kahi pyar na hojaye by unknownwriter download complete urdu novel 2026 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Sneakpeak

تمہاری ماں کے علاج کا خرچہ میں اٹھا لوں گا لیکن بدلے میں تمھیں میرے ساتھ ایک رات گزارنی ہوگی۔” شاہویز کی بات سن کر ماہی دنگ رہ گئی۔ وہ اسکا باس تھا۔ بہت مجبوری میں وہ اسکے پاس مدد مانگنے آئی تھی۔ “ٹھیک ہے آپ ایک رات کیلئے مجھ سے نکاح کرلیں صبح بے شک طلاق دے دیجئے گا۔” وہ راضی ہوگئی۔ نکاح کے بعد پوری رات گزارنے کے بعد صبح ماہی نے طلاق کا مطالبہ کیا لیکن “نہیں۔۔۔۔میرا ارادہ بدل گیا ہے۔” شاہویز کی بات سن کر وہ کانپ گئی…..
“آپ بابا بننے والے ہیں۔” ڈاکٹر کی مسکراتی آواز نے جہاں شاہویز ملک کی آنکھوں میں حیرانی اور چہرے پر مسکراہٹ بھری تھی وہیں ماہی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس انکشاف کو سن رہی تھی۔ آنسو خاموشی سے اس کی پلکوں کی باڑ توڑتے رخسار پر بہہ نکلے تھے۔ شاہویز ملک کو کچھ لمحے لگے تھے خود کو سنبھالنے میں۔۔۔۔ “ڈاکٹر میں صحت مند گول مٹول بےبی چاہتا ہوں یہ میرا فرسٹ ایکسپیرینس ہے پلیز مجھے گائیڈ کریں مجھے کیا کرنا چاہیے۔” وہ ڈاکٹر سے ملتجی لہجے میں رہنمائی مانگ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔ وہ اسے میڈیسن اور اچھی ڈائٹ دینے کی تجویز دینے لگی۔ ڈاکٹر کے کلینک سے نکلتے وہ دونوں پارکنگ میں آ چکے تھے جہاں شاہویز اپنی گاڑی کی طرف اور ماہی سڑک کی طرف جا رہی تھی تاکہ کوئی رکشہ روک سکے۔۔۔ شاہویز نے لپک کر اس کا ہاتھ پکڑا۔ “کہاں جا رہی ہو؟” وہ اس سے حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔ “آپ سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے یہ کانٹریکٹ میں درج نہیں تھا کہ میں ہر بات کے لیے آپ کو جواب دہ ہوں۔” وہ برستی آنکھوں سے بغاوت کر رہی تھی۔ “ماہی یہ میری بھی اولاد ہے۔” وہ اسے مطمئن کرنا چاہتا تھا۔ اسے لگ رہا تھا شاید ماہی کو یہ بات ڈسٹرب کر رہی ہے۔ “ایک منٹ شاہویز ملک۔۔۔ یہ صرف میری اولاد ہے۔” ماہی نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔ “اس پر آپ کا کوئی حق نہیں۔۔ مجھے اسی بات پر رونا آ رہا ہے کہ کل اس بچے کو کیا جواب دوں گی۔۔۔۔؟ اس کا باپ ایک زانی تھا، بد کردار تھا۔۔۔؟ جسے صرف لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا آتا تھا۔۔۔۔؟ آج کے بعد آپ میرے راستے میں نہیں آئیں گے۔” اس نے قطعیت سے کہا۔ شاہویز کی آنکھیں لہو رنگ ہوئیں۔ “میں نے کسی روز بھی تمہاری مجبوری کا فائدہ مفت میں نہیں اٹھایا۔ میں تمہیں اس کے لیے بے کرتا رہا ہوں۔” وہ اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بار پھر اس کی اوقات یاد دلا گیا۔ “کون سی پیمنٹ۔۔۔؟ آپ کو کیا لگتا ہے دنیا میں ہر چیز آپ پیسے سے خرید سکتے ہیں۔۔۔۔؟ میں اب تک آپ کے پاس صرف اس لیے آ رہی تھی کہ میں آپ کے نکاح میں تھی۔ اگر یہ نکاح نہ ہوا ہوتا تو آپ اور میں کبھی بھی ایک ساتھ نہ ہوتے۔۔ اس خوش فہمی سے نکل آئیے شاہویز ملک کہ آپ جب چاہیں جس کو چاہیں پیسوں سے خرید سکتے ہیں۔ آج کے بعد اگر میں نے آپ کو اپنے آس پاس دیکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔ میں یا تو خود کو ختم کر لوں گی یا اس بچے کو۔” وہ چبا چبا کر کہتی وہاں سے نکلنے ہی والی تھی جب شاہویز نے ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور گاڑی میں بٹھایا۔ “چاہے تم مجھ سے ناراض رہو میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا لیکن پبلک ٹرانسپورٹ میں مت جاؤ تمہاری ہیلتھ کے لیے سیف نہیں ہے۔” وہ التجا کرتا گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔ وہ راستے میں اس کے لیے بے تحاشہ چیزیں خریدتا اس کے لیے فریش جوس آرڈر کر گیا اور اسے زبردستی پلایا۔ اس کو خوش رہنے کی تلقین کرتا گھر ڈراپ کر کے جا چکا تھا۔ واپسی کے راستے پر شاہویز ملک کے دماغ میں اس کی باتیں گھوم رہی تھیں تبھی خیال آنے پر اس نے فون اٹھایا اور اپنے مینیجر کو کال ملائی۔ “مس ماہی کو اب تک کتنے چیک جا چکے ہیں؟” وہ تحکمانہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔ لائن کے دوسری طرف اس کا مینیجر گڑبڑایا۔ “سر صرف ایک ہی چیک گیا ہے میڈم کو 20 لاکھ کا۔” وہ منمنایا تھا۔ “واٹ ربش میں تم سے کہتا رہا اسے چیک دے دینا تم اب تک سوئے ہوئے تھے؟” وہ دھاڑا تھا۔ “سر میم نے لینے سے منع کر دیا تھا۔” وہ بیچارہ کیا کر سکتا تھا۔ “بتا نہیں سکتے تھے۔۔” وہ ایک بار پھر دانت کچکچاتے پوچھ رہا تھا۔ “سوری سر۔۔۔۔ مجھے خیال نہیں رہا۔” وہ غصے میں کال کاٹ چکا تھا تبھی اس کی نظر پچھلی سیٹ پر پڑے فروٹس پر پڑی وہ ان میں سے کچھ بھی نہیں لے کر گئی تھی۔ “ماہی تمہیں مجھ سے اس حد تک نفرت ہے کہ تم ہمارے بچے پر میرا سایہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔” وہ کرب سے سوچ رہا تھا۔ وہ تیزی سے گاڑی ریورس کرتا ماہی کے گھر کے باہر گاڑی کو زوردار بریک لگائی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *