chand se phool talak by zumer naeem ajar Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“تم یہاں کیسے رہو گی یہاں تو میں تمہاری سوکن کو لا رہا ہوں۔” نازک اور بازل کی باتیں اسے مسلسل چبھ رہی تھی اس نے کسی اور سے نظر ملانی ہوتی تو وہ آنچل کے لیے دیوانہ ہی کیوں ہوتا ہے۔
بازل نے بھی اس کا دوست بن کر نہیں آنچل کے بہنوئی کی حیثیت میں پوچھ گچھ گئی تھی اسے انچل پر شدید غصہ تھا کہ اس کی ذات سے کوئی شکایت تھی تو وہ اسی سے کہتی نازک بی بی جان یا بازل سے کہنے کی کیا ضرورت تھی۔
“آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں اپ ایسا نہیں کر سکتے میں مر جاؤں گی اگر۔۔۔۔۔”روتے روتے اس کی اواز مٹ گئی اور پھر مزید بولنے کی کوشش میں پھندہ لگ گیا وہ کھانستی ہوئی باتھ روم میں بھاگی۔ صبح سے سب کھایا پیا سبھی کچھ الٹی کے ذریعے واپس آگیا۔ معارج نے اس کی بات سننے کی کوشش کی تھی مگر وہ خود ہی بات ادھوری چھوڑ کر بھاگی تھی۔معارج فورا اٹھ کر اس کے پیچھے گیا وہ سیدھی ہو کر سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسے کچھ دیر کیلیے کچھ رحم آیا مگر پھر تمام باتیں یاد کرکے اس نے انچل کو بازو سے پکڑ کر کمرے میں کھینچا اور اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا وہ چکڑا کر بیڈ پر گر گئی۔
“مرنے کا اتنا ہی شوق تھا تو اپنے گھر جا کر مرنا مجھے کسی مصیبت کی مبتلا مت کرو۔”حیرت صدمہ اور بے یقینی ایک ساتھ انچل کی انکھوں میں سمٹ ائے۔ آنسو جیسے ٹھہر گئے۔معارج اس پر بلا وجہ ہاتھ اٹھائے گا اس لیے یقین نہیں ا رہا تھا۔اس کے طرز عمل نے صدمہ پہنچایا تھا اور آدھی رات کو آکر وہ اس قسم کی باتیں کرے گا حیرت ہو رہی تھی۔
“کہا جا رہی ہو واپس اؤ۔”اٹھ کر بیٹھ گیا آنچل بادل نخواستہ مڑ کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
“تم نے جو کچھ پیک کرنا ہے کر لو اس کے بعد میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں گا۔”وہ سنگ دلی سے کہتا ہے خود بھی بیڈ پہ بیٹھ گیا۔
“میں کہاں جاؤں گی میں نہیں جاؤں گی۔”وہ رونے لگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.