Kese me jiyun ga tere bina By Gumnam Writer download complete urdu novel 2026 html

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.

Sneakpeak

“سر اگلے ہفتے میری شادی ہے۔ تو میں اب سے ٹیوشن نہیں آؤں گی۔ اور یہ رہا شادی کا کارڈ” لٹھ مارتے انداز سے تارا نے کارڈ ہمایوں کی جانب بڑھایا جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ تم ناہی آؤ تو زیادہ بہتر رہے گا۔ “شادی اگلے ہفتے ہے تو آپ اتنی جلدی کس خوشی میں تشریف نہیں لائیں گی؟” ماتھے پر بل ڈالے ہمایوں نے گھورا۔ “اففف سر آپکو تو کچھ بھی نہیں پتا شاپنگ کرنی ہوتی ہے لڑکیوں کا اتنی ڈھیر ساری” وہ چڑگئی تو ہمایوں نے اسکی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر ہنسی دبائی۔ اگر اسے پتا چل جاتا کہ اسکی شادی کس سے ہورہی ہے تو شاید صدمے سے ہی جان دے دیتی۔ “میں کروا دوں گا ساری شاپنگ شادی کے بعد” وہ سنجیدگی سے بولا “کیا مطلب؟” منت کے کچھ پلے نہیں پڑا جواباً ہمایوں نے آنکھ کے اشارے سے اسے کارڈ پر لکھا دلہے کا نام پڑھنے کو بولا جسے پڑھتے ہی حیات کے چہرے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑا۔۔۔۔۔۔
اوٹھ بھی جاؤ حیات کی بچی اب ایسا نہ ہو کے بھائی خود آ جائیں۔پتا بھی ہے ان کی عادت کا کے وہ وقت کے کتنے پابند ہیں۔ پھر ہمیشہ کی طرح تمہارے ساتھ ساتھ میری شامت بھی پکی ۔ “
روشی اس وقت سخت جھنجلای ہوئی آ واز میں حیات کو جگانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ جو گدھے گھوڑے بیچ کر یوں سوی تھی۔ کہ ٹس سے مس ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ اور متوقع صورتحال کا سوچ سوچ کر روشی کا الگ سے سانس خوشک ہو رہا تھا ۔ کیونکہ ہمایوں تو دو منٹ لیٹ ہونا برداشت نہیں کرتاتھا اور کہاں وہ پورا آ دھا گھنٹہ لیٹ ہو چکیں تھی ۔ لیکن حیات کا ابھی تک اٹھنے کا کوئی ارادہ نا تھا ۔ اور اس سے پہلے کے وہ اسے جھنجوڑ کر اٹھاتی قدموں کی چاپ پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں ہمایوں سرد تاثرات لیے کھڑا تھا ۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر کمپرومائز کر سکتا تھا لیکن پڑھائی کے معملے میں نہیں ۔ کیونکہ وہ خود بہت ذہین تھا اور حال ہی میں ایک اچھے سرکاری عہدے پر فائز ہوا تھا ۔ وجاہت، خوبصورتی اور مغروریت کے ساتھ ساتھ ذہانت اس کی اضافی خوبی تھی ۔ تبھی خاندان بھر میں اس کی مثالیں دی جاتی ۔ لیکن حیات اس کے بلکل برعکس تھی ۔ کھانا ، پینا ، سونا ، فیشن ، نیت نئے ملبوسات ، مویز ، میوزیک اور سیرو تفریح اس کے پسندیدہ مشغلے تھے ۔ پڑھنے سے تو جیسے اس کی جان جاتی تھی ۔ تبھی آ ج ٹیسٹ کا علم ہونے کے باوجود وہ مردوں سے ریس لگا کر سوی ہوئی تھی ۔
اور اس سے پہلے کے روشی کچھ کہتی ہمایوں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے ہی باہر جانے کا اشارہ کیا تھا جس پر وہ چھپ چھاپ نکلتی چلی گئی تھی ۔
روشی کے جانے کے بعد اس نے قائدانہ نگاہوں سے کمرے کا بھرپور جائزہ لیا تھا جہاں ہر جگہ بے ترتیبی کا راج تھا ۔ اور سامنے ہی وہ بیڈ پر آ ڑی ترچھی لیٹی اپنے ہوش رُبا حسن سمیت اس پر عیاں تھی ۔ کیونکہ کمبل آدھا بیڈ پر اور آ دھا نیچے بیچھے کالین کو سلامی پیش کر رہا تھا ۔
