نکلتے وہ فقرہ پھینکنے سے باز نہیں ائی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.