Ab to hogya hr din eid by shazia mustafa Download complete urdu novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

“آاپ کیا سمجھ رہی ہیں میں اپ کو ڈائیورس آسانی سے دے دوں گا محترمہ یہ اپ اپنے دماغ میں بٹھا لیں۔ہمارے خاندان میں نا اج تک کسی کو ڈائیورس ہوئی ہے اور نہ کوئی یہ برا فعل سرانجام دیتا ہے۔” اس کی گیلی لٹوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کیا وہ بدک کے پیچھے ہوئی تھی۔
“لیکن میں ایک جھوٹے اور دھوکے باز انسان کے ساتھ یہ رشتہ قائم نہیں رکھنا چاہتی۔”وہ بھی خونخوار لہجے میں ہی اسے باور کراتی شیرنی لگی۔
“لیکن میں یہ رشتہ آخری سانس تک قائم رکھوں گا علشبہ صفوان۔” اس کے کمر میں اپنا بازو حمائل کیا اور اس کا گیلا وجود اپنے سے قریب کر لیا۔
“اگر زیادہ شور مچانے کی کوشش نہیں نا تو سوچ لو اس سے اگے میں کیا کر سکتا ہوں۔”وہ سرمئی انکھوں میں شوخی شرارت اور رعب و دھونس لیے اس کے کانوں کی لووں پر اپنا لمس چھوڑ چکا تھا۔علشبہ نے اس لمحے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس کیا صفوان نے اسے چھوڑ دیا تھا۔
“نیچے معیز سے ملنے ا جاؤ ورنہ ایسا نہ ہو کہ مجھے زبردستی کرنی پڑ جائے۔”
اونہہ۔نخوت سے کہا۔
“سامان اپنا باندھ لیجیے گا میں رمضان اور عید گاؤں میں کرتا ہوں اماں بہت بے تاب ہے اپنی نئی بہو سے ملنے کیلیے۔”باہر جاتے ہوئے کہا وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی رہی تھی۔ مجبوراً معیز سے بھی ملی کیونکہ صفوان کی دھمکی نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔
“علشبہ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے تمہارا اچھا سوچ کے ہی۔۔۔”
“پلیز میز بھائی مجھے اس ٹاپک پہ بلکل بات نہیں کرنی ہے کیونکہ میں نے دیکھ لیا ہے جنہیں ہم اپنا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہی ہمیں دھوکہ دیتا ہے۔” لہجے میں حسرت محرومی اور اداسی پنہاں تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.