fareeb e chasham by Umaima khan complete Urdu romantic novel

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

“” منگنی شدہ ہو؟ “”

جائزہ لیتی نگاہوں سے پوچھا گیا اسکا سوال مرحا کے ماتھے پر کئ بل ڈال گیا۔۔۔۔ ہاتھ روک کر ایک طائرانہ نگاہ پورے ریسٹورینٹ میں ڈالی ،،، لیکن کوئ انکی طرف متوجہ نہ تھا۔۔ ویٹرز اور مینیجر اپنی اپنی جگہ پر کام میں مگن تھے۔۔۔ اور لوگوں کو پہلے ہی نکالا جا چکا تھا۔۔۔

“” دوسروں کی ذاتیات میں مداخلت کرنا اجنبیوں کو زیب نہیں دیتا۔۔ “”

دانت پیس کر کڑا ضبط اختیار کیا تھا۔۔۔۔

لڑنے کی بجائے مصالحانہ رویہ اپنایا تھا،، کیونکہ مقابل سے بحث کے نتیجے میں دونوں میں سے کوئ بھی ہار نہ ماتا بلکہ اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہتے ۔۔

“” اجنبی سے اپنا بننے کا یہ سفر طے کرنے کیلئے ذاتیات میں مداخلت نہایت ضروری ہوتی ہے “”

آنکھوں سے چشمہ اتار کر میز پر رکھا تھا،،

مرحا نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔

“” سوال کا جواب نہیں دیا تم نے “”

اسکی آنکھوں میں واضح حیرت کو دیکھتے وہ اپنا سول دہرا گیا۔۔۔

“” نہیں،، “”

گہری سانس کھینچ کر جواب دیا تھا۔۔۔ اسکا سوال حیران کر گیا تھا،،، لیکن جواب نہ دینے کی صورت میں وہ ضدی اور مغرور انسان بار بار پوچھتا ۔۔۔ اسلیے آرام سے بتا دیا۔۔۔

البتہ نگاہیں ریسٹورینٹ میں چلتے پھرتے ویٹرز پر ٹکی تھیں۔۔۔۔۔

مقابل کے چہرے پر جیسے اطمینان کی لہر دوڑی تھی۔۔۔۔

“” شادی کرو گی مجھ سے؟؟ “”

حیرت تو شاید ایک معمولی تیرین لفظ تھا مرحا کمال کی کیفیت کو ناپنے کیلیے۔۔۔

کوئ پیمانہ کوئ لفظ یا کوئ جملہ اسکی حیرانی کی انتہا کو بتانے سے قاصر تھا۔۔۔۔

نظریں جیسے اسکے چہرے پر چپک کر مزاق کی رمک تلاش کرنے کی سر توڑ کوششوں میں تھی۔۔۔ اتنی جلدی اور اتنے فلمی انداز میں وہ اس سے پوچھے گا،،، اس کے تو لاشعور میں بھی نہ تھا۔۔۔

کئ لمحے وہ اردگرد کا ہوش بھلائے یہ سمجھنے میں مصروف تھی کہ مقابل سنجیدہ ہے یا مزاق کر رہا ہے ۔۔۔

“” Don’t say you are in love with me””

نگاہیں اسکے چہرے سے ہٹا کر مرحا عجیب انداز میں مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔۔

“” نا میں شاہ رخ خان ہوں نا تم کاجول۔۔۔ کہ میں نے تمہیں ایک نظر دیکھا اور تمہاری آنکھوں میں ڈوب گیا،،، تمہاری زلفوں کا اسیر ہو گیا،،، تمہاری آواز کا دیوانہ ہو گیا۔۔۔ تمہارے لبوں پر فدا ہو گیا،،، تمہاری اداؤں پر مارا گیا۔۔۔

میں میر عالیہان آفندی ہوں،، اور تم مرحا کمال۔۔۔

اس لیے یہ خوش فہمیاں نہ پالو۔۔۔ “”

عالیہان آفندی کا زوردار قہقہہ مرحا کمال کی مسکراہٹ سمیٹ گیا۔۔۔ پیچھے کو سر گرائے وہ زوردار ہنسی ہنسا تھا۔۔۔۔ پل بھر میں اسکے سوال کو خوش فہمی کا لبادہ اوڑھا کر دور پھینکا تھا۔۔۔۔

ایک بار پھر مزاق کی رمق تک نہیں تھی اسکے چہرے پر۔ ۔۔۔

اسکی ہنسی مرحا کمال کو اپنا مزاق اڑاتی محسوس ہوئی۔۔۔

“” پاگل ہو تم “”

