Anookhi Jeet by Huma Waqas Complete Urdu Novel 2023 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

” قبول ہے “

موحد نے کن اکھیوں سے سر پر پسٹل تانے لڑکے کو دیکھا اور دانت پیستے ہوۓ سامنے بیٹھے نکاح خواں کو جواب دیا ۔ نکاح خواں نے مسکراتے ہوۓ رجسٹر بند کیا اور اپنی جگہ سے اٹھا ۔ دو کڑوڑ حق مہر پر نکاح ہوا تھا

” بیٹے کسی لڑکی کو دھوکا دینے سے پہلے یہ یاد رکھنا تھا کہ ہر لڑکی کمزور نہیں ہوتی “

نکاح خواں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے کہا موحد نے چونک کر غصے سے سر اٹھایا ۔

” دھوکا ۔۔۔ کیا ، کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟ “

موحد نے حیرت سے منہ کھولے سوال کیا جبکہ نکاح خواں کمرے کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ پتہ نہیں موٹی نے کیا کہانی ڈالی تھی نکاح خواں کے سامنے جو وہ اسے یوں کہہ کر جا رہا تھا ۔

پورا ایک دن اسے یونہی باندھ کر رکھا گیا تھا اور بلا آخر موحد نے اس سب سے جان چھڑانے کی خاطر نکاح کی حامی بھر ہی لی ۔ دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا بھوک سے برا حال تھا ۔

” مبارک ہو دلہا بھاٸ “

پاس کھڑے آدمی نے اس کے کندھے پر کہنی مار کر موحد کو چھیڑا وہ دونوں اب ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے ۔

” شٹ اپ ۔۔۔ بکواس بند کرو اور جانے دو مجھے اب “

موحد نے غصے سے جھاڑتے ہوۓ پسٹل کی طرف دیکھا ۔ تو دونوں قہقہ لگا کر ہنسنے لگے ۔

” جانے دیتے ہیں اتنی جلدی بھی کیا ہے ؟ ، باجی حکم کریں گی تب “

ان میں سے ایک نے آنکھ دبا کر کہا ۔ موحد کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان کو تحس نحس کر دیتا پر وہ لوگ دستخط کے فوراً بعد اسے پھر سے باندھ چکے تھے ۔

کمرے کا دروازہ کھلا اور ردا مسکراتی ہوٸ اس کی طرف بڑھی وہی مخصوص حلیہ جینز ٹی شرٹ اور گلے میں جھولتا سکارف ، دونوں اطراف سے کندھوں پر گرتے گھنگرالے بال ، لبوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں فاتحانہ چمک لیے ۔

” انہیں کہو کھولیں مجھے “

موحد نے چیخ کر کہا اور خونخوار نظروں سے گھورا ، کون سی منحوس گھڑی تھی وہ لاہور آیا تھا ۔ وہ دو دن سے خود کو کوس رہا تھا ۔

” کھول دو “

ردا نے پرسکون لہجے میں کہتے ہوۓ سینے پر ہاتھ باندھے دونوں آدمی اشارہ پاتے ہی اب موحد کو کھول رہے تھے ۔

” مجھے جانا ہے “

موحد ایک دم سے اٹھا اور حقارت سے ردا کی طرف دیکھتے ہوۓ دو ٹوک کہا ۔

” کہاں بھٸ ؟ ، کہیں نہیں جا سکتے تم نکاح ہو گیا ہمارا اب میں جو کہوں گی وہ کرو گے “

ردا نے مسکراتے ہوۓ کہا جبکہ ہاتھ اپنے بالوں کی لٹ کو رول کر رہے تھے ۔

” نکاح ۔۔۔ “

موحد نے زور سے طنزیہ قہقہ لگایا

” میں نہیں مانتا اس نکاح کو “

موحد نے ناک پھلا کر کہا ، وہ بھوک اور باندھے رہنے کی وجہ سے بے حال سا تھا ۔ بال بکھرے ہوۓ ہونٹ خشک

” نا مانو ، تم نا مانو لیکن دنیا تو مانے گی لیگلی اب تم اس موٹی بھینس کے اکلوتے ہیزبینڈ ہو جس سے بقول تمھارے کوٸ شادی نہیں کر سکتا تھا “

ردا نے مزے سے استہزاٸیہ کہا ۔ موحد کا چہرہ زرد سے سرخ ہوا

” نہیں ہو ں میں تمھارا ہیزبینڈ ، تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھتی رہو ، اور جانا ہے مجھے اب “

موحد نے غصے سے کہا اور ایک طرف پڑے اپنے بیگ کی طرف بڑھا ۔

” ارے اتنا غصہ ابھی تو تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے ہمیشہ ، ابھی تو مجھے سب کو بتانا ہے سب “

ردا پر سکون تھی جیسے ذہن کو تسکین مل گٸ ہو ، طاقت کا نشہ تھا یا پھر اپنی تزلیل کے تگڑے جواب کا

” ابھی نہیں جا سکتے تم کہیں بھی میرے ساتھ ہی جاٶ گے میرے گھر “

ردا نے دو ٹوک کہا ، موحد اس پر جھپٹنے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا کہ دونوں آدمیوں نے اسے بازوٶں سے دبوچ کر روک لیا ۔

” کھانا دو میرے مزاجی خدا کو “

ردا نے شریر سے لہجے میں کہتے ہوۓ دونوں آدمیوں کو کہا اور بڑی ادا سے بالوں کو جھٹکا دیا

” باجی مزاجی نہیں مجازی ہوتا ہے “

ان دونوں میں سے ایک نے بتیسی نکال کر درستگی کرواٸ

” نہیں یہ میرے مزاجی ہی ہیں “

وہ مسکرا کر کہتی بڑے آرام سے کمرے سے باہر نکل گٸ ۔ موحد نے ایک خونخوار نگاہ ردا پر ڈالی اور پھر پرسوچ نگاہوں سے دونوں آدمیوں کی طرف دیکھا ۔

Anookhi Jeet by Huma Waqas

Leave a Comment

Your email address will not be published.