Be-Qusoor by Samreen Shahid Complete Urdu Afsana 2024 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. we have started a journey for social media writers to publish their content.

یہ !! یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے تم ہی ہمیشہ حمزہ کے سامنے بھٹکتے رہتی تھی اپنی خوبصورتی کے جال بچھا کر اُسے مجھ سے چھین لیا ”
رانیہ رو رو کر پورے گھر میں واویلا مچا دیا

”کیا ہوا ہے ؟ رانیہ تم اس طرح کیوں چینخ رہی ہو ؟“
فاروقی صاحب پوچھنے لگے
“بابا …… اس لڑکی ….اس لڑکی کی بددعاؤں نے میری تمام خوشیاں چھین لی ہے”
“حمزہ !!حمزہ مجھ سے نہیں اس سے…. اس سے شادی کرنا چاہتا ہے .اسے اپنی محبت قرار دے رہا ہے وہ … مم _میں اُسکے لیے کچھ نہیں ہوں اسکی دوست , بیسٹ کزن اور اب وہ اپنی منکوحہ بھی اسے ہی بنانا چاہتا ہے
نہیں !! میرا بچّہ ایسا نہیں ہے یہ تمہاری بہن ہے … ”تمہاری چھوٹی بہن وہ تمہیں بددُعائیں نہیں دے سکتی رانیہ بچّہ !!چُپ کر جاؤ…
لبنٰی بیگم رانیہ کو سمجھانے والے انداز میں کہنے لگیں
“نہیں ماما ….. ایسا ہی ہے اس لیے … اس لیے میں نفرت کرتی ہوں …میں نفرت کرتی ہوں اس لڑکی سے جو
بچپن سے سبھی کے آنکھوں کا تارا بن کر رہتی آئی ہے اور میں مجھے صرف کم صورتی کا طعنہ ملتا آیا ہے”
انکے ساتھ فاروقی صاحب بھی اسکے اس انکشاف پر دھنگ رہ گئے کہ وہ اس طرح احساس کمتری میں مبتلا ہے کہ اُسے اپنی ہی بہن سے نفرت ہے.
”یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟“
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ؟اس بار فاروقی صاحب نے بلند آواز میں کہا
”بابا …. پلیز مجھے حمزہ واپس کردیں …. ”
وہ التجائے لہجہ میں کہنے لگی …

BeQusoor (afsana) by Samreen Shahid

Leave a Comment

Your email address will not be published.