Main tera Sarmaya Hoon By Saniya rauf Download complete urdu novel 2026 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Sneakpeak

“اپنے کمرے میں بُلا رہے ہیں سردار آپ کو! اس کا سانس سوکھا۔
“کمرے میں کیوں؟”
“یہ وہی بتائیں گیں۔۔۔۔اور پلیز یہ جوتے اتار دیں انہیں گندگی نہیں پسند۔”
“ہاں مگر میلے دل پسند ہیں ان سب کو!”
وہ دل میں بولی اور جوتے اتارتے اوپر اس کے کمرے کی طرف بڑھی۔
“کم اِن!” وہ کب سے کھڑی ہمت اکٹھی کر رہی تھی جب اندر سے آواز آئی۔
اس نے اندر قدم رکھا لیکن دروازہ کُھلا ہی رہنے دیا وہ اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا۔
مُڑ کر اسے دیکھا اور پھر مسکرایا۔
“دروازہ بند کر دو!”
اس کی گھمبیر آواز پر اس نے تھوک نگلا اور دروازہ بند کر دیا اور وہیں کھڑکی انگلیاں مروڑنے لگی۔
“یہاں اؤ!” دوسری آواز پر وہ دم سادھ گئی۔
“یہیں بتادیں پلیز۔۔۔۔!”
وہ کونفیڈنٹ تھی لیکن اس کے سامنے آ کر اس کی ساری ہمت، سارا اعتماد پانی ہو رہا تھا۔
“یہاں آ رہی ہو یا میں آؤں؟” وہ سخت آواز میں بولا تو وہ قدم قدم اٹھاتی اس کے قریب گئی۔
جی!
شایان نے اسے دیکھا جس نے چادر مزید کھینچ کر ماتھے کو چھپا دیا تھا اور خود کو بھی اس چادر میں چھپا رکھا تھا اس کے چھوٹے سے نازک سراپے پر نظر ڈالی اور پھر اس کی پلکوں پر جو بیشک اسی کے خوف پر لرز رہی تھیں۔
“تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں یہاں کیوں بُلایا ہے؟” وہ استسفار کرنے لگا۔
“نہیں!” وہ آنکھیں اٹھاتے اس کی آنکھوں میں دیکھتےبولی۔
“تو کیوں آئی ہو؟”
“اپنے باپ کا حق لینے۔۔۔یہ جس حویلی نما محل میں آپ لوگ رہ رہے ہیں اس میں میرے باپ کی بھی محنت ہے۔۔۔۔انہوں نے روایت کا پاس نہیں رکھا یہ کوئی گناہ نہیں اور چلیں سزا کے طور پر انہیں سب چیزوں سے نکال دیا گیا لیکن میرے باپ کی محنت کی قیمت تو پوری کریں اگر اتنے انصاف پسند ہیں تو!”
شایان نے اس چھٹانگ بھر کی لڑکی کو دیکھا جو ڈرتی تھی تو نظریں تک نہ اٹھاتی تھی اور اب بے خوف جو بولی رہی تھی تو نگاہیں اس کی نگاہوں سے نہ ہٹائیں تھیں۔
شایان نے قدم اٹھائے تو وہ پیچھے ہوتی چلی گئی اور الماری کے ساتھ لگ گئی۔
“اپنے باپ کی بات کر کے موڈ مت خراب کرو!”
“مجھے کچھ اور چاہیے تم سے۔۔۔۔۔”وہ یہ سب نہیں کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن سامنے موجود لڑکی کا اعتماد بھی تو توڑنا تھا۔
اس لیے اس کے ماتھے سے چادر کو پیچھے کرتے اس کے سر سے اتار دیا تو وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
“شوہر ہوں تمہارا میرا حق ہے!”
“کاش آپ نے فرائض بھی ادا کیے ہوتے!”
