Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|part 1|Best urdu novel 2022|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.

“میں محبت کرتی ہوں آپ سے۔کیا اس کے معنوں سے واقف ہیں آپ۔”
اس کی بات پہ اس نے سرد نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا جو آسمان سے زور و شور سے گرتی بارش کی بدولت بھیگی بھیگی سی کانپتے ہوئے پورے ہوش و حواس میں چلارہی تھی۔چہرے پہ بارش کا پانی گرنے کی بدولت اس کے نین کٹوروں سے نکلتے آنسو بھی بارش کے ساتھ ہی پھسلتے چلے جارہے تھے۔
“کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے۔”
معاً وہ مضبوط قدم اٹھاتا اس تک آیا جس کی بدولت زمین پہ موجود بارش کے پانی کی بدولت چند چھینٹیں اسکے کپڑوں پہ بھی پڑی تھی۔اس لڑکی نے بھیگی متورم آنکھوں سے اس کا چہرہ جانچا جہاں فقط سردمہری کا تاثر ابھرا ہوا تھا۔اس نے بےدردی سے اپنے سردی سے جمتے گالوں کو رگڑتے کپکپاتے لبوں سمیت ایک ہچکی بھری۔
“شاید خود سے بھی ذیادہ۔”


وہ دھیمے پرسوز لہجے میں بولتی مقابل کو ساکت و جامد کرگئی۔بارش کے برسنے کی آواز تو کہی دور جا کھوئی تھی اسکی سماعتوں میں تو صرف اس لڑکی کے الفاظ گونج رہے تھے جو کس قدر دھڑلے سے اس سے محبت کا اظہار کررہی تھی یہاں تک کہ وہ اس سے قائم اس کا رشتہ بھی فراموش کرچکی تھی کہ وہ اس کے استاد کے رتبے پہ فائز ہے۔اس نے دو قدم مزید آگے بڑھاتے اس کے بازو کو سختی سے اپنی آہنی گرفت میں لیتے ایک جھٹکا دیا کہ اس کے لبوں سے ایک سسکی برآمد ہوئی۔
“شاید لفظ سے نفرت ہے مجھے۔یقین دلاؤ اپنی محبت کا مجھے کہ کس قدر محبت کرتی ہو مجھ سے۔”
وہ بےتاثر لہجے میں بولتے اس کے وجود میں نئے سرے سے خوف بھرگیا۔اس نے ذرد پڑتے چہرے سمیت اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں سے شرارے پھوٹ رہے تھے۔اسے اپنا آپ بھسم ہوتا محسوس ہوا۔کیا محبت میں اتنی بھی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ مقابل کو شکست دے کر اپنی جانب مائل کرسکے۔کبھی کبھی محبت حقیقتاً کمزور ہوتی ہے۔اس کی ذات کیا مقابل کیلیے اس قدر بےوقعت تھی۔وہ جی کراہ کر رہ گئی۔شدت سے جی چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رودے اس وقت وہ خود کو بےبسی کی انتہاؤں پہ محسوس کررہی تھی۔
“مم۔میں آپ کیلیے کچھ بھی کرسکتی ہوں۔کچھ بھی۔میں نے آپ سے محبت کرکے خساروں کو اپنی ذات سے منسلک کرلیا ہے۔اب میں چاہ کر بھی خود کو اس خسارے سے نہیں نکال سکتی۔اس سے ذیادہ محبت کا یقین کیسے دلایا جاتا ہے۔”
وہ بےبسی و بےکسی سے بولتی اس کے ہاتھ کو تھامتے اس کی ہتھیلی پہ گرتی بارش کی بوندوں کو دیکھنے لگی اور وہ اس کے سردی سے نیلے پڑتے لبوں کو دیکھتے سختی سے لب بھینچ گیا۔یہ لڑکی کو اس کے پیچھے سب کچھ لٹوانے کو تیار تھی مگر کیوں وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا۔کیا اسے اپنی عزت و حرمت کی پرواہ نہیں تھی جو تن تنہا اس سرد رات میں بارش سے بھیگے کپڑوں سمیت اس سے اپنی محبت کی بھیک مانگ رہی تھی۔

