Momin ki Guriya by Wahiba Fatima Complete Urdu Afsana 2023 html

Novel’s lounge is a platform for social media writers. We have started a journey for social media writers to publish their content.

گڑیا نے صوفے پر پڑی مومن کی مردانہ شال اٹھا کر خود کو ڈھانپا تھا۔ اور اس کے قریب آ کر اس بے بس لاچار کے ماتھے سے ماتھا ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔ کہ اس کے آنسو مومن کی آنکھوں میں گر کر تکیے میں جزب ہوئے تھے۔۔
وہ بھی بے تحاشا رو دیا تھا۔
گڑیا آخری وقت تو گناہ گار نہیں کرو ناں،، وہ ٹوٹتے لہجے میں بولا۔ تو گڑیا سیدھی ہو گئی ۔آنکھوں سے سیل رواں گرم سیال مادہ اب بھی جاری تھا۔
آپ مجھے بتا کیوں نہیں دیتے کہ آپ کو کیا بیماری ہے،، گڑیا کہ لہجے میں حسرتوں کا ڈیرہ تھا۔
بون میرو کینسر ہے گڑیا مجھے،،بہت کم وقت ہے میرے پاس،، دنیا سے دل میں حسرتیں لیے جاؤں گا مگر روز محشر الله تعالیٰ سے ایک چیز ضرور طلب کروں گا۔وہ دھیمے سے لہجے میں اب بھیگی پلکیں لیے آسودہ سی مسکان لبوں پر سجائے جیسے اس وقت کا تصور کر رہا تھا۔
گڑیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی ۔ گڑیا کو لگا اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔
گڑیا بس اسے دیکھے روتی گئی۔۔ پھر بے بسی سے لب کاٹتی باہر جانے لگی تو ایک کمزور سی آواز نے روز محشر کے دن کے لئے اس کے پاؤں میں ایک عہد ایک وعدے کی بیڑی ڈالی تھی۔۔
سنو گڑیا،، مومن کی گڑیا ،،،،آخری جہان ملیں گے۔
مومن نے کہا اور سکون سے آنکھیں موند لیں۔

momin ki guriya (afsana) by wahiba fatima

Leave a Comment

Your email address will not be published.