وہ بولتی پھر سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جو شایان عثمانی کو نہیں بھایا تھا یقیناً۔
اس گاؤں کے وڈیرے کا پیٹا تھا وہ۔۔۔۔اپنا بزنس بیشک تھا اس کا۔۔۔۔لیکن گاؤ ں میں کوئی اس سے اتنی قریب آ کر آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کی ہمت نہ رکھتا تھا جو وہ کر رہی تھی۔
اس کے بالوں کو تھامتے شایان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“کیا کیا کر سکتی ہو؟”
“آپ کیا کروانا چاہ رہے ہیں؟”
دل میں وہ از حد خوفزدہ تھی لیکن اگر آج ڈر جاتی تو وہ شخص اسے خوفزدہ کرتے کرتے ہی مار دیتا۔
“دلچسپ۔۔۔۔بہت دلچسپ!”
“شایان عثمانی کے سارے کام! سارے مطلب سارے آج سے تمہارے زمے ہیں۔۔۔۔”وہ تو کچھ اور سوچے ہوئے تھا لیکن کچھ اور کر گیا تھا۔
“میرے بابا کو اچھے مہنگے ہسپتال میں داخل کروائیں ان کا سارا علاج آپ کے زمے ہو گا تو مجھے سب منظور ہے۔”
“تم اپنی قیمت بتا رہی ہو؟”
“نہیں! میری قیمت تو بہت زیادہ ہے آپ سب مل کر بھی ادا نہیں کر پائیں گے”
وہ اس کی طرف دیکھتی رُخ پھیر گئی جیسے سامنے کھڑا شخص معنی نہ رکھتا ہو۔
“اور اگر تمہیں خرید لوں تو؟” شایان نے اس کے دونوں بازوؤں کو تھامتے کہا۔
“آپ میرے جسم کو خرید سکتے ہیں شایان عثمانی لیکن میری روح کو نہیں۔۔۔۔۔کونیں خاور کبھی اس حویلی کے مرد کا نصیب نہیں بنے گی”
“میرے نکاح میں ہو تم بھول رہی ہو۔”
“مجھے یاد ہے آپ بھول گئے ہیں۔۔۔۔آپ کو یاد نہیں آیا سات سالوں میں میں نے ہر روز اس رشتے کے ختم ہونے کی دعا مانگی ہے”
ایک اور تماچہ وہ اسے مار گئی تھی اور بس یہی تک تھا شایان عثمانی کا صبر۔
“ڈیمممم اٹ!
اب میں دیکھتا ہوں تم اس رشتے سے رہائی کیسے پاتی ہو۔۔۔۔میری موت تک تو تمہارا نام میرے نام سے الگ نہیں ہو گا” کونین خاور وہ اسے دھکا دیتا بولا۔
وہ زمین پر گرتے گرتے بچی تھی۔۔۔۔حلق آنسوؤں سے بھر گیا تھا لیکن آنکھوں سے ایک قطرہ نہ گرنے دیا۔
وہ شخص کہاں اہمیت رکھتا تھا کہ اس کے سامنے اپنے آنسوؤں کو بے مول کیا جاتا۔
“جاؤ نیچے میرا ناشتہ بناؤ! آرہا ہوں میں پانچ منٹ میں” وہ اپنا پہلا حکم صادر کرتا بولا۔
“کل سے!” وہ بولنے لگی تھی کہ وہ اس کے پاس آیا اور اسے جھٹکے سے کھڑا کیا کہ وہ اس کے سینے میں لگتے لگتے بچی۔
“آج سے اور ابھی سے!”
اس نے فون نکالا۔۔۔۔۔خاور عثمانی کو ہسپتال میں داخل کرواؤ۔۔۔۔۔اچھے ڈاکٹرز سے علاج ہونا چاہیے۔
وہ بولا تو کونین کھڑی ہو گئی اور سر ہلاتی فوراً اس کا کام کرنے کے لیے نکل گئی۔
“تمہاری کمزوری تمہارہ باپ ہے کونین خاور!” اس کی پشت کو دیکھتا وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔

مکمل ناول کا کوڈ نیچے کمنٹ سیکشن میں دے دیا گیا ہے۔ ابھی چیک کریں! ✨”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *