Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|Last Episode part 1|online reading|

Novelslounge is a platform for social media writers.we have started a journey for Social media writers to publish thier content.
Muhabbat rang de jati he,written by Aan Fatima,social romantic novel,full of suspense and thrill and fun.

مجھے گھر چھوڑ دو پلیز۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرتے منت کرنے والے انداز میں بولی۔فارس کے اپنی گاڑی کی جانب بڑھتے قدم اس کے لہجے پہ تھمے تھے۔وہ تن فن کرتا اس کے سر پہ پہنچا۔
کیوں وہ تمہارے ساتھ جو ایک دلیر سا نوجوان آیا تھا وہ کہی مرکھپ گیا ہے کیا جو تمہیں میری ضرورت پڑگئی۔
اس کے طنز پہ مریم کے چہرے پہ خفت کے احساس سے سرخی پھیل گئی۔ارقم نے تو اسے ٹھیک ٹھاک ذلیل کروا کر رکھ دیا تھا۔فارس دوبارہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
وہ کتا لچا کمینہ لوفر ذلیل انسان سچ میں ہی مرکھپ جائے اور اگر وہ نہیں بھی مرا تو میں نے اس کا نماز جنازہ دل میں ہی ادا کرلیا ہے۔ ابھی بس تم مجھے گھر چھوڑ دو۔ وہ تیز قدموں سے چلتی اس تک آئی اور منمناتے ہوئے بولی۔فارس نے ستائشی انداز میں اس کی جانب دیکھا۔اگلے ہی لمحے اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھتے دروازہ بند کیا تھا۔مریم کا منہ اس کی حرکت پہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ابھی وہ مجبور تھی تبھی اسے کچھ نہیں کہ سکتی تھی ورنہ اندر ہی اندر وہ اس کی حرکتوں اور باتوں پہ کھول کر رہ گئی تھی۔اس نے گاڑی ایک جست میں آگے کی جانب بڑھائی تھی۔مریم نے بےبسی سے گہرا سانس بھرتے رخ موڑتے وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا تو چاروں اطراف میں بس تاریکی ہی دکھائی دی تھی۔اس کے دل میں خوف سرائیت کرتا چلا گیا معاً اپنے نزدیک ٹائز چڑچڑانے کی آواز پہ اس نے اس نے جھٹکے سے رخ موڑتے بائیں جانب دیکھا جہاں فارس کی گاڑی موجود تھی البتہ اس کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا۔مریم مسکراتے ہوئے موقع ضائع کیے بغیر تیزی سے گاڑی میں بیٹھی تھی۔ میں جانتی تھی تم مجھے چھوڑ کر جا ہی نہیں سکتے۔ اس کی بات پہ فارس کی گرفت سٹرئینگ پہ سخت ہوئی تھی۔ کرلی بکواس پال لی خوشفہمیاں۔ایک مشورہ دیتا ہوں کتا پال لو بلی پال لو مگر خوش فہمی کبھی مت پالو اور ذیادہ شوخی ہونے کی ضرورت نہیں ہے ایک سیکنڈ نہیں لگنا مجھے تمہیں گاڑی سے باہر پھینکنے میں۔
اس نے تلخی سے کہتے گاڑی کا گئیر بدلا تھا۔مریم اس کی بکواس پہ ناک منہ چڑھا کر رہ گئی۔کچھ دیر بعد ہی اس کے گھر کے باہر گاڑی روکتے ہی اسے اتارتے اس نے بغیر کوئی وقت ضائع کیے گاڑی واپسی کے راستوں پہ دوڑائی تھی۔مریم نے بنا کسی تاخیر کے واٹس ایپ کھولا تھا۔
جو گالیاں میں نے تمہارے سامنے ارقم کو دی تھی اسے خود تک خود ہی ٹرانسفر کرلینا ذلیل انسان کیونکہ تم بھی اسی لائق ہو۔
منجانب مریم
وہ اپنے دل کی بھڑاس اچھی طرح نکالتے ہلکی پھلکی ہوتے گھر کے اندر بڑھ گئی۔

Muhabbat_rang_de_jati_he_by_Aan_Fatima_last_episode_part_1_online_reading_best_urdu_novels_2022

قسط پڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنا نا بھولیے گا پیارے لوگوں

5 thoughts on “Muhabbat rang de jati he by Aan Fatima|Last Episode part 1|online reading|”

  1. Superbbbbb mindblowing fantastic awesome zabardast outstanding mindblowing ❤❤❤👍👍 sis par ap ko shiyasta ki sachai bhi samny ley ani chye thi na or pari key sath kuch bora na kar dey sachi mujhe bhot dar lag raha hai us sey….😢😢😢

Leave a Reply to Aabira Tahir Cancel Reply

Your email address will not be published.