پوچھا تھا یا تجزیہ کیا تھا،،، عالیہان کو اندازہ نہ ہوا۔۔۔

“” پاگل والی کیا بات ہے اس میں۔۔ نکاح نامہ دیکھا ہے کبھی تم نے۔۔۔

ساری معلومات لکھی ہوتی ہے،،، ہر چیز کا الگ الگ خانہ ہوتا ہے،،، بس محبت کا خانہ نہیں ہوتا۔۔۔۔

شادی کا محبت سے کیا تعلق بھلا۔۔ جب نکاح نامے میں محبت کی جگہ نہیں ہوتی تو میں کیوں مانوں۔۔۔ “”

ٹانگ پر ٹانگ جمائے وہ ماحول پر اپنی وجاہت کی بدولت چھا سا گیا تھا ۔۔

جبکہ مرحا حیرت کی دنیا میں ڈوبی اس سر پھرے شخص کی باتوں کا سر پیر تلاش رہی تھی۔۔۔۔

“” راجو کہتا ہے شادی کیلئے لڑکی پڑھی لکھی ہونی چاہیے،،، پیاری ہو،،، عقل مند ہو۔۔۔۔

یہ چیزیں تم میں ہیں،،، عقل کی کمی ہے،،، لیکن پھر بھی میں قناعت پسند انسان ہوں،،، سمجھوتہ کر لوں گا۔۔۔ “”

آرام سے راجو کے الفاظ اسکے سامنے دہرائے تھے۔۔۔۔ وہ ایسے ہی تھے ایک دوسرے پر طنز کے تیر برسا کر خاموش ہو جانے والے،، یوں جیسے سمندر میں طوفان کے بعد گہرا سکوت چھا جاتا ہے۔۔۔

“” راجو نے یہ نہیں بتایا کہ لڑکا کیسا ہونا چاہیے؟””

دانت پیستے اس سے پوچھا۔۔۔

“” وہ کمینہ تو بتا رہا تھا میں نے ہی منہ بند کروا دیا۔۔۔ بھئ لڑکا جیسا بھی ہو مجھے تو لڑکی سے مطلب ہے “”

ڈھیٹوں کی طرح ہنستے ہو مرحا کو تاسف سے سر ہلانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔

“” لیکن میں بتا سکتی ہوں کیونکہ تم میرا منہ تو بند نہیں کرواسکتے نا۔۔

شادی کیلئے لڑکے کا انسان ہونا بے حد لازمی ہے “”

وہ ایک دفعہ پھر مسکرایا تھا۔۔۔ دل کھول کر مسکرایا تھا۔۔۔ آج وہ بات بے بات ہنس رہا تھا۔۔۔ بلاوجہ ،، بے تحاشہ۔۔۔

مرحا نے دانت پیستے ہوئے اسے گھورا تھا۔۔۔

“” میں یہاں تمہیں گدھا نظر آ رہا ہوں۔۔

حد ہے بھئ انسان ہونا چاہئے۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا “”

وہ پھر سے اسکی نقل اتارتا زوردار قہقہہ لگا گیا۔۔۔

“” یہ تم بار بار گھما پھرا کر مجھے پروپوز کیوں کر رہے ہو؟ “”

اب کی بار وہ چڑ گئ تھی۔۔۔۔ جان نہ پہچان میں تیرا مہمان۔۔۔۔

جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے تھے ملاقات کو اور وہ اسے پروپوز کر رہا تھا۔۔۔۔

“” میں تو تمہیں سیدھا سیدھا پروپوز کر رہا ہوں۔۔۔ پر وہ کیا ہے نا تم میں عقل کے مادے کی کمی ہے۔۔۔ “”

مرحا کا صدمے کے مارے منہ ہی کھل گیا۔۔۔ ڈھٹائی کی انتہا کا بہترین نمونہ سامنے بیٹھا وہ شخص تھا،،، وہ کئ لمحے حیران سی جواب ڈھونڈتی رہی تھی۔۔۔۔

“” تم واقعی پاگل ہو۔۔۔۔

صرف اس لیے پروپوز کر رہے ہو کہ میں بقول اس راجو کے پیاری ہوں،،، پڑھی لکھی ہوں،،، اور عقلمند ہوں۔۔۔