تبھی اس نے آگے بڑھتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر دھرا پانی کا جگ اس پر انڈیلا جس پر وہ منٹ کے ہزارویں حصے میں ہٹبھڑا کر اٹھ کھڑی ہوی ۔ اوراب سامنے کھڑے ہمایوں کو دیکھ کر اس کے حواس گم ہوے تھے ۔ اور لیٹ ہونے کی سزا کا سوچتے ہوئے تو اسے بقایدہ جھرجھری سی آ ی ۔
“کونسا سستا نشہ کر کے سوتی ہو کہ تمہاری آ نکھ ہی کھلنے کا نام نہیں لیتی”
سرد لہجے میں پوچھتے ہوئے وہ براہِ راست اسے دیکھ رہا تھا ۔ لیکن پھر جلد ہی اسے اپنی نظریں جھکانی پڑیں تھی کیونکہ اس کا بیگا سراپ اس کے جسم کی خدو خال کو کچھ اور بھی واضح کر رہا تھا ۔ اور وہ نظریں جھکائے لب کاٹنے میں بری طرح مصروف خود سے بلکل بے نیاز تھی اسے یہ بھی خبر نہ تھی کہ اس وقت اسکا دوپٹہ کہاں ہے ۔ اور ایسی لاپروائییاں وہ اپنی کم سن عقل کی بدولت اکثر کرتی رہتی تھی ۔ جو ہمایوں کو اکثر صبر کے گھونٹ پینے پر مجبور کر دیتی ۔اور اب بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔
” زمین سے نقشہ دریافت کرنے کا عمل پورا ہوگیا ہو تو اگلے پانچ منٹ میں تم مجھے میرے روم میں ملو” اس نے اس کی جھکی گردن پر چوٹ کی تھی۔
اور وہ جو سر اثبات میں ہلاتی سر دھڑ کی بازی لگاتی بھاگنے لگی تھی اگلے ہی پل زمین بوس ہوے کمبل میں الجھ کر سامنے کھڑے ہمایوں کے بازوؤں میں آ سمای تھی ۔ اگرچہ اس نازک صورتحال میں دونوں کا عمل داخل نہ تھا لیکن اس وقت حیات کے چہرے پر چھائے قوس قزح کے رنگ ہمایوں کے دل کے تار بری طرح چھیڑ گے۔
اور وہ بڑی مبہوت اور انہاک سے اسے تک رہا تھا جو بقایدہ اب ہلکا ہلکا لرز بھی رہی تھی ۔ اس کے بالوں سے اٹھتی بینی بینی شیمپو کی مہک اسے کیسی اور ہی جہاں میں دھکیل رہی تھی ۔
س”””””’ سو ”””’ سوری سر قسم سے غلطی سے انجانے میں ناجانے کیسے “
اور اس سے پہلے کے وہ جملا پورا کرتی اس کا تسلسل ٹوٹا تھا اور وہ اسے خود سے جود کرتا کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔ کیونکہ مزید وہاں کھڑا رہ کر وہ خود کو آ زمایش میں نہیں ڈال سکتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے چین کیفیت میں بیٹھی وہ بار بار سامنے لگے ٹایم پیس کو دیکھ رہی تھی جو کہ اب دس کا ہندسہ عبور کر چکا تھا ۔اور سامنے بظاہر لیپ ٹاپ میں مصروف بیٹھا ہمایوں اس کی بے چینی کو بخوبی بھانپ رہا تھا۔ تبھی اس پر ترس کھاتے ہوئے اس نے پوچھ ہی لیا تھا ۔
” بھوک لگی ہے ؟”
اور اس کے سوال پر حیات نے صبر کا گھونٹ پیا تھا اور نفی میں گردن ہلا دی تھی ۔ حالانکہ بھوک سے اس کا برا حال تھا ۔
” اوکے مرضی تمہاری”
“حالانکہ مرضی تو ہمیشہ آپ جناب کی ہی چلتی ہے “
ہلکی بڑبراہٹ میں کہتی وہ اپنے اندر کی کھولن نکال گئی تھی لیکن یہ کھولن ہر گز بھی ہمایوں جیسے شاطر انسان کے کانوں سے پوشیدہ نہیں رہی تھی ۔
“ابھی میں نے اپنی مرضی چلای ہی کب ہے محترمہ حیات صاحبہ لیکن اب سوچ رہا ہوں کچھ سنجیدگی سے اس بارے میں “
کچھ معنی خیزی سے کہتا وہ اسے گھڑبھڑانے پر مجبور کر گیا تھا ۔
“اچھا دیکھاؤ حل ہو گئے ہیں سوال”
“نہیں”
اس نے مری سی آ واز میں جواب دیا تھا ۔
تبھی وہ چلتا ہوا بلکل اس کے پاس آکر کھڑا ہوا ۔
” کیوں کیا مسلہ ہے ؟”
اس نے بھنویں اچکا کے پوچھا
م”””مجھ ”’ مجھے سمجھ نہیں آئی “
” ہاں کیونکہ تمہیں سمجھ تو صرف فیشن کرنے یہ ڈرامے موویز کی ہی آ تی ہے ۔اور یہ ناخن کس خوشی میں اتنے بڑے بڑے رکھے ہوئے ہیں”
تنزیہ انداز میں کہتے ہوے اس نے براہ راست اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تھا ۔ جو اب لب کاٹتی رو دینے کے در پہ تھی ۔
تبھی جب وہ دوبار نیل کٹر لے کر اس کے قریب پہنچا تھا تو وہ سچ میں رو دی تھی ۔
“اب یہ رونے کا شغل کس خوشی میں شروع ہوگیا ہے؟ “
“مجھے پسند ہیں اپنے ناخن سر پلیز میں نہیں کاٹوں گی.
اپنے نازک ہاتھوں کو اس کے فولادی ہاتھوں سے آ زاد کروانے کی سعی میں وہ رو دی تھی ۔ تبھی ہمایوں نے ایک پل کو اس کی بیگی گھنیری پلکوں کو دیکھتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔ اور اگلے ہی پل اس کے قیمتی موتیوں کو اپنی انگلی کے پوروں پر چنا تھا ۔ اور چند پل اسے اور دیکھنے کے بعد وہ اوٹھ کھڑا ہوا تھا اور جھٹ سے واشروم میں بند ہوگیا تھا ۔ اور پھر جب وہ اچھی طرح شاور لے کر باہر نکلا تھا تو وہ ونہی صوفے پر بیٹھی بیٹھی ہی سوچکی تھی ۔ تبھی وہ بے ساختگی میں اس کی طرف بڑھا تھا اور ناجانے کس جزبے کے تحت اپنے پر حدت لب اس کے نرم و ملائم رخسا پر رکھ دے تھے ۔ اور پھر چند پل اور اسے آنکھوں کے ذریعے دل میں سمونے کا عمل پورا کرتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا تھا ۔
،۔۔۔۔۔۔۔۔
“ایسا لگتا ہے میں ہوا میں ہوں آ ج اتنی خوشی ملی ہے “
اپنے سبز آ نچل کو ہوا میں لہراتی وہ چھت پر اپنی موسیقی کا شوق پورا کر رہی تھی ۔
“اور یہ خوشی یقیننا بھائی کے آ ج گھر پہ نا ہونے کی صورت میں چھٹی ہونے کی خوشی میں منائی جارہی ہے “
روشی نے پیچھے سے آکر جیسے استفسار کیا
“”یہ تو ہے ہی میرے پاس ایک اور اس سے بھی بڑی خوش خبری ہے تم بیٹھو تو تمہیں بتاتی ہوں “
خوشی سے چہکتے ہوئے اس نے روشی کو اپنے ساتھ ہی کھینچ کر گھوما ڈالا ۔
” بس کرو بہن اب پھوٹ بھی دو”
“ “بتاتی ہوں بتاتی ہوں تمہیں پتا ہے رات مما اور بابا میری شادی کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔ جس کا مطلب ہے اب جلد میری شادی ہونے والی ہے اور اس بورینگ سی پڑھائی اور روٹین سے میری جان چھوٹنے والی ہے اور سب سے بڑ کر کھڑوس سر ہمایوں سے جان بخشی ہوگی ۔ پھر میں گھوموں گی پھیروں کی موج اڑاوں گی “۔
خوش اور مسرت سے کہتی وہ ایک الگ ہی جہاں میں پہنچی ہوئی تھی ۔ اور روشی اس کی ناقص عقل اور معلومات پر مسکرا کر رہ گئی ۔
کیونکہ وہ آ دھی بات پر ہی خوشی سے جھوم رہی تھی اور اگر پوری بات پتا چل جاتی تو شاید یہ خوشی صدمے میں ہی بدل جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمایوں آ ج پورے پندرہ دن بعد گھر لوٹا تھا ۔ اور اس دوران جہاں حیات ،اور روشی فیفتھ سمیسٹر کے فائنل ایگزیم سے فری ہوچکیں تھی۔ ونہی گھر میں شادی کی تیاریاں بھی شروع ہو گئیں تھی۔ اور حیات کیسی تتلی کی مانند چہکتی پھرتی تھی۔ کیونکہ شادی کا اسے بچپن سے ہی بہت شوق تھا ۔
اچھی طرح سفر کی تھکن اتارنے کے بعد شام کو اس نے دونوں کو بلایا تھا روشی تو فوراً حاضر ہوگی تھی لیکن حیات ہمیشہ کی طرح لیٹ ہی پہنچی وہ بھی بنا بکس کے ۔
اسلام علیکم سر!””