“اوئے یم یم۔”
اس کی سرگوشی پہ مریم نے چونک کر اس کی جانب دیکھا جو اسے اپنی جانب جھکنے کا اشارہ کررہا تھا۔وہ اس کے اشارے پہ عمل پیرا ہوتے اس کے نزدیک جھکی تھی۔
“طس اب مریم تو گئی۔جانتی بھی ہے کہ وہ کس قدر ٹیڑھا انسان ہے مگر پھر بھی ہر بار اسی پہ یقین کرتی ہے۔ہائے او ربا دوستی کے یہ رنگ۔”
عناب ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی اور ناچاہتے ہوئے بھی ایک نگاہ ارتضی کی تلاش میں گھمائی تھی جو ناجانے کیوں آج کل آنے میں تاخیر کررہا تھا۔
“تمہیں معلوم ہے کیا کہ تم ڈیزائن میں اڑ چکی ہو۔”
اس کی بات پہ مریم کا دماغ سنسنا اٹھا۔اسے اپنے اطراف میں دھماکے ہوتے محسوس ہوئے۔
“تت۔تمہیں کس نے بتایا۔”
وہ ہکلاتے لہجے میں بولی۔فارس نے مصنوعی افسردگی سے اس کی جانب دیکھا۔
“بس جب سر نے مارکس لسٹ آؤٹ کرنے کیلیے مجھے بلایا تھا نا تبھی دیکھے تھے۔سچ میں بہت افسوس ہوا مجھے۔”
وہ اس سے ہمدردی کرنے والے انداز میں بولا۔مریم کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی۔
“مطلب صرف میں اکیلی فیل ہوں تم میں سے کوئی بھی میرے ساتھ نہیں ہے۔”
وہ تھکے تھکے اعصابوں سمیت بولی تو فارس کا منہ اس کے نادر خیالات جان کھلا کا کھلا رہ گیا۔وہ تڑپ کر اس سے فاصلہ قائم کرگیا۔
“کس قدر احسان فراموش ہو تم ایک تو میں نے تمہیں بتایا کہ تم فیل ہو اور تم جواب میں ہمیں بھی فیل کروانے پہ تلی ہوئی ہو۔کیسی دوست ہو تم۔”
وہ خشمگین نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے دانت پیس کر بولا۔مریم نے ترچھی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
“بس خود کو تسلی بھی تو دینی ہے نا ویسے کیا ہی عیش ہو تم میری ٹیم میں شامل ہو جاؤ۔باقی سب پاس ہم دونوں صرف فیل یونیک نا۔تمہیں ویسے بھی مریم فارس کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے نا تو اس کام میں کیوں نہیں۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے والہانہ انداز میں بولی۔فارس نے بدک کر ایک جھٹکے میں اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ آذاد کروایا تھا۔اسے اپنے اطراف میں خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
“اسی لیے کہتا ہوں پھٹے ہوئے کپڑے نا پہنا کرو اب جو عقل تم میں بچی تھی وہ بھی ان کپڑوں کو روشن دان سمجھتے اس میں سے نکلتی جارہی ہے۔اگر ختم ہوگئی تو میں کیا کروں گا۔”
ہمیشہ کی طرح اس کی بات کا رخ اپنے کپڑوں کی جانب مڑتا دیکھ مریم کا وجود گویا کسی نے شعلوں کی ضد میں دھکیل دیا تھا۔وہ چیل کی طرح اس پہ جھپٹی اور اس کے بازو پہ ذوردار قسم کی چٹکی بھری تھی۔

muhabbat_rang_de_jati_he_by_Aan_fatima_part_1_best_urdu_novel_2022

ناول پڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنا نا بھولیے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.