تو بہت ہی فضول وجہ ہے۔۔۔

کیونکہ دنیا کی 85 فیصد لڑکیاں اس مقولے پر پورا اترتی ہیں۔۔۔ سب سے کر لو نا شادی “”

اسکے لہجے میں بے زاری صاف واضح تھی۔۔۔ شاید یہ بھی مقابل کا مزاق ہی محسوس ہوا تھا۔۔۔۔

“” لو کر لو بات،،، بھئ جب لڑکی سامنے ہے تو میں کیوں خوار ہوتا پھروں۔۔ “”

گویا اسکی عقل پر ماتم کیا تھا۔۔۔

“” لڑکی ہوں کوئ چیز نہیں کہ راجو کے تجزیہ پر عمل کرتے ہوئے مجھے پروپوز کر رہے ہو۔۔۔ “”

اب کی بار تلخی ابھری تھی اسکے لہجے میں۔۔۔

“” تو ملکہ عالیہ،،، غلام ایسا کیا کرے جو آپ غلام کو اپنی غلامی میں قبول کریں گی؟ “”

اسکی طرف جھکتے دلفریب لہجے میں کہا تھا،،، جب اسکا انداز مرحا کو پل بھر کیلئے ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے پر مجبور کر گیا۔۔۔

“” عزت اور محبت۔۔۔۔

یہ دو چیزیں بے انتہا ضروری ہیں۔۔۔

جب میری عزت کرنا سیکھ جاؤ،، اور مجھ سے محبت ہو جائے،، تب بات کرنا۔۔ پھر مرحا کمال سوچے گی۔۔۔ “”

مرحا نے اسکے لہجے میں چھلکتی شرارت اور چمکتی آنکھوں کو واضح نظرانداز کیا تھا۔۔۔۔ جانتی تھی اس فریب چشم کی دنیا کا باسی محبت اور عزت تو دور کسی کو ایک پائ تک نہ دے مفت میں۔۔۔۔

جانتی تھی پیسے اور شہرت سے محبت کرنے والا یہ شخص کبھی کسی انسان سے محبت کر ہی نہیں سکتا۔۔۔

شرارت میں کہے گئے جملے کے جواب میں سنجیدہ اور لاجواب جملہ عالیہان کو ساکت کر گیا۔۔۔۔

اسکو حیرت کے عالم میں چھوڑتی وہ بیگ کندھے پر ڈالتی لیپ ٹاپ اٹھا کر باہر نکل گئ ۔۔ جاتے جاتے میز پر بل رکھنا نہ بھولی تھی۔۔۔۔۔

کافی کا مگ پڑے پڑے ٹھنڈے ٹھنڈے ہو چکا تھا ، جبکہ عالیہان آفندی کا دماغ بھی جیسے اسکی بات پر کافی کی طرح ایک دم ٹھنڈا سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔

سوچںے سمجھنے کی صلاحیت چند لمحات میں غائب سی ہو گئ تھیں۔۔۔۔۔

“” محبت،،، ہاہاہاہاہاہاہاہا

مجھے تم سے محبت کرنی ہو گی۔۔

چلو کر لیتے ہیں،،، یہ کونسا مشکل کام ہے ۔۔۔۔

پر یار عزت تھوڑا مشکل کام ہے۔۔۔ لیکن خیر ہے راجو کس کھیت کی مولی ہے۔۔ “”

حیرت کی دنیا سے بمشکل لوٹتا وہ کھل کر مسکرایا تھا۔۔۔۔ اتنی آسان شرط رکھے گی ،، اسے اندازہ نہ تھا۔۔۔۔

ایک نظر نیلے نوٹ پر ڈالی جو مینیو کارڈ پر پڑا تھا۔۔۔

کچھ سوچتے ہوئے وہ نوٹ جیب میں ڈالا تھا۔۔۔

“” سنا ہے محبت میں محبوب کی چیزیں بھی سنبھال کر رکھنی چاہیے۔۔

چلو محبت کا آغاز اس ہزار روپے کے نوٹ سے کرتے ہیں۔۔ “”

مسکراتے ہوئے باہر نکلا تھا۔۔۔۔

“” راجو۔۔۔ کافی کا بل دے دینا۔۔ “”

اپنے پیچھے چلتے راجو کو کہتے آنکھوں پر چشمہ چڑھایا تھا۔۔۔ اور اگلے لمحے کئ گاڑیاں فراٹے بھرتی ریسٹورینٹ کی حدود سی نکل چکی تھیں۔۔۔۔

fareeb e chasham by umaima khan

Leave a Comment

Your email address will not be published.