Tere mere drmiyan by mehwish iftikhar Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“یہ لڑکی تو بہت انمول ہے تم یہ آٹھ لاکھ رکھو اتنی قیمت تو ہونی چاہیے اس بیچاری کی۔”وہ ایک نظر اس کی برستی انکھوں پر ڈالتے ہوئے بولا تو فیروزہ کی انکھیں مارے حیرت کے پھٹ سی گئیں۔
“اور ہاں اسے میرے ساتھ بھیجنے کی تیاری کرو پیمنٹ تمہیں میرا مینیجر کر جائے گا۔”وہ اس کے چہرے پر نگاہ جمائے پلٹنے کو تھا جب انابیہ نے اپنی لہو رنگ انکھیں کھول کر ایک سلگتی ہوئی نظر اس کے چہرے پر ڈالی تھی۔اپنے اندر بھڑک اٹھنے والے نفرت کا شعلوں کو چھپانے کی اس نے رتی برابر کوشش نہ کی تھی۔
اس کی گاڑی میں سوار ہوتے ہی ڈرائیور نے بٹن دبایا اور تمام دروازوں کو اٹومیٹکلی لاک کر دیا تھا اور اگلے ہی لمبے گاڑی تیزی سے کھلے گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔
“دروازہ کھولو میں میں کہیں نہیں جاؤں گی۔” بری طرح روتے ہوئے انابیہ دروازہ کھولنے کی کوشش میں دیوانی ہوئی جا رہی تھی جبکہ اگلی سیٹ پر براجمان حسنی نے ایک بار بھی پیچھے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
“تم تم سنتے کیوں نہیں ہو ذلیل منافق انسان۔”چلاتے ہوئے اس نے یخلکت حسنی کا بازو نوچ ڈالا تو حسنی کا ضبط جواب دے گیا۔
لب بھینچے اس نے پلٹ کے انابیہ کی کلائی کو ایک جھٹکے سے اپنے گرفت میں لیا۔ انابیہ کے دل کی دھڑکن ایک پل کو رک گئی۔ کتنی ہی چوڑیاں ٹوٹ کر اس کی کلائی میں چبھ گئی۔
“کیونکہ میں تمہاری آواز تک نہیں سننا چاہتا انابیہ احسان۔”شعلے برساتی انکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑھے وہ پوری قوت سے دھاڑا تو ایک لمحے کو گاڑی میں موت صاف سناٹا چھا گیا۔
انابیہ نے منجمد انکھوں سے خوف قطروں کی صورت چہرے پر بہنے لگا۔کمال ضبط سے حسنی کی کن پٹی کی رگ ابھر آئی۔ ایک جھٹکے سے اسکی کلائی چھوڑتے ہوئے وہ سیدھا ہوا تو انابیہ پیچھے سیٹ سے جہاں ٹکرائی بے اختیار اس کی نظر اپنے کلائی کی جانب اٹھی تھی جہاں خون کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.