Jaan-e-Sitamgar by Farwa Khalid Complete Urdu Romantic Novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

sneak 1

“تم میرے اتنے قریب میرے بیڈ پر کیا کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اتنی زور سے اُس کی کلائی دبوچی تھی کہ مہروسہ کو اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی تھیں۔
“مم میں نہیں جانتی۔۔۔۔ مجھے تو فرح آپی نے یہاں بھیجا تھا۔۔۔۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ یہ آپ کا روم ہے۔۔۔۔”
مہروسہ نے اپنے کردار میں رہتے نہایت ہی خوفزدہ انداز میں اُس بپھرے شیر کو جواب دیا تھا۔
“آخر تم کیوں کررہی ہو یہ سب۔۔۔۔؟؟؟ میرے گھر والوں کے بیچ رہنے کا مقصد کیا ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان بہت بُری طرح پھنس چکا تھا۔۔۔ اُس کے گھر والے اُسے اِس لڑکی سے سختی برتنے نہیں دے رہے تھے۔۔۔ اور وہ اِس لڑکی کو یہاں رہنے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔
“مم نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔۔”
وہ اُس کی بات پر آنکھوں میں آنسو بھرے منمنائی تھی۔
“پلیز مجھے چھوڑیں۔۔۔ جانے دیں۔۔۔۔”
اُس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے مہروسہ کو لگ رہا تھا اُس کا دھڑک دھڑک کر پاگل ہوتا دل پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔۔۔۔
“چھوڑوں گا تو اب میں تمہیں کسی صورت نہیں۔۔۔۔ بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی تمہیں اِس دھوکے کی۔۔ “
حمدان اُسے کلائی سے تھام کر بیڈ سے نیچے کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کبھی اُس کے سامنے بنا دوپٹے کے نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔ مگر اِس وقت دوپٹہ ہونا تو دور کی بات اُس کے کمر سے نیچے آتے لمبے گھنے بال چٹیا میں مقید حمدان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔۔۔۔
وہ سر تاپا قیامت سا حُسن رکھتی تھی۔۔۔ اِس بات سے حمدان صدیقی بھی انکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔ مگر اُسے اِس لڑکی سے نفرت کے علاوہ کوئی جذبہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔۔

Sneak 2

آپ جیسا اِس قدر جذبات سے عاری اور اَن رومینٹک بندہ میں نے آج تک دیکھا کہاں ہے۔۔۔۔ “
پریسا اپنی جانب بہت آہستہ آواز میں بولی تھی۔۔۔ مگر اُس کی بات شاہ ویز کی زیرک سماعتوں سے نہیں بچ پائی تھی۔۔۔۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔۔؟؟؟”
وہ واپس پلٹا تھا۔۔۔
“میں اَن رومینٹک ہوں۔۔ یہی کہا ہے نا تم نے۔۔۔؟؟”
شاہ ویز سوالی نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھتے بیڈ پر اُس کے قریب آن بیٹھا تھا۔۔۔
“نن نہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔۔”
پریسا اُس کے خطرناک تاثرات دیکھ نفی میں سر ہلاتی پیچھے کو کھسکی تھی۔۔۔

“شاہ ویز سکندر دور رہو مجھ سے۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے سینے پر اپنی کپکپاتی نازک ہتھیلیاں جماتی اُسے دور دھکیلنے کی ناکام کوشش کر گئی تھی۔۔۔
“پریسا آفندی۔۔۔ وہ الفاظ ادا ہی مت کرو۔۔۔ جو برداشت نہ کر پاؤ۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی دونوں کلائیاں دبوچ کر تکیے سے لگا چکا تھا۔۔۔ پریسا نے خوفزدہ نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔
“میرے پاؤں میں درد ہورہا ہے۔۔۔۔”
پریسا نے اُسے پیر کی چوٹ یاد دلانی چاہی تھی۔۔۔
“اور مجھے دل میں درد ہورہا ہے پریسا آفندی۔۔۔ تمہارے درد کا علاج تو ہر ڈاکٹر کے پاس موجود ہے۔۔۔ مگر میرے درد کا علاج ایک انسان کے سوا کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔۔۔۔تو سوچ لو۔۔۔ زیادہ بڑا درد کس کا ہوگا۔۔۔ مجھے اپنی جانب متوجہ کرنے کی جو یہ کوشش کررہی ہو۔۔۔ ترک کردو اِنہیں۔۔۔ کیونکہ جب میں قریب آیا تو تم اپنے ہوش بھول جاؤ گی ۔۔”
شاہ ویز ضبط سے سُرخ آنکھوں سے بولتا اُس پر جھکا تھا۔

Jaan-e-Sitamgar by Farwa Khalid

Leave a Comment

Your email address will not be published.