ہلکے سے سلام کہتی وہ کمرے میں داخل ہوئی ۔ جہاں ہمایوں نے ایک ہی نگاہ میں بےتابی سے اس کا جائز لیا تھا ۔ جو اس وقت مسٹرڈ کلر کے سوٹ میں بہت دہک رہی تھی ۔
“واعلیکم السلام اندازہ ہے کتنے منٹ لیٹ ہیں “؟
“”جی سر دس منٹ
“””کس خوشی میں اور نوٹس کہاں ہیں تمہارے؟”
“میں آ ج سے پڑھنے نہیں آؤں گی سر کیونکہ بہت جلد شادی ہے میری اور آ پ کو بتایا ہی نہیں کیسی نے گھر میں۔ روشی تم نے بھی نہیں بتایا سر کو ؟۔روشی بھی بلا کیا بتاتی آ پ کونسا گھر پہ تھے اتنے دنوں سے ۔
اور سامنے بیٹھی روشی اس کی عقل اور بجلی کی سی تیزی سے چلتی زباں پر عش عش کر اٹھی تھی ۔ اور ہمایوں اس کے تیزی سے بدلتے رنگ و روپ اور تیوروں کا جائزہ لے رہا تھا ۔
“”تو شادی کا پڑھائی سے کیا تعلق
“آ پ بھی کمال کرتے ہیں سر اتنی ساری شوپنگ رہتی ہے میری ابھی تو دو تین ساڑیاں اور ناران، کاغان ہنی مون پر جانے کے لیے مخص چند موٹے جوڑے ہی لیے ہیں میں نے باقی فنگشن پے پہننے والے اور دوسرے دعواتوں وغیرہ پر پہننے والے سارے جوڑے تو رہتے ہیں ابھی ۔ اور بھی لڑکیوں کی بہت سی ضروری چیزیں ہوتی ہیں ۔ اینڈ والے دن تک بھی کچھ نہ کچھ رہ ہی جاتا ہے ۔ “
روانی اور بے سمجھی میں بولتے ہوئے اسے یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کیا اول فول بولے جارہی ہے اور کس کے سامنے بول رہی ہے ۔ ہنی مون کی بات پر جہاں روشی شرم سے مسکراتی نا صرف سر جھکا گئی تھی بلکہ پانی کے بہانے اٹھ کر ہی چلی گئی تھی۔وہاں ہمایوں بھی پہلو بدل کر رہ گیا ۔
“تمہیں اتنا ہلقان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جتنی تم نے فضول شوپنگ کرنی تھی کر لی ۔اپنی پڑھائی پر توجہ دو باقی جو شوپنگ رہ گئی ہے میں خود کر لوں گا “
“میری شادی کی شوپنگ آ پ کیوں کریں گے شادی میری ہے تو شوپنگ بھی میں خود ہی کروں گی نا “
اور اس کی بات پر ہمایوں نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا شادی کا کارڈ اس کی طرف بڑھیا تھا ۔ جیسے پڑ کر حیات بےیقینی اور صدمے کی ملی جلی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی ۔ اور پھر اگلے ہی پل آ ندھی طوفان کی صورت بنے کمرے سے ہی نکلتی چلی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.