Ae Ishq Teri Khatir by Farwa Khalid Complete Urdu Romantic Novel 2024 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

آپ جانتے ہیں نا وہ میرے لیے کیا ہیں. میں اُن سے کتنا پیار کرتی ہوں. اُن کے بغیر نہیں رہ سکتی نہ اُنہیں کسی اور کا ہوتے دیکھ سکتی ہوں. پر مجھے پتا چلا ہے وہ شادی کررہے ہیں. پلیز انکل اُنہیں کسی طرح روک لیں پلیز. میں اُن سے بہت محبت کرتی ہوں. اُن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی. پلیز انکل اگر وہ کسی اور کے ہوگئے تو میں مر جاؤ گی.”
ماہ روش نے پہلی بار ارتضٰی کے متعلق کسی کے سامنے اِس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا
ویلڈن ماہ روش ذوالفقار ویری امپریسو. بہت اچھی کوشش تھی مگر افسوس. تمہاری ساری محنت بےکار گئی۔۔تمہیں کیا لگا مجھے جنرل یوسف سمجھنے کا ناٹک کرکے تم. اپنے جھوٹے جذبات کا اظہار کرو گی اور میں یقین کر لوں گا. “
ارتضٰی کی بے اعتباری پر ماہ روش نے تڑپ کر اُس کی طرف دیکھا تھا. جو اُس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا اور اُس کو نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا
تم تھکتی نہیں ہو اِس طرح معصومیت کا ناٹک کرکے. تم جیسے لوگ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں. دوہرے چہرے لے کر گھوم رہی ہو تم. ایک چہرے پر بچارے اور ایماندار ہونے کا نقاب چڑھا رکھا ہے جبکہ دوسرا چہرہ شاطر اور غدار کا ہے جو کہ تمہارا اصلی چہرہ بے. تم نے بہت بےوقوف بنا لیا اِس طرح کرکے مگر اب اور نہیں. “
ارتضٰی نے آج بغیر کوئی لحاظ کئے ماہ روش کے دل کو مزید لہولہان کیا تھا.
اُس نے صرف ماہ روش کے جذبات کو ہی نہیں بلکہ اُس کے پروفیشن پر بھی الزام لگایا تھا. ماہ روش کے پاس اب مزید ارتضٰی کو کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا. وہ آج مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی
” سر آپ غلط سمجھ رہے ہیں. میں سچ بول رہی تھی. اور میرے جذبے جھوٹے نہیں ہے.”
ماہ روش اپنی محبت کو جھوٹا کہے جانا برداشت نہیں کرپائی تھی. اور سامنے کھڑے بے درد انسان کو یقین دلانے کی ایک کوشش کرتے نجانے کتنے ہی آنسو اُس کے رُخسار پر بکھرے تھے
” مجھے اپنی محبت اور ایمانداری کا یقین دلانے کے لیے کیا کرسکتی ہو تم. “
ارتضٰی کی گرم سانسیں ماہ روش کے چہرے کو چھو رہی تھیں. ماہ روش کو اپنا وہم لگا تھا یا جو بھی بھی مگر اُسے ارتضٰی کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت نظر آئی تھی.
” اپنی جان دے سکتی ہوں. “
” کاش کہ تم ذوالفقار کی بیٹی نہ ہوتی اور میں تمہاری باتوں پر یقین کرپاتا. “
ارتضٰی اُن لمحوں کے حصار سے نکلتا اپنے مخصوص انداز میں اُسے باور کروا گیا تھا.

Ae Ishq Teri Khatir by Farwa Khalid

Leave a Comment

Your email address will